لاہور:(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی سے)فیصل آباد چلڈرن ہسپتال میں مبینہ زیادتی پر خودکشی کی کوشش کرنیوالی خاتون گارڈانصاف کیلئے دربدرہونے لگی۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کا خواتین کے حوالے سے موقف انتہائی واضح رہا ہے ان کا کہنا ہے کہ خواتین میری ریڈ لائن ہیں ان پر تشددیا ظلم قطعا برداشت نہیں ہے۔

فیصل آباد کے چلڈرن ہسپتال میں مبینہ طورپر زیادتی کا شکار لیڈی گارڈ نے ایف آئی آر میں ڈی ایم ایس طلحہ ،علی اصغر،ڈینٹل ڈاکٹرعماد، سکیورٹی سپروائزردلشاداورسپروائزرعلی اصغرڈوگر سمیت ایک نامعلوم شخص کو نامزد کیا ہے ۔

پنجاب حکومت کی ترجمان عظمی بخاری کا کہنا ہے کہ فیصل آباد ہسپتال واقعہ کو وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور حکومت پنجاب نے بہت سنجیدگی سے لیتے ہوئے نوٹس لیا ہے، خاتون سکیورٹی گارڈ کے تحفظ کو ہر صورت میں یقینی بنائیں گے، ایسے واقعات کو عدالتوں میں خصوصی طور پر ٹرائل کروانے کے لیے ایک خصوصی یونٹ بھی بنایا جا رہا ہےمعاشرے کو بھی اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔

ایڈیشنل سیکرٹری صحت سجاد خان نے نمائندہ سی این این اردوڈاٹ کام سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہےکہ تمام ملوث افراد کو معطل کردیا ہے جبکہ تحقیقات جاری ہیں ،قانونی کارروائی جاری ہے واقعہ میں اگر کوئی ملوث ہواتو سخت ترین سزادلوائی جائے گی۔
فیصل آباد میں مبینہ طورپر زیادتی کاشکار خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ متعدد بارزیادتی کا نشانہ بنایا گیا جبکہ شکایت کرنے پر نوکری سے نکالنے کی دھمکیاں دی جاتی تھیں، دوسری جانب مقدمے میں نامزد مرکزی ملزم سمیت پانچوں ملزمان جنہوں نے عبوری ضمانت کروارکھی ہے الزامات کو مستردکیا ہے۔
ویمن تھانہ فیصل آباد کی ایس ایچ او گل ناز کے مطابق متاثرہ خاتون کی درخواست پر مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے جبکہ ہسپتال انتظامیہ نے بھی تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی ہے ،متاثرہ خاتون کی جانب سے اس مقدمے میں پانچ لوگوں کو نامزد کیا گیا ہے۔
375 اے کے تحت درج مقدمہ کے متن میں متاثرہ خاتون نے کہا ہے کہ انھوں نے ’غربت سے تنگ آ کر تین ماہ قبل چلڈرن ہسپتال فیصل آباد میں سکیورٹی گارڈ کی ملازمت حاصل کی تھی،سکیورٹی سپروائزر مجھے آتے جاتے تنگ کرتا تھا بات نہ ماننے پر نوکری سے نکلوانے کی دھمکی دیتا اسی نے میری ڈیوٹی ڈینٹل وارڈ میں لگوا ئی تھی۔
25 دسمبر کو مرکزی ملزم نے مجھے اپنے وارڈ کے کمرے میں بلایا اور وہاں پر میرے ساتھ زبردستی ریپ کیا اور اس کی ویڈیو بھی بنائی،یہ بات میں نے سکیورٹی سپروائزرکو بتائی تو اس نے کہا کہ خاموشی اختیار کریں ورنہ آپ کو نوکری سے فارغ کردیا جائے گا بےعزتی کے ڈر سے خاموش رہی اور اس بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مرکزی ملزم نے مختلف اوقات میں مجھے زیادتی کا نشانہ بنایا۔
سکیورٹی سپروائزر کو بتایا تو اس وقت اس کے پاس ایک نامعلوم شخص بھی موجود تھا جو میرے ساتھ زبردستی کرتا رہا ایک موقع پر اس نے میرا سر پکڑ کر دیوار کے ساتھ مارا اور تشدد کا نشانہ بنا یا جس پر میں نے اپنے موبائل سے 15 پر کال کی اور پولیس نے آ کر مجھے نکالا اور پھر میرا خاوند بھی موقع پر پہنچ گیا تھا۔
دریں اثنا متاثرہ خاتون نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ وہ پولیس کے طلب کرنے پر ہمیشہ پیش ہوئی ہیں تاہم ملزمان بااثر لوگ ہیں جبکہ ہم بہت غریب لوگ ہیں مجھے نہیں پتا کب تک تھانے اور عدالتوں کے چکر لگا سکتی ہوں لیکن مجھے انصاف چاہیے۔
علاوہ ازیں مقدمہ میں نامزد واقعے کے مرکزی ملزم نے اپنے موقف میں کہا کہ 25 دسمبر کو وہ ہسپتال میں گئے ہی نہیں اور یہ سب کچھ ان کو بدنام کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے،میں نے خود کو تفتیش کے لیے پولیس اور ہسپتال انتظامیہ کے حوالے کیا ہے کہ وہ حقائق سامنے لائیں۔
اس واقعے کے حوالے سے چلڈرن ہسپتال فیصل آباد کے ڈین ڈاکٹرعبدالرازق نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ اس واقعے کے حوالے سے پنجاب حکومت نے بھی ہسپتال انتظامیہ سے جواب طلب کیا ہے۔
ہسپتال انتظامیہ نے ایک اعلیٰ سطح تحقیقاتی کمیٹی قائم کی اور ایک ابتدائی رپورٹ صوبائی حکومت کو بھجوا دی ہےتاہم ضمانت کے بعد سے تمام لوگ ابھی تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے ہیں، متاثرہ خاتون کو بھی کمیٹی نے طلب کیا ہے۔



