پی سی بی ریجنل انتخابات ،دھاندلی کی تیاریاں؟صدارتی امیدوارکامران ،اہم افسرکی گرفتاری ورہائی
میرٹ پر ایف آئی آر یا انتخابی دباؤ؟ پی سی بی الیکشن تنازع شدت اختیار کر گیا،کامران حیدر کامریم نواز اور وزیر داخلہ سے تحفظ دینے کا مطالبہ

لاہور:(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی) پی سی بی (PCB) کے 22 جون کو ہونے والے انتخابات سے قبل بہاولپور ریجن سے امیدوار کامران حیدر کی قذافی اسٹیڈیم کے باہرسے گرفتاری اور بعد ازاں رہائی کے واقعے نے سیاسی و انتظامی دباؤ کے الزامات کے باعث تنازع کھڑا کر دیا ۔

صدارتی امیدوار کامران حیدرایڈووکیٹ کو ساتھیوں آصف اقبال،ندیم حسین، سراج دین ،رائے محمد رضاشبیرسمیت گرفتار کیا گیا جن کو بعد ازاں جوڈیشل مجسٹریٹ ماڈل ٹائون نے مقدمہ سے ڈسچارج کردیا،امیدوارکامران حیدر نے الزام لگایا کہ انہیں انتخابات میں حصہ نہ لینے کے لیے ایک بڑے سرکاری افسر کی جانب سے دباؤ ڈالا گیا۔ان کے مطابق دھمکی مؤثر نہ ہونے پرکاغذات نامزدگی جمع کرانے کے فوراً بعد پولیس نے انہیں قذافی اسٹیڈیم کے باہر روک لیا،ندیم کامران کی گرفتاری پر پنجاب بھر میں وکلا نے شدید احتجاج کیا تھا ۔

کامران حیدرجو پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں کا کہنا ہے کہ ان پر عائد الزام کی قانونی کارروائی کا اختیار پنجاب پولیس نہیں بلکہ ٹریفک پولیس کے پاس ہے۔
کامران حیدر کے مطابق وہ اپنے بچپن کے دوست آصف اقبال کے ساتھ قذافی اسٹیڈیم پہنچے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس کو ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے آصف اقبال نے اپناتعارف کرایااور بتایا کہ گاڑی ان کے نام پر ہے اور کامران حیدر ان کے مہمان ہیں۔ کامران حیدر کا الزام ہے کہ پولیس نے انہیں اور آصف اقبال دونوں کو حراست میں لے لیا اور مقدمہ درج کر دیا۔

سی این این اردو ڈاٹ کام سے گفتگو میں متعلقہ ایس ایچ او نے کہا کہ مقدمہ میرٹ پر درج کیا گیا ۔ پولیس کے مطابق بعض معلومات ابھی خفیہ/کانفیڈینشل ہیں، اس لیے انہیں پہلے ظاہر نہیں کیا جا سکتا۔
کامران حیدر نے ایک بڑے سرکاری افسر پر انتخابات سے دستبردار ہونے کے لیے دباؤ ڈالنے کا الزام لگایا تاہم اس الزام کی آزادانہ تصدیق اس وقت دستیاب نہیں۔
کامران حیدر کا کہنا ہے کہ انہیں وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپنی عزت، جان و مال کے تحفظ اور انتخابی عمل میں آزادانہ شرکت کی ضمانت درکار ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ لاہور میں پولیس کے رویّے سے انہیں ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔



