
کراچی، اسلام آباد (ویب ڈیسک): چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے کہا ہے کہ انسدادِ بدعنوانی کی مہم میں تعاون کرنے والے افسران کی ہر ممکن حمایت کی جائے گی اور دیانت دار سرکاری ملازمین قومی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے سندھ کی صوبائی سول سروس کے تیسرے سینئر مینجمنٹ کورس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے خدمتِ عامہ، دیانت داری اور قومی مفاد کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ افسران کو اخلاقی اقدار، مضبوط کردار اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ذریعے اپنے پیش روؤں سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
چیئرمین نیب نے افسران کو بدعنوانی کے خلاف عدم برداشت کی پالیسی اپنانے، کرپشن کو مسترد کرنے اور سرکاری اثاثوں کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیح بنانے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ نیب بدعنوانی کے خاتمے کے لیے تعاون کرنے والے تمام افسران کے ساتھ کھڑا ہے۔
اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل آپریشنز امجد مجید اولکھ نے شرکا کو نیشنل اکاؤنٹیبلٹی آرڈیننس 1999، نیب کی تنظیمی ساخت، جاری اصلاحات، منی لانڈرنگ کیسز، بین الاقوامی معاہدوں اور ادارے کی مجموعی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی۔
انہوں نے بتایا کہ نیب نے گزشتہ تین برسوں کے دوران 14.485 ٹریلین روپے (51.73 ارب امریکی ڈالر) کی ریکارڈ ریکوریاں کی ہیں۔ ان کے مطابق ادارے کی موجودہ توجہ سرکاری اراضی و اثاثوں کی بازیابی، عوام کے ساتھ فراڈ کے مقدمات اور منی لانڈرنگ کے کیسز پر مرکوز ہے۔
تقریب کے اختتام پر سوال و جواب کی نشست بھی ہوئی، جس میں شرکا نے انتظامی نظام، احتسابی عمل اور کرپشن کے خاتمے کی حکمت عملی سے متعلق سوالات کیے، جن کے جوابات چیئرمین نیب اور ڈی جی آپریشنز نے دیے۔



