
ایک زمانہ تھا جب معاشرے میں عزت، علم، کردار اور خدمت انسان کی پہچان ہوا کرتے تھے۔ بچے اپنے ہیرو کتابوں سے ڈھونڈتے تھے، استاد ان کے لیے مشعلِ راہ ہوتے تھے، سائنس دان، ادیب، شاعر، صحافی اور محقق ان کی سوچ کا حصہ بنتے تھے۔ آج منظر بدل چکا ہے۔ اب شہرت کا پیمانہ علم نہیں، ویوز ہیں۔ کردار نہیں، وائرل ہونا ہے۔ محنت نہیں، چند منٹ کی سنسنی خیزی ہے۔

سوشل میڈیا نے جہاں اظہارِ رائے کے بے شمار مواقع پیدا کیے، وہیں اس نے شہرت کی ایسی اندھی دوڑ بھی شروع کر دی جس میں اخلاق، تہذیب، حیا اور معاشرتی ذمہ داری بہت پیچھے رہ گئی۔ ہر دوسرے دن کوئی یوٹیوبر یا سوشل میڈیا انفلوئنسر اپنے بولڈ فوٹو شوٹس، ذاتی تعلقات، طلاق، لڑائی جھگڑوں، الزامات یا ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کی وجہ سے خبروں میں ہوتا ہے۔ چند دن بعد وہی لوگ ایک ساتھ بیٹھ کر مسکراتے ہوئے نظر آتے ہیں، کیونکہ مقصد مسئلے کا حل نہیں بلکہ ویوز اور فالوورز میں اضافہ ہوتا ہے۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ اب ذاتی زندگی بھی ایک کاروبار بن چکی ہے۔ گھر کے جھگڑے ہوں، میاں بیوی کے اختلافات ہوں، خاندان کے راز ہوں یا رشتوں کی تلخیاں، ہر چیز کیمرے کے سامنے پیش کر دی جاتی ہے۔ جو معاملات چار دیواری کے اندر رہنے چاہییں، وہ لاکھوں لوگوں کی تفریح بن جاتے ہیں۔

اس سے بھی زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ لوگ تبصروں میں انہیں برا بھلا کہتے ہیں، گالیاں دیتے ہیں، کردار کشی کرتے ہیں، لیکن پھر بھی انہی کی ویڈیوز لاکھوں بار دیکھی جاتی ہیں۔ گویا نفرت بھی ان کے لیے منافع کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ انہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ لوگ تعریف کر رہے ہیں یا تنقید، کیونکہ ہر کلک، ہر تبصرہ اور ہر شیئر ان کی آمدنی میں اضافہ کرتا ہے۔

جب ان سے سوال کیا جائے تو ایک ہی جواب سننے کو ملتا ہے کہ "اگر کسی کو پسند نہیں تو نہ دیکھے، ہمیں فالو نہ کرے، ہم اپنا کام کرتے رہیں گے۔” یہ جملہ سننے میں جتنا سادہ لگتا ہے، اس کے اثرات اتنے ہی خطرناک ہیں۔ کیونکہ یہ لوگ صرف اپنے فالوورز تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کا مواد الگورتھم کے ذریعے ہر عمر کے افراد، خصوصاً بچوں اور نوجوانوں تک پہنچ جاتا ہے۔
آج شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو جہاں بچوں کے ہاتھ میں موبائل نہ ہو۔ چند برس کے بچے سے لے کر نوجوان تک، ہر شخص سوشل میڈیا استعمال کر رہا ہے۔ ایسے میں اگر ان کے سامنے ہر وقت شور، سنسنی، فضول مذاق، غیر اخلاقی حرکات اور سستی شہرت کی کہانیاں آئیں گی تو ان کی سوچ کس طرف جائے گی؟ وہ کس کو اپنا آئیڈیل بنائیں گے؟
آج کا نوجوان یہ دیکھ رہا ہے کہ برسوں تعلیم حاصل کرنے والا شخص شاید ایک معمولی تنخواہ پر ملازمت کرے، جبکہ چند غیر سنجیدہ ویڈیوز بنا کر کوئی شخص لاکھوں روپے کما رہا ہے۔ جب کامیابی کا معیار محنت کے بجائے وائرل ہونا بن جائے تو پھر تعلیم، تحقیق اور ہنر کی اہمیت خود بخود کم ہونے لگتی ہے۔
یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ہمارے معاشرے میں اب ہر ہاتھ میں کیمرہ اور ہر زبان پر مائیک آ گیا ہے، مگر ہر شخص کے پاس نہ علم ہے، نہ تربیت اور نہ ہی یہ احساس کہ اس کے الفاظ اور ویڈیوز معاشرے پر کیا اثر ڈال رہے ہیں۔ شہرت حاصل کرنے کی خواہش اس قدر بڑھ چکی ہے کہ بعض لوگ اپنی عزت، اپنی نجی زندگی، اپنے خاندان اور یہاں تک کہ اپنے بچوں کو بھی کانٹینٹ بنا دیتے ہیں۔

