انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

سپریم کورٹ کے فیصلے پر غصہ،امریکی صدر ٹرمپ نے عالمی ٹیرف 10سے بڑھا کر 15فیصد کر دیا

واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی سپر یم کورٹ کے فیصلے کے بعد عالمی ٹیرف 10فیصد سے بڑھا کر 15فیصد کر دیا۔ امریکی صدر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکی صدر کی حیثیت سے دنیا بھر کے ممالک پر عائد 10فیصد عالمی ٹیرف کو بڑھا کر 15فیصد تک کر رہا ہوں۔
ٹرمپ نے کہا کہ ٹیرف میں شامل کئی ممالک ایسے ہیں جو کئی دہائیوں سے امریکہ کا استحصال کرتے آرہے ہیں، میری انتظامیہ آنے والے مہینوں میں قانونی طور پر نئے اور قابلِ اجازت ٹیرف کا تعین کرے گی۔ امریکی صدر نے ٹیرف کے حوالے سے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط بھی کر دئیے ہیں۔ وائٹ ہائوس سے جاری بیان کے مطابق 150دن کیلئے امریکہ درآمد ہونے والی اشیا پر ڈیوٹی عائد ہوگی، بعض اشیا اس عارضی ڈیوٹی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
مستثنیٰ اشیا میں معدنیات، کھاد، دھاتیں اور توانائی کی آلات شامل ہیں۔ زرعی مصنوعات، ادویات اور ادویات کا خام مال بھی درآمدی ڈیوٹی سے مستثنیٰ ہوگا، نئی ڈیوٹی کا اطلاق امریکہ، میکسیکو کینیڈا معاہدے پر نہیں ہوگا۔ اس سے قبل امریکی سپریم کورٹ نے دوسرے ملکوں پر صدر ٹرمپ کے اضافی ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیا تھا، عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ ٹرمپ نے جس قانون کے تحت یہ ٹیرف لگائے وہ قومی ایمرجنسی کے لیے بنایا گیا۔
قانون ٹرمپ کو اضافی ٹیرف لگانے کی اجازت نہیں دیتا۔ جبکہ ٹرمپ نے فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ عدالت کے چند مخصوص ممبران پر شرمندگی محسوس ہو رہی ہے، فیصلے سے دنیا خوش ہوگی مگر اس کی خوشی زیادہ دیر نہیں رہے گی، ٹیرف سے ملنے والے منافع میں مزید اضافہ ہوگا۔
ٹرمپ نے فیصلہ مایوس کن قرار دیتے ہوئے ساری دنیا پر 10فیصد ٹیرف لگا نے کا اعلان کیا۔ دوسری جانب امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی سپریم کورٹ کا فیصلہ لاقانونیت پر مبنی قرار دیدی ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں نائب صدر نے کہا کہ عدالتی فیصلہ صاف اور سادہ الفاظ میں قانون شکنی ہے اور اس سے صدر کے لیے امریکی صنعتوں اور سپلائی چین کے تحفظ کو یقینی بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔ ادھر امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ اب ٹیرف کے لیے دیگر قوانین کا سہارا لیا جائے گا۔
امریکی سپریم کورٹ کے ٹیرف سے متعلق فیصلے کے بعد امریکی وزیر خزانہ نے کہا کہ رواں سال کے دوران ٹیرف کم و بیش یہی رہیں گے جو اس وقت موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب ٹیرف کے لیے سیکشن 232اور سیکشن 301کا سہارا لیا جائے گا جنہیں عدالتوں میں کئی مرتبہ چیلنج کیا گیا مگر عدالتوں نے انہیں درست قرار دیا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button