بیروت حملہ: امریکہ ایران معاہدے میں تاخیر، ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم
واشنگٹن (ویب ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ بیروت پر اسرائیلی حملے کے باعث امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے پر دستخط کی تقریب میں چند گھنٹوں کی تاخیر ہوئی۔ انہوں نے اسرائیل اور حزب اللہ پر کشیدگی کم کرنے اور امن عمل کو متاثر نہ کرنے پر زور دیا ہے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ بیروت میں ہونے والا حملہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے صورتحال کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، تاہم جس کارروائی کے جواب میں حملہ کیا گیا وہ محدود نوعیت کی تھی اور اس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں تھی۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حملے کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات اور ممکنہ امن معاہدے کا عمل متاثر نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ یہ معاہدہ خطے میں امن کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ کا نیتن یاہو سے سخت لہجے میں سوال
امریکی میڈیا کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی حملوں کے بعد وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں انہوں نے اسرائیلی کارروائی پر ناراضی کا اظہار کیا۔

رپورٹس کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو سے سخت لہجے میں سوال کیا کہ "یہ کیا کر رہے ہو؟”
ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم پر زور دیا کہ حزب اللہ کے خلاف مزید حملوں سے گریز کیا جائے تاکہ ایران کے ساتھ جاری سفارتی کوششیں متاثر نہ ہوں۔
ایران کا اسرائیل کو کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ
ایران نے بیروت حملے کے بعد اسرائیل کو کشیدگی کم کرنے کا پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں امن کے لیے جارحانہ کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی کارروائی سے گریز کیا جانا چاہیے۔
ٹرمپ اور پیوٹن کے درمیان اہم رابطہ
دوسری جانب کریملن نے تصدیق کی ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو ہوئی ہے۔
روسی حکام کے مطابق گفتگو میں یوکرین، ایران اور دیگر عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ روسی صدر کے خارجہ پالیسی مشیر یوری اوشاکوف نے بتایا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان زیر غور معاہدے کے مسودے پر بھی بات ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے گفتگو کے دوران بتایا کہ امریکہ اور ایران معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں اور اس کا اعلان جلد متوقع ہے۔
کریملن کے مطابق صدر پیوٹن نے ٹرمپ کو ان کی 80ویں سالگرہ پر مبارکباد بھی دی اور عالمی کپ کے حوالے سے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔



