
(اعجاز علی خان ۔۔اسلام آباد)
اردو ادب میں سفرنامے کی روایت محض جغرافیائی حدود کی پیمائش یا راستوں کی دفتری تفصیل کا نام نہیں، بلکہ یہ وارداتِ قلب، مشاہدۂ کائنات اور انسانی تہذیبوں کے عروج و زوال کی ایک فکری دستاویز ہے۔ MASOOD ASLAM LILLA(جن کی پہلی تصنیف "آوازِMASOOD ASLAM LILLA” ادبی حلقوں میں پذیرائی حاصل کر چکی ہے) اب اپنی نئی تخلیق "سفرِMASOOD ASLAM LILLA” کے ساتھ پھر سے سامنے آئے ہیں ۔مصنف کو زبان و بیان پر جو کامل عبور حاصل ہے، اس کا عکسِ کتاب کے ہر صفحے پر نظر آتا ہے۔

ان کی تحریر میں ایک خاص قسم کا ادبی رچاؤ، روانی اور نغمگی ہے جو قاری کو ہر لمحہ ساتھ ساتھ لیے چلتی ہے۔اگر گہری نظر سے اس کتاب کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ محض ایک بیرونی سفر نہیں بلکہ مصنف کے "اندر کا سفر” بھی ہے، جہاں وہ زندگی کی حقیقتوں، علالت (کینسر جیسے موذی مرض کا مقابلہ) اور انسانی عزائم کی بلندی کا فلسفیانہ ذکر کرتے ہیں۔ بقول مصنف
”یہ کتاب بیماری کے سائے میں لکھی گئی ہے، مگر شکست کے لہجے میں ہرگز نہیں۔”ان کا یہ اندازِ تکلم قاری کی دلچسپی کو اول تا آخر برقرار رکھتا ہے۔
کتاب کا آغاز "خاکِ وطن سے افقِ عالم تک” کے دلکش عنوان سے ہوتا ہے، ابتدائی صفحات میں پہلے ساتوں براعظموں کا ایک اجمالی مگر جامع تعارف کرایا گیا ہے۔ قریباً 300, صفحات پر مشتمل اس کتاب میں مصنف نے دنیا کے اہم ترین مراکز اور شہروں کا نچوڑ پیش کیا ہے مصنف چونک طویل عرصہ سے کینیڈا میں مقیم ہیں ، اس لیے انہوں نے "اپنے کینیڈا ” کے تمام علاقوں کو ایک سیلانی کی حیثیت سے جی بھر کر دیکھا اور اس کتاب میں ان مقامات کا خوبصورت پیرائے میں ذکر کیا ۔

مصنف نے کینیڈا سے باہر کے سفر میں، ہر شہر کی تاریخ، وجہِ شہرت، تاریخی پس منظر اور ان کے تمدنی مزاج کو ادبی خوش اسلوبی کے ساتھ قلمبند کیا ہے۔ ان کی مشاہدے کی قوت غضب کی ہے؛ وہ جہاں سے گزرتے ہیں، وہاں کی تہذیب کی روح کو کھینچ لاتے ہیں۔ جیسےمکہ مکرمہ، مدینہ منورہ کے انوارات سے لے کر عراق کے مقدس شہروں (کوفہ، نجف، کربلا) کی تاریخ و پس منظر۔
یورپ اور مشرقِ وسطیٰ: لندن، پیرس،استنبول، سوئٹزرلینڈ کی جھیلون کے دلکش مناظر (جینوا، برن، زیورچ)، اٹلی کے تاریخی شہر (روم، وینس) اور اسپین (بارسلونا) کے تہذیبی نقوش۔
امریکہ اور بعید ترین خطے: نیویارک اور لاس اینجلس کی چکا چوند سے لے کر فجی کے جزائر، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا اور ایمیزون کے گھنے جنگلات تک کی دلچسپ کہانیاں
انٹارکٹیکا کا سفر: ارجنٹائن کے شہر اشوایا سے کروز کے ذریعے برفانی تنہائیوں کے آخری سرے تک کا سفر، جو اس سفرنامے کا اوجِ کمال ہے۔
سفرِMASOOD ASLAM LILLA میں مصنف نے جن آفاقی بستیوں کی خاک چھانی ہے، ان کا تذکرہ محض اینٹ اور پتھر کی عمارتوں کا بیان نہیں بلکہ ان شہروں کی روح اور تہذیبی تاریخ کا ایک ایسا مرقع ہے جو قاری کے قلب و ذہن کو متاثر کرتا ہے ۔ کتاب کے مصنف MASOOD ASLAM LILLAنے اپنی کمال قوت مشاہدہ سے ان شہروں کے کی تمدنی و تہذیبی تاریخ کو سمیٹا ہے، آیئے ان میں سے چند چیدہ چیدہ شہروں کا نظارہ کرتے ہیں:اس سفرنامے کا سب سے روشن اور پرنور حصہ حرمین شریفین کی حاضری ہے۔ مکہ مکرمہ کی وادی میں پہنچ کر مصنف کا قلم عقیدت و احترام کے اس مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں لفظ سجدہ ریز معلوم ہوتے ہیں۔