دوسری طرف اگر دنیا کے کئی دوسرے ممالک پر نظر ڈالی جائے تو وہاں بھی یوٹیوبرز اور انفلوئنسرز موجود ہیں، مگر ان میں سے بے شمار ایسے ہیں جو سائنس، ٹیکنالوجی، تاریخ، زبان، ادب، کاروبار، صحت، ماحولیات اور تعلیم جیسے موضوعات پر معیاری مواد تیار کر رہے ہیں۔ ان کی ویڈیوز لوگوں کو کچھ سکھاتی ہیں، سوچنے پر مجبور کرتی ہیں اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کی کوشش کرتی ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں تعمیری مواد بنانے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔ تاہم چند ایسے چینلز ضرور موجود ہیں جو شور، تنازعات اور سستی شہرت کے بجائے نوجوانوں کو مثبت سوچ، اچھے اخلاق، تعلیم اور انسانیت کا درس دیتے ہیں۔ عتیب شاہ، شہروز خان اور بی ڈبلیو پی پروڈکشن ان نمایاں ناموں میں شامل ہیں، جن کا مواد نئی نسل کو نیکی، کردار سازی، معاشرتی شعور اور مثبت طرزِ فکر کی طرف راغب کرتا ہے۔ ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے تاکہ نوجوان یہ جان سکیں کہ عزت اور مقبولیت صرف تنازعات سے نہیں بلکہ اچھے کردار اور مفید کام سے بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔
یہ ذمہ داری صرف کانٹینٹ بنانے والوں کی نہیں بلکہ دیکھنے والوں کی بھی ہے۔ جب تک ہم خود فضول، غیر اخلاقی اور بے ہودہ مواد کو لاکھوں ویوز دیتے رہیں گے، تب تک ایسا مواد بنتا رہے گا۔ جس چیز کی مانگ ہوگی، وہی بازار میں فروخت ہوگی۔ اگر ہم تعمیری، تعلیمی اور باوقار مواد کو پسند کرنا شروع کر دیں تو یقیناً کانٹینٹ بنانے والوں کی ترجیحات بھی بدل سکتی ہیں۔
ہمیں اپنی نئی نسل کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ اصل کامیابی چند دن کی وائرل شہرت نہیں بلکہ علم، کردار، دیانت اور معاشرے کے لیے فائدہ مند بننا ہے۔ موبائل فون اور سوشل میڈیا بذاتِ خود برے نہیں، مگر ان کا استعمال انسان کو بلند بھی کر سکتا ہے اور پستی میں بھی دھکیل سکتا ہے۔ فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم آنے والی نسل کو کس راستے پر لے جانا چاہتے ہیں۔
اگر آج بھی ہم نے اپنی ترجیحات درست نہ کیں تو آنے والے برسوں میں ہمارے پاس ویوز تو بہت ہوں گے، مگر کردار، تہذیب، علم اور معاشرتی اقدار شاید بہت کم رہ جائیں گی۔ اس وقت ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ہم اپنے بچوں کو صرف اسمارٹ فون دینا چاہتے ہیں یا ایک ایسی سوچ بھی دینا چاہتے ہیں جو انہیں ایک باکردار، باشعور اور ذمہ دار انسان بنا سکے۔



