انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

جب قلعے چراغ بنتے ہیں

تحریر: محمد محسن اقبال

پاکستان ایک ایسے زندہ نظریے کا مظہر ہے جس کی بنیاد محض سیاست پر نہیں بلکہ ایمان، روحانیت اور ایک عظیم فکری یقین پر استوار ہے۔ اس کے قیام کی جدوجہد میں وہ نعرہ جس نے برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں کو ایک لڑی میں پرو دیا، نہایت سادہ مگر غیرمعمولی معنویت کا حامل تھا: "پاکستان کا مطلب کیا؟ لا اِلٰہ اِلَّا اللہ۔” اسی عقیدۂ توحید کے پرچم تلے 14 اگست 1947ء کو دنیا کے نقشے پر ایک ایسی اسلامی مملکت وجود میں آئی جس کی بنیاد قائداعظم محمد علی جناحؒ کی بصیرت افروز قیادت اور علامہ محمد اقبالؒ کے حکیمانہ افکار پر رکھی گئی۔

یہ محض ایک سیاسی کامیابی نہ تھی بلکہ اسلامی عدل، خودمختاری اور اتحاد پر مبنی ایک منفرد قومی تشخص کی تعبیر تھی۔
تاہم آزادی کی صبح طلوع ہوتے ہی اس نومولود مملکت کو آزمائشوں کے طوفانوں کا سامنا کرنا پڑا۔ معاشی بدحالی، لاکھوں مہاجرین کی آبادکاری، انتظامی مسائل اور بیرونی دنیا کی شکوک بھری نگاہیں ہر سمت موجود تھیں۔ بہت سے مبصرین یہ پیش گوئی کر رہے تھے کہ یہ ریاست زیادہ دیر قائم نہ رہ سکے گی اور جلد ہی تاریخ کے صفحات میں گم ہو جائے گی۔ مگر اللہ تعالیٰ کی مشیت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ تلاطم خیز سمندر میں سینہ سپر ایک مضبوط کشتی کی مانند پاکستان ہر طوفان سے نبردآزما ہوا اور صبر، استقامت اور ایمان کی قوت سے استحکام کے ساحل تک پہنچ گیا۔

جب وطن نے اپنے قدم مضبوطی سے جما لیے تو فروری 1974ء میں لاہور ایک ایسے تاریخی اجتماع کا میزبان بنا جس نے امتِ مسلمہ کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا۔ دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس میں اڑتیس مسلم ممالک کے قائدین شریک ہوئے جن میں سعودی عرب کے شاہ فیصل، مصر کے صدر انور السادات اور لیبیا کے رہنما معمر قذافی نمایاں تھے۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی میزبانی میں منعقد ہونے والی اس کانفرنس نےبکھری امنگوں کو اجتماعی قوت میں ڈھال دیا۔ امتِ مسلمہ کی منتشر انگلیاں ایک مضبوط مٹھی کی صورت اختیار کر گئیں۔ اس اجلاس میں 1973ء کی عرب ا سرائیل جنگ کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال، فلسطینی عوام اور عرب دنیا کی حمایت جیسے اہم موضوعات پر اتفاقِ رائے پیدا ہوا، جبکہ پاکستان اسلامی دنیا کے درمیان ایک مضبوط پل کی حیثیت سے مزید نمایاں ہو کر ابھرا۔ اسی اتحاد نے ایک مشترکہ مقصد کو جنم دیا جس نے پاکستان کے قومی سفر کو نئی توانائی عطا کی۔

اپنی پوری تاریخ میں پاکستان نے عالمی امن اور اسلامی دنیا کے استحکام کے لیے ہر اہم موقع پر اپنا کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے بجا طور پر "قلعۂ اسلام” کا اعزاز حاصل ہوا، خصوصاً حرمین شریفین کے تحفظ کے حوالے سے اس کی خدمات ہمیشہ قابلِ فخر رہی ہیں۔ 1970ء کی دہائی سے پاکستانی افواج سعودی عرب میں تربیتی، مشاورتی اور حفاظتی ذمہ داریاں ادا کرتی رہی ہیں، اور مختلف ادوار میں ان کی تعداد دس ہزار سے بھی تجاوز کر گئی، بالخصوص 1990-91ء کی خلیجی جنگ کے دوران۔ یہ ذمہ داری محض دفاعی حکمتِ عملی کا حصہ نہیں بلکہ پاکستانی قوم کے نزدیک ایک مقدس دینی فریضہ ہے۔

پاکستان کے مخالفین، بالخصوص ہمسایہ بھارت، ہر دور میں اسے ایک ناکام ریاست کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے رہے، مگر جب بھی آزمائش کی گھڑی آئی، اللہ تعالیٰ کی نصرت اس کے شاملِ حال رہی۔ مئی 2025ء میں پاکستان نے اپنی عسکری صلاحیت کا ایسا مظاہرہ کیا جس نے عالمی مبصرین کو حیرت میں ڈال دیا اور مضبوط قیادت کی بدولت اپنا وقار دوبارہ بحال کیا، جس نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ امانت کا حق ادا کیا۔

