آزاد کشمیر کا بحران مذاکرات سے حل کیا جائے
تحریر: فرخ ریاض بٹ

آزاد کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے نام پر جو تحریک اٹھی، اس نے عوامی مسائل، سیاسی دباﺅ، اور ریاستی نظم کے درمیان ایک خطرناک لکیر کھینچ دی۔ اس تحریک کے دوران احتجاج، شٹر ڈاﺅن، پہیہ جام اور بعض مقامات پر تشدد نے نہ صرف عام زندگی متاثر کی بلکہ ایسی رعایتوں کی راہ بھی ہموار کی جنہیں پاکستان کے نقطہ نظر سے آئینی و انتظامی سوالات کے بغیر قبول کرنا ممکن نہیں۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی تحریک 2022 میں شروع ہوئی تھی جس میں آٹے کا بحران اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرنے پر ہوا تھا اور یہ تحریک 10 سے 12 نکات پر مشتمل تھی۔ اس تحریک اختتام پر وفاقی حکومت اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے درمیان بہت سے وعدے کیے گئے تھے لیکن اس پر عمل درامد نہیں ہو سکا۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے 38 مطالبات ہیں جن میں سر فہرست مہاجرین کی نشستوں کا خاتمہ، صوبائی خود مختاری، مالیاتی وسائل کی تقسیم، ترقیاتی پیکیج جیسے امور شامل ہیں۔حکومت کو یہ بات بھی سمجھنی ہوگی کہ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں کہ 2022 میں مذاکرات کے بعد جن نکات پر اتفاق ہوا تھا ان پر عمل درامد نہیں ہو سکا۔ حکومت کو ایک اور بات سمجھنی ہوگی کہ اب حالات ماضی سے مختلف ہیں اور آزاد کشمیر میں لوگ اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے پچھلے کئی برسوں سے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان کے مطالبات سیاسی نوعیت کے ہیں اور بنیادی حقوق سے جڑے ہوئے ہیں اس لیے ان کو نظر انداز کر کے انہیں دہشت گرد قرار دینا یا ریاست دشمن سمجھنا کسی بھی حوالے سے درست حکمت عملی کے زمرے میں نہیں آتا۔
اصل میں حکومت میں شامل ایسے بہت سے لوگ ہیں جو مشورہ دیتے ہیں کہ ہمیں جوائنٹ کمیٹی سے سختی سے نمٹنا چاہیے اور ان کے خلاف طاقت کا استعمال کرنا جائز ہے۔ اس حکمت عملی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جب ہم طاقت کے ذریعے مظاہرین سے نمٹیں گے تو کوئی اور مزاحمت کی کوشش نہیں کرے گا۔ جو کچھ کر رہے ہیں اس کا براہ راست فائدہ پاکستان کو کم اور بھارت کو زیادہ ہوگا اور بھارت کشمیر کے داخلی معاملات میں ہونے والے کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا۔
ایک ایسے وقت میں جب بھارت پہلے ہی پاکستان کے لیے داخلی سطح پر مسائل پیدا کر رہا ہے تو ہمیں اور زیادہ مفاہمت کے ساتھ آگے بڑھنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ اسی طرح جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے لوگوں کی یہ ذمے داری بنتی ہے وہ بھی معاملات کو حل کے لیے زیادہ تدبر سے آگے بڑھے اور مذاکرات کا راستہ کسی بھی صورت بند نہ ہونے دیں۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو یہ تاثر نہیں دینا چاہیے کہ وہ مذاکرات کی حامی نہیں ہیں بلکہ ان کو تو یہ تاثر دینا چاہیے کہ ہم مذاکرات کے حامی ہیں اور مذاکرات کے مسائل کا حل چاہتے ہیںاس میں آزاد کشمیر سمیت پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو بھی وفاقی حکومت پر دباﺅڈالنا چاہیے کہ وہ آزاد کشمیر میں طاقت کی سیاست سے گریز کرے اور ہر صورت مفاہمت کا ایجنڈا ہی بالادست ہونا چاہیے۔
جہاں تک جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مسائل کا تعلق ہے تو عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد یہ کہہ دیا گیا ہے کہ مہاجرجن کی نشستوں کا معاملہ نئی اسمبلی پہ چھوڑ دیا جائے کیونکہ اس میں آئینی ترمیم درکار ہے اور یہ بات سمجھ میں بھی آتی ہے۔ لیکن جہاں تک آزاد کشمیر میں صوبائی خود مختاری کا تعلق ہے اور این ایف سی ایوارڈ میں آزاد کشمیر کے لوگوں کو حقوق ملنے چاہیں۔ حکومت کی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ آزاد کشمیر میں موجود نئی نسل کے احساسات کو سمجھے اور نئی نسل کو دیوار سے لگانے سے گریز کیا جائے کیونکہ اگر پرانی روایتی حکمت عملی کے تحت آزاد کشمیر کے معاملات سے نمٹنے کی کوشش کی گئی تو اس کا سخت رد عمل ہمیں نئی نسل میں بھی دیکھنے کو ملے گا جو ریاست کے مقدمے کو اور زیادہ کمزور کرنے کا سبب بنے گا۔
وفاقی حکومت کے بعض وزرا کی بیان بازی حالات کو اور زیادہ خراب کرنے کا سبب بھی بن رہی ہے اور اس پر وزیراعظم کو واضح طور پر وفاقی وزرا کو حکم دینا چاہیے کہ وہ ایسی بیان بازی سے گریز کریں اور گفتگو جن سے معاملات میں اور زیادہ خرابی پیدا ہو سے اجتناب کریں۔ اچھی بات یہ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری مل کر مختلف جماعتوں پر مشتمل ایک با اختیار کمیٹی بنا دیں جو جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ مشترکہ طور پر بات چیت کرے اور مفاہمتی ایجنڈے کو دو طرفہ بنیادوں پر سامنے لائے تاکہ ان نکات کی بنیاد پر آگے بڑھا جا سکے۔آزاد کشمیر کے بحران کو طاقت کے بجائے مذاکرات کی حکمت عملی سے حل کیا جائے۔



