
پاکستان اس حوالے سے بڑا دلچسپ ملک ہے جہاں ہر لمحے نت نئے ایشوز کا سامنا رہتا ہے ہر بندے کو خبروں میں رہنے کا چسکا پڑ چکا ہے کچھ معاملات ہمارے گلے پڑ جاتے ہیں کچھ ہم خود پیدا کر لیتے ہیں چوبیس گھنٹوں میں زیادہ وقت بریکنگ نیوز میں گزرتا ہے جنگوں سے لے کر دہشت گردی تک اور حادثات سے لے کر مرغی چوری تک ہر خبر پر نظر ہوتی ہے دلچسپ اور عجیب وغریب واقعات بھی نیوز انڈسٹری کو توانا رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
کہیں کرپشن کی داستانیں زیر بحث ہوتی ہیں تو کہیں ظلم وزیادتی جبر اور نت نئے جرائم کی داستانیں جنم لے رہی ہوتی ہیں اور کچھ نہ ہو تو حکومتیں آپس میں اٹ کھڑکا لگا لیتی ہیں ویسے تو ہمارا پیداواری عمل روبہ زوال ہے لیکن خبروں کی پیداوار میں ہم خود کفیل ہیں پاکستان میں سب سے زیادہ کرنٹ آفیر کے چینل ہیں ہمارےانٹرٹینمنٹ کے چینل بھی کرنٹ آفیر میں منہ مارنے سے باز نہیں آتے ہمارے 24 گھنٹوں میں 20 گھنٹے بریکنگ نیوز چلتی ہیں ہمارے ڈرامے بھی سیاست زدہ اور کرنٹ آفیر کی کہانیاں معلوم ہوتے ہیں وہ کسی ویلے سے کسی نے پوچھا کہ آپ کے پاس دس منٹ کا ٹائم ہو گا؟۔
اس نے کہا نہیں میں تو بہت مصروف ہوں، آپ کیا کرتے ہیں، کچھ نہیں، آپ کے پاس سو روپے ہوں گے، نہیں میں تو ویلا ہوں اسی طرح ہمارے پاس کرنے کو کچھ نہیں لیکن ہم بہت مصروف ہیں اور پلے نہیں دھیلا تے کر دی میلہ میلہ والا حساب ہے قوم کے چند گنے چنے لوگوں کو چھوڑ کر ہر کوئی سوشل میڈیا پر مصروف ہے تعمیری سوچ ناپید ہو رہی ہے اور فضولیات عام ہو رہی ہیں جس سے منفی سوچیں جنم لے رہی ہیں ہمیں قوم کو مثبت سرگرمیوں کی طرف لانا ہو گا معاشرہ ڈی ٹریک ہو رہا ہے ہمارے ہاں ایک اصلاحی تحریک کی اشد ضرورت ہے ہمیں نوجوان نسل کو محفوظ بنانے کے لیے انھیں مصروف بھی کرنا ہے اور ان کے اندر تعمیری سوچ پیدا کر کے فعال معاشرے کا حصہ بھی بنانا ہے۔ اگر ہم نے یوتھ کو کسی کام پر نہ لگایا تو اگلے دس پندرہ سالوں میں یہی اثاثہ بوجھ بن جائے گا ہمیں دکھاوے کے کاموں سے باہر آکر لانگ ٹرم پالیسیاں بنانا ہوں گی ملک کو ڈنگ ٹپاو پالیسیوں سے نجات دلوا کر تادیر منصوبے بنانا ہوں گے ۔
بات بریکنگ نیوز کی ہو رہی تھی اور کسی اور طرف نکل گئی اگر ہم آج کے ایشوز پر ہی نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہم حالت جنگ میں ہیں اور ہمیں ایک ہی وقت میں کئی ایشوز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ہمیں بیک وقت سازشوں کا بھی سامنا ہے امن و امان کے چینلجز بھی درپیش ہیں دہشتگردی بھی ہمارے گلے پڑی ہوئی ہے ہمیں کئی قسم کے خدشات بھی گھیرے ہوئے ہیں ذرا اندازہ لگائیں کہ ہم گلگت بلتستان کے انتخابات میں مصروف تھے کہ ابھی تک ہم اس انتخابی ماحول سے باہر نہیں نکلے تھے کہ اب حکومت سازی کے لیے جوڑ توڑ میں مصروف ہو گئے ہیں ہماری اپوزیشن نے حسب روایت انتخابی نتائج کو مسترد کر دیا ہے اور حلف والے دن احتجاج کرنے کا اعلان کر دیا ہے ۔
اب ایک لمبے عرصے تک انتخابی کہانیاں زیر بحث رہیں گی دنیا میں انتخابات ہوتے ہیں نتائج کے بعد کوئی اس پر بات نہیں کرتا اور اگلے دن سب کچھ نارمل ہوجاتا ہے لیکن ہم کئی سالوں تک نارمل نہیں ہوتے۔
ابھی گلگت بلتستان کی انتخابی گہما گہمی کم نہیں ہوئی تھی کہ آزاد کشمیر میں ہمیں احتجاج کا سامنا کرنا پڑ گیا انتظامیہ نے کریک ڈاؤن کرکے ایک بار تو معاملے کو دبا دیا ہے لیکن اس کے اثرات لمبے عرصے تک ہماری جان نہیں چھوڑیں گے جس طرح اکبر بگٹی کو مارنے کے بعد آج تک ہم اس کے اثرات بھگت رہے ہیں اسی طرح احتجاج کو کچلنے کے بعد اس کے اثرات بھگتنے پڑیں گے اور عین ممکن ہے کہ اگلے ماہ کشمیر میں ہونے والے انتخابات بھی ملتوی کرنا پڑیں ۔
ہماری منصوبہ بندی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ہم دوبار قومی بجٹ پیش کرنے کی تاریخ کا اعلان کرکے اراکین پارلیمنٹ کو اسلام آباد بلوا کر ملتوی کر چکے ہیں، پنجابی کی ایک مثال ہے، بوہے آئی جنج تے ونوں کڑی دے کن،جو کچھ آج ہو رہا ہے کیا یہ پہلے نہیں ہو سکتا تھا ہم بجٹ کی تیاریوں سے قبل صوبوں کو اور اتحادیوں کو اعتماد میں کیوں نہیں لے سکے ہم جان بوجھ کراپنا تماشہ لگواتے ہیں ایسے معاملات کمزوریاں ظاہر کرتے ہیں ایک طرف ہم دنیا کے بڑے بڑے معاملات حل کروا رہے ہوتے ہیں دوسری جانب ہم اپنےچھوٹے چھوٹے معاملات خراب کر بیٹھتے ہیں۔
ویسے پاکستان ایسا ہی ہے سوئی تک ہم بنا نہیں سکتے باہر سے منگواتے ہیں لیکن ایٹم بم بنا لیتے ہیں دنیا کی ثالثی کروا رہے ہیں لیکن اپنے اندرونی معاملات حل نہیں کر سکتے ہمیں سوچنا ہو گا کب تک ہم وقت گزاری کرتے رہیں گے آخر ہمیں ایشوز کو ٹیک اپ کرنا پڑے گا کب تک ہم کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرکے بیٹھے رہیں گے اندرونی افراتفری اور غیر یقینی کے خاتمے کے بغیر نہ استحکام آ سکتا ہے نہ معیشت سنبھل سکتی ہے اگے تہاڈی مرضی۔