تاریخِ اسلام کے نقوش کو مصنف نے صرف دیکھا نہیں بلکہ اپنی روح میں اتارا ہے۔مدینہ منورہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کتاب کی سطروں سے ایک خاص دھیما پن اور سکون جھلکتا ہے۔ گنبدِ خضریٰ کے سائے میں بیتے لمحے، مسجدِ نبوی کی سحر انگیز صبحیں اور شامیں، اور وہ رقت آمیز کیفیات، قاری کو مدینے کی ٹھنڈی ہواؤں کا لمس محسوس کراتی ہیں۔ یہ تذکرہ محض ایک زائر کا سفر نہیں، بلکہ ایک سچے عاشقِ رسولؐ کے دل کی دھڑکنوں کی آواز ہے۔
ترکی کا تاریخی شہر استنبول ، جہاں ایشیا اور یورپ ایک دوسرے سے بغل گیر ہوتےہیں، مصنف کے قلم سے ایک نیا رنگ اختیار کر لیتا ہے۔ آبنائے باسفورس کی لہروں پر تیرتی ہوئی شامیں اور وہاں کے گنبدوں سے جھانکتی ہوئی صدیاں اور مسجدوں کا جلال و جمال ، استنبول کے تذکرے میں مصنف کی تاریخ دانی اور ادبی رچاؤ اپنے عروج پر نظر آتا ہے۔ وہ اس خطے میں عروج و زوال کی داستانوں کو اس شہر کی گلیوں میں اس طرح تلاش کرتے ہیں، کہ ماضی اور حال کے دھاگے آپس میں بنے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔
برطانیہ کا دل، لندن، جہاں مصنف نے ماضی کی عظمت اور حال کی مادی ترقی کو بیک وقت بوڑھے دریائے تھیمز کے کنارے سے دیکھا، جہاں ہائڈ پارک کی ہریالی، بگ بین کی صدائیں اور لندن کی تاریخی عمارتیں مصنف کو اس دور کی یاد دلاتی ہیں جب اس شہر سے آدھی دنیا پر حکومت کی جاتی تھی۔ مصنف کی نظر اس شہر کے مادی پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ وہاں کے نظم و ضبط، کتب خانوں اور گنگناتی ہوئی ثقافت پر بھی جمی ہوئی ہے۔
فرانس کا دارالحکومت پیرس، ادب کی دنیا میں ہمیشہ سے رومان اور آرٹ کا گڑھ رہا ہے۔ مصنف جب پیرس کی سڑکوں پر نکلتے ہیں اور ایفل ٹاور کی بلندی سے رات کے پیرس کا نظارہ کرتے ہیں، تو ان کی تحریر میں ایک شاعرانہ لطافت آ جاتی ہے۔ شانزے لیزے کی رونقیں اور لوو میوزیم میں قید صدسالہ فن پارے مصنف کے جمالیاتی ذوق کو مہمیز کرتے ہیں۔ وہ پیرس کو صرف ایک سیاح کی آنکھ سے نہیں دیکھتے، بلکہ اس کی ثقافتی گہرائی کو محسوس کرتے ہوئے اس کے تمدنی مزاج کا نقشہ کھینچتے ہیں۔
اگر دنیا میں کہیں فطرت اپنے پورے جلال اور جمال کے ساتھ مسکراتی ہے، تو وہ سوئٹزرلینڈ ہے۔ مصنف جب جینوا، برن اور زیورچ کی وادیوں کا رخ کرتے ہیں، تو ان کا قلم مناظرِ قدرت کی مصوری کرنے لگتا ہے۔ برف پوش پہاڑوں کی چوٹیاں، شیشے کی طرح چمکتی جھیلیں اور سبزے کی چادر اوڑھے میدان، ان شہروں کا احوال پڑھتے ہوئے ایسا لگتا ہے جیسے انسان کسی طلسماتی دنیا میں پہنچ گیا ہو۔ یہاں مصنف کی خاموش مشاہدہ گری کمال کی ہے، جہاں وہ فطرت کے سکوت میں چھپی تخلیقِ خداوندی کا اقرار کرتے ہیں۔
ارجنٹائن کا شہر اشوایا، جسے دنیا کا آخری کنارہ (Fin del Mundo) بھی کہا جاتا ہے، وہاں سے کروز کے ذریعے انٹارکٹیکا کی برفانی تنہائیوں کی طرف بڑھنا اس سفرنامے کا وہ منفرد اور سنسنی خیز باب ہے جو اردو ادب میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ مصنف نے خود لکھا ہے کہ "انٹارکٹیکا نے مجھے میری محدودیت یاد دلائی”۔
