لاہور (زبیر اسلم خان)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ مرحوم امیرالعظیم کی زندگی جماعت اسلامی کے ہر کارکن کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی انقلاب ہجوم سے نہیں بلکہ ایک منظم، باکردار اور نظریاتی طاقت ہی برپا کرسکتی ہے، جبکہ اقامتِ دین کی جدوجہد ہر اہلِ ایمان پر فرض ہے۔
انہوں نے یہ بات جامع مسجد منصورہ لاہور میں جماعت اسلامی پاکستان کے سابق سیکرٹری جنرل مرحوم امیرالعظیم کے ایصالِ ثواب کے لیے منعقدہ دعائیہ تقریب اور درسِ قرآن کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ زمین اور آسمان کے الگ الگ خدا نہیں ہوسکتے، جماعت اسلامی ہر اس نظام کے خلاف برسرپیکار ہے جو ظلم، ناانصافی اور فساد پر مبنی ہو۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جدوجہد آخری سانس تک جاری رہے گی اور ملک میں حق، عدل اور دیانت پر مبنی نظام کے قیام کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔
انہوں نے مرحوم امیرالعظیم کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ امید، یقین، اخلاص اور استقامت کا پیکر تھے۔ جماعت اسلامی کے نظم میں اطاعت، عاجزی اور خدمت کی ایسی مثال قائم کی جو ہمیشہ کارکنوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔ انہوں نے نمایاں ذمہ داریوں پر فائز رہنے کے باوجود کبھی ذاتی تشہیر کو ترجیح نہیں دی بلکہ ہمیشہ کارکنوں کی تربیت، رہنمائی اور سرپرستی کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ امیرالعظیم نے طلبہ تحریک سے لے کر جماعت اسلامی کی اعلیٰ ذمہ داریوں تک ہر منصب دیانت داری اور خلوص کے ساتھ نبھایا۔ انہوں نے آمریت اور مارشل لا کے خلاف جدوجہد میں بھی بھرپور کردار ادا کیا اور شدید علالت کے باوجود صبر، استقامت اور امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔
انہوں نے کہا کہ امیرالعظیم اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ جماعت اسلامی اقامتِ دین کی جدوجہد کے ایک اہم مرحلے میں داخل ہوچکی ہے، جہاں عوامی رابطہ مہم کو مزید مؤثر اور منظم بنانے کی ضرورت ہے۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ان کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے ملک میں شر، ظلم اور فساد کی قوتوں کے خلاف متحد ہوکر حق و انصاف کے نظام کے قیام کی جدوجہد کو مزید تیز کریں۔
دعائیہ تقریب میں نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر اسامہ رضی، قائم مقام سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ، پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل بیرسٹر سلمان اکرم راجہ، ڈپٹی سیکرٹری جماعت اسلامی وقاص جعفری، ڈاکٹر فرید پراچہ، حافظ ادریس، ضیاء الدین انصاری، آصف لقمان قاضی، شکیل احمد ترابی، ڈاکٹر حفیظ الرحمان، شمس الرحمان سواتی، علامہ زبیر احمد ظہیر، ملک کرامت کھوکھر، سینئر صحافی سلمان عابد، مرحوم امیرالعظیم کے اہلِ خانہ سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔



