انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

پاکستان کسی رجیم چینج کا ارادہ نہیں رکھتا، واشنگٹن ٹائمز

افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ افغان عوام کے ہاتھ میں ہیں، تفصیلی تجزیہ

واشنگٹن (ویب ڈیسک) پاکستان کسی رجیم چینج کا ارادہ نہیں رکھتا، پاکستان کے مطابق افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ افغان عوام کے ہاتھ میں ہیں۔ غضبِ للحق کے تحت پاکستان، افغانستان میں فتنہ الخوارج اور ان کے سہولت کاروں کو انتہائی درستی سے نشانہ بنا رہا ہے۔
فوجی کارروائیوں میں 180دہشتگرد پناہ گاہیں اور 30سے زائد اجتماع گاہیں تباہ کی جا چکی ہیںـ پاکستان فیصلہ کن فوجی کاروائی کے ساتھ ساتھ ٹھوس سیاسی عمل کو ہی مسئلے کا پائیدار حل سمجھتا ہے۔
امریکی جریدے واشنگٹن ٹائمز کا آپریشن غضبِ للحق کا تفصیلی تجزیہ سامنے آیا ہے ۔ واشنگٹن ٹائمز کے مطابق آپریشن سرحد پار خطرات کے خلاف فوجی کاروائی کی پاکستانی صلاحیت کو آشکار کرتا ہے۔ غضبِ للحق کے تحت پاکستان، افغانستان میں فتنہ الخوارج اور ان کے سہولت کاروں کو انتہائی درستی سے نشانہ بنا رہا ہے۔ آپریشن ٹیکٹیکل کامیابیوں کے ساتھ ساتھ سویلین آبادی کے کم سے کم نقصان کو یقینی بنا رہا ہے۔
واشنگٹن ٹائمزکے مطابق فوجی کارروائی، سفارتکاری، سیاسی لائحہ عمل اور اقتصادی اقدامات ایک جامع حکمت عملی کے تحت بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ پاکستان وقتی کامیابی کے بجائے خطے میں ایک طویل المدتی استحکام کا خواہش مند ہے۔ پاکستان فیصلہ کن فوجی کارروائی کے ساتھ ساتھ ٹھوس سیاسی عمل کو ہی مسئلے کا پائیدار حل سمجھتا ہے۔ فوجی کارروائیوں میں 180دہشتگرد پناہ گاہیں اور 30سے زائد اجتماع گاہیں تباہ کی جا چکی ہیں۔
واشنگٹن ٹائمز کے مطابق غضبِ للحق نے سویلین آبادی کہ تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو موثر ضرب پہنچائی ہے۔ واشنگٹن ٹائمز کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کی زیر کمان افواج، اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے سفارتکاری اور گورننس کے لیے سازگار ماحول فراہم کر رہی ہیں۔
پاکستان موثر بارڈر کنٹرول اور علاقائی شراکت داروں کے تعاون سے غیر قانونی بارڈر کراسنگ پر قابو پا رہا ہے۔ پاکستان کے مطابق افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ افغان عوام کے ہاتھ میں ہیں۔
واشنگٹن ٹائمزکے مطابق پاکستان کسی رجیم چینج کا ارادہ نہیں رکھتا، پاکستان کے مطابق افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ افغان عوام کے ہاتھ میں ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت سول اداروں کی انسدادِ دہشتگردی کی صلاحیت میں اضافہ اور داخلی سیکیورٹی کے ڈھانچے کو سیاست سے پاک کر کے پاکستان فوجی کامیابی کو دیر پا امن میں تبدیل کر سکتا ہے۔ پاکستان کا فوجی کارروائی، سفارت کاری اور سماجی عمل کو ایک مربوط اور متوازن پالیسی میں یکجا کرنا، دنیا میں اپنائے جانے والی جابرانہ حکمت عملی کا مناسب متبادل ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button