بحرِ منجمد جنوبی کی مہیب لہریں، میلوں دور تک پھیلی سفید برف کی چادریں، انسانی آبادی سے دور قدرت کا وہ خاموش جلال جہاں صرف ہواؤں کا راج ہےاس منظر کو مصنف نے جس فلسفیانہ اور کلاسیکی انداز میں بیاں کیا ہے، وہ قاری کے اندر ایک عجیب سحر اور ہیبت پیدا کر دیتا ہے۔ یہ حصہ ثابت کرتا ہے کہ مصنف صرف شہروں کے سیاح نہیں، بلکہ کائنات کے پوشیدہ رازوں کے متلاشی بھی ہیں۔
MASOOD ASLAM LILLAکی کتاب کے یہ تمام شہر، دراصل مختلف تہذیبوں کے وہ دریچے ہیں، جنہیں مصنف نے اپنی دانائی، تجربے اور کینسر جیسے کٹھن سفر کے دوران جینے کی تڑپ سے روشن کیا ہے۔ ہر شہر کا تذکرہ قاری کے لیے محض جغرافیائی معلومات نہیں، بلکہ ایک نئی فکری بیداری کا سبب بنتا ہے۔
سفرنامے کا ایک خوبصورت پہلو انسانی رشتوں کا احترام ہے۔ مصنف نے کچھ سفر تنہا کیے، کچھ اپنے جواں سال بیٹے (یوسف) کے ساتھ اور کچھ پوری فیملی کے ہمراہ۔ ان کے احباب کا ایک وسیع حلقہ دنیا بھر میں موجود ہے، جس کا ذکر اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ مصنف محبتیں بانٹنے والے انسان ہیں۔ 16, صفحات پر مشتمل آرٹ پیپر پر چھپی رنگین تصاویر کتاب کی بصری خوبصورتی اور پرنٹنگ کے اعلیٰ معیار (قلم فاؤنڈیشن کی روایت کے مطابق) کو چار چاند لگاتی ہیں۔ "سفرِMASOOD ASLAM LILLA” کو اگر ایک جملے میں سمیٹا جائے، تو یہ "آفاق و انفس” کا ایک ایسا مرقع ہے جہاں جغرافیہ، تاریخ، فلسفہ اور شعر و ادب مل کر ایک ہو گئے ہیں۔ MASOOD ASLAM LILLAنے اپنی علالت کو اپنے عزمِ سیاحت اور تخلیقی صلاحیتوں پر حاوی نہیں ہونے دیا، بلکہ اسے زندگی کا ایک خوبصورت امتزاج بنا دیا۔ یہ کتاب اردو سفرنامہ نگاری کی تاریخ میں ایک گراں قدر اور طویل عرصے تک یاد رکھا جانے والا اضافہ ثابت ہوگی۔
MASOOD ASLAM LILLAکے دل میں موجزن سفر کا یہ بے پناہ شوق دراصل تسخیرِ کائنات کی اسی ازلی تڑپ کا پرتو ہے جو انسان کو جمود سے نکال کر وسعتِ افلاک سے ہمکنار کرتی ہے۔ دانا کہتے ہیں کہ "سفر، وسیلۂ ظفر ہے”، اور یہ جادوئی جملہ اس وقت مجسم ہو جاتا ہے جب کوئی مسافر مکہ و مدینہ کے انوارِ الٰہی سے جلا پا کر انٹارکٹیکا کی سفید، اجنبی اور پرسکوت سرد راتوں میں قدرت کے جلال کا مشاہدہ کرتا ہے۔ اجنبی زمینوں کا سفر محض نئے جغرافیے کی دریافت نہیں، بلکہ یہ انسانی روح کی بالیدگی، عزم و ہمت کی آزمائش اور فکر و شعور کی جلا کا باعث بنتا ہے۔
جب انسان اپنے شناسا ماحول کی سرحدوں کو عبور کر کے ان دیکھے دیسوں، نامانوس تہذیبوں اور اجنبی بستیوں میں قدم رکھتا ہے، تو اس کے اندر چھپی محدودیت کا احساس مٹ جاتا ہے اور اسے کائنات کی رنگارنگی میں خالقِ حقیقی کی یکتائی کا جلوہ صاف دکھائی دینے لگتا ہے۔ ایسے اسفار انسان کو علالت اور وقت کی قید سے آزاد کر کے جینے کا نیا حوصلہ بخشتے ہیں۔جہاں ہر نئی سرزمین مسافر کو اپنے اندر جھانکنے، نسلوں کے درمیان مکالمہ کرنے اور زندگی کو ایک نئے، شکر گزار زاویئے سے دیکھنے کی بصیرت عطا کرتی ہے۔



