انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاعلاقائی خبریںکالم

پاک،افغان کشیدگی اور عالمی ضمیر ؟

دنیا کی تاریخ میں امن ہمیشہ ایک خوبصورت لفظ رہا ہے، مگر اس لفظ کے پیچھے کتنے آنسو، کتنی لاشیں اور کتنی خاموش قبریں دفن ہوتی ہیں، اس کا حساب کوئی عالمی فورم نہیں رکھتا۔ عالمی طاقتیں جب اپنے ایوانوں میں کھڑے ہو کر امن کے دعوے کرتی ہیں تو الفاظ بہت دلکش ہوتے ہیں، مگر سرحدوں پر گونجتی گولیوں کی آواز ان دعوؤں کی سچائی کو پرکھتی ہے۔

موجودہ امریکی صدر Donald Trump اپنی تقاریر میں بارہا یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے کئی جنگیں رکوا کر دنیا کو بڑے تصادم سے بچایا، حتیٰ کہ India اور Pakistan کے درمیان کشیدگی کم کروانے کا دعویٰ بھی کیا جاتا ہے۔ اگر واقعی دنیا امن کی طرف بڑھ رہی ہے تو پھر یہ سوال فضا میں معلق ہے کہ کیا پاکستان اور Afghanistan کی سرحد پر بہنے والا خون امن کی تعریف میں شامل نہیں؟ کیا یہاں مرنے والے انسان عالمی ضمیر کا حصہ نہیں؟
مئی میں جب بھارت کی جانب سے پاکستان پر حملہ ہوا تو عالمی ردعمل غیر معمولی طور پر خاموش تھا۔ مگر جب پاکستان نے بھرپور جواب دیا اور صورتحال ایک وسیع جنگ کی شکل اختیار کرنے لگی تو عالمی سفارت کاری یکایک بیدار ہو گئی۔ اس واقعے نے ایک تلخ احساس کو جنم دیا کہ امن کی فکر اکثر وہاں جاگتی ہے جہاں طاقت کا توازن خطرے میں پڑ جائے، نہ کہ وہاں جہاں انسان مر رہے ہوں۔ یہی احساس آج پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر جاری کشیدگی کے تناظر میں مزید گہرا ہو رہا ہے۔

حالیہ دنوں میں کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی جب پاکستان نے ننگرہار اور پکتیا میں فضائی حملوں کا اعلان کیا اور کہا کہ ان کارروائیوں میں درجنوں جنگجو ہلاک ہوئے۔ کابل نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عام شہری، خواتین اور بچے نشانہ بنے۔ اس کے فوراً بعد طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اعلان کیا کہ “ڈیورنڈ لائن” کے ساتھ پاکستانی فوجی تنصیبات کے خلاف بڑے پیمانے پر جوابی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔ افغان ذرائع نے پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت اور چوکیوں پر قبضے کا دعویٰ کیا، جبکہ اسلام آباد نے نہ صرف ان دعوؤں کی تردید کی بلکہ یہ بھی کہا کہ اس نے فوری اور مؤثر جواب دیتے ہوئے متعدد افغان پوسٹیں تباہ کیں اور بھاری جانی نقصان پہنچایا۔

یہ تمام واقعات اس 2,611 کلومیٹر طویل سرحد پر ہو رہے ہیں جسے ڈیورنڈ لائن کہا جاتا ہے۔ اکتوبر کی جھڑپوں کے بعد سے متعدد سرحدی گزرگاہیں بند یا محدود ہیں۔ چترال، خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ کے علاقے مسلسل کشیدگی کی لپیٹ میں ہیں۔ سرحدی تجارت متاثر ہو رہی ہے، خاندان تقسیم ہو رہے ہیں اور روزگار کے مواقع سکڑتے جا رہے ہیں۔ کابل میں دھماکوں اور فضائی سرگرمیوں کی اطلاعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ کشیدگی محض بیانات تک محدود نہیں رہی بلکہ عملی محاذ آرائی میں بدل چکی ہے۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں سے حملے کرتی ہے اور کابل اس کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کر رہا۔ افغانستان اس الزام کی تردید کرتا ہے اور اپنی خودمختاری کا مؤقف پیش کرتا ہے۔ مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں سرحدی علاقوں میں تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اور دونوں اطراف سے ہلاکتوں کے اعداد و شمار اس تنازع کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
ان تمام حقائق کے بیچ سب سے اہم پہلو انسانی رشتہ ہے۔ افغانستان اور پاکستان کے عوام کے درمیان تعلقات صرف سیاسی نہیں، تہذیبی اور خاندانی بھی ہیں۔ جب افغانستان میں جنگ بھڑکی تو لاکھوں مہاجرین نے پاکستان میں پناہ لی، کاروبار کیے، تعلیم حاصل کی اور ایک نسل نے یہیں آنکھ کھولی۔ مگر شدت پسند عناصر کی موجودگی، دہشت گردی کی کارروائیوں اور باہمی بداعتمادی نے اس رشتے کو کمزور کر دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں ممالک، جو ایک دوسرے کے فطری شراکت دار ہو سکتے تھے، سکیورٹی خدشات کے بوجھ تلے آمنے سامنے کھڑے ہو گئے۔
اگر عالمی قیادت واقعی امن کی علمبردار ہے تو اسے اس خطے کی کشیدگی کو بھی اسی سنجیدگی سے لینا ہوگا جس کا اظہار بڑے عالمی تنازعات میں کیا جاتا ہے۔ امن کا حقیقی مطلب صرف بڑی طاقتوں کے درمیان جنگ روکنا نہیں، بلکہ ہر اس ماں کے آنسو کی قدر کرنا ہے جو کابل، پشاور یا کسی سرحدی گاؤں میں اپنے بیٹے کو کھو دیتی ہے۔ جب تک دنیا ہر انسان کی جان کو یکساں اہمیت نہیں دے گی، امن کا بیانیہ ادھورا رہے گا۔ حل بندوق میں نہیں، اعتماد سازی میں ہے؛ الزام تراشی میں نہیں، مکالمے میں ہے؛ اور طاقت کے اظہار میں نہیں، انصاف کے برابری کے اصول میں ہے۔

پاکستان اور افغانستان کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ سرحدیں دیوار نہیں بن سکتیں اگر دلوں میں بداعتمادی کی دیواریں کھڑی ہوں۔ مستقل امن اسی وقت ممکن ہے جب دونوں ممالک شدت پسند عناصر کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنائیں، سفارتی رابطے بحال رکھیں اور عوامی سطح پر تعلقات کو سیاست کی بھینٹ نہ چڑھنے دیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو خونریزی کو روک سکتا ہے اور خطے کو ایک نئے استحکام کی طرف لے جا سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button