اسی تسلسل میں 17 ستمبر 2025ء کو ریاض میں وزیراعظم شہباز شریف اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان طے پانے والا اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کی دیرینہ برادرانہ رفاقت کو ایک نئے اور باضابطہ مرحلے میں لے آیا۔ اس معاہدے کے مطابق کسی ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور ہوگا، جبکہ دفاع، عسکری تربیت، جدید ٹیکنالوجی اور مشترکہ دفاعی حکمتِ عملی میں جامع تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ اطلاعات کے مطابق اس تعاون کے تحت ہزاروں پاکستانی فوجی اہلکاروں اور مختلف دفاعی وسائل، بشمول جے ایف-17 طیاروں، کی تعیناتی کی گنجائش بھی موجود ہے، جو اسلامی دنیا کے ایک قابلِ اعتماد محافظ کے طور پر پاکستان کے کردار کو مزید مستحکم کرتی ہے۔

اسی کامیابی کی بنیاد پر پاکستان نے خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی کے خاتمے میں بھی ایک متوازن اور مثبت ثالث کا کردار ادا کیا، جسے عالمی سطح پر سراہا گیا۔ ترکی کے ساتھ دفاعی اور تجارتی تعاون میں نمایاں وسعت آئی، جبکہ کویت اور خطے کے دیگر ممالک نے بھی اسی نوعیت کی شراکت داری میں دلچسپی ظاہر کی۔ تقریباً چھ لاکھ پچاس ہزار سے چھ لاکھ پچاسی ہزار فعال فوجی اہلکاروں پر مشتمل پاکستان کی مسلح افواج، جو دنیا کی بڑی مستقل افواج میں شمار ہوتی ہیں، جدید جے ایف-17 طیاروں، جدید میزائل نظام اور مؤثر جوہری صلاحیت کے ساتھ ان ذمہ داریوں کو قابلِ اعتماد قوت فراہم کرتی ہیں۔

مستقبل کی طرف نگاہ ڈالیں تو پاکستان کا وژن امید، اتحاد اور خیرخواہی سے عبارت دکھائی دیتا ہے۔ وہ دن شاید زیادہ دور نہیں جب باہمی احترام، مشترکہ اسلامی اقدار اور اخوت کی بنیاد پر اسلامی ممالک کا ایسا اتحاد وجود میں آئے جو یورپی یونین یا نیٹو جیسے اداروں کی بعض کامیاب مثالوں سے رہنمائی تو لے، مگر اپنی روح اور بنیاد میں خالصتاً اسلامی اصولوں پر قائم ہو۔ بلاشبہ اس راہ میں تاریخی اختلافات، بیرونی مداخلتیں اور معاشی تفاوت جیسے بڑے چیلنج موجود ہیں، لیکن جس جذبۂ ایمان اور استقامت نے پاکستان کو تقسیمِ ہند کی ہولناکیوں، 1971ء کے سانحے اور حالیہ کامیابیوں سے سرخرو کیا، وہ اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

اپنے منفرد جغرافیائی محلِ وقوع، مضبوط دفاعی صلاحیت اور جنوبی ایشیا سے خلیج اور اس سے آگے تک سفارتی روابط کی بدولت پاکستان اس خواب کی تکمیل میں مرکزی کردار ادا کر سکتا ہے۔ وہ اسلامی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر معاشی تعاون کو فروغ دینے، فلسطین اور کشمیر جیسے مسائل پر انصاف پر مبنی امن کی وکالت کرنے اور امتِ مسلمہ کے درمیان روابط اور تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔

پاکستان کا سفر، اپنے نظریاتی وجود سے لے کر موجودہ قومی احیاء تک، اس حقیقت کا روشن ثبوت ہے کہ ایمان، عزم اور اللہ تعالیٰ پر توکل کے ساتھ ناممکن بھی ممکن بن جاتا ہے۔ آج جب یہ ملک آگے بڑھ رہا ہے تو وہ صرف اپنے پچیس کروڑ عوام کی امیدوں کا امین نہیں بلکہ ان لاکھوں مسلمانوں کی آرزوؤں کا بھی مرکز ہے جو اس کی استقامت میں پوری امت کے لیے امید کی ایک روشن کرن دیکھتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ، قومی اتحاد اور ثابت قدمی اسی طرح برقرار رہی تو پاکستان اسلامی دنیا میں امن، استحکام، خوش حالی اور اخوت کے فروغ میں ایک عظیم تر کردار ادا کرنے کے لیے پوری طرح آمادہ ہے۔ مستقبل اگرچہ آزمائشوں اور مواقع دونوں کا امتزاج ہے، مگر اپنے نظریاتی اصولوں کی روشنی میں پاکستان ان دونوں کا سامنا عزت، وقار اور سربلندی کے ساتھ کرے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button