سعودیہ سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی
واشنگٹن، تہران ( ویب ڈیسک) امریکہ نے اپنی فوجی کارروائیاں مزید تیز کرتے ہوئے مسلسل 12ویں روز ایرانی فوجی اہداف پر فضائی حملے کئے ہیں۔ غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ کی ہدایت پر ایرانی فوجی اہداف کے خلاف نئی کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
جبکہ مقامی میڈیا کے مطابق ایران اور عراق کے درمیان واقع شلامچہ سرحدی گزرگاہ کے قریب ایک علاقے کو امریکی حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب امریکی اخبار نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ وائٹ ہائوس ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید توسیع پر غور کر رہا ہے جس کے پیش نظر امریکہ نے مشرق وسطی میں اضافی فوجی، طبی عملہ اور جدید ہتھیار منتقل کرنا شروع کر دئیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکی سپیشل آپریشنز فورسز خطے میں پہنچ چکی ہیں۔
جبکہ مشرقِ وسطی کے مختلف مقامات پر لڑاکا طیارے تعینات کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ اور برطانیہ میں موجود فضائی اڈوں پر بمبار طیاروں کو بھی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری کارروائی کی جا سکے۔ جبکہ امریکہ کی جانب سے کیے جانے والے سلسلہ وار حملوں کے بعد پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اردن اور کویت میں امریکی فوجی سازوسامان پر حملہ کر کے اسے تباہ کر دیا ہے۔ اہداف میں دفاعی نظام کے ریڈار، پیٹریاٹ سسٹم، ایک ہیلی کاپٹر ہینگر اور اسلحہ ڈپو شامل ہیں۔
ادھر عمان نے اعلان کیا ہے کہ وہ سعودی عرب، یمنی جماعتوں اور اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن کے ساتھ مل کر سیاسی عمل کو دوبارہ شروع کر رہا ہے جس کا مقصد خطے میں سلامتی اور استحکام حاصل کرنا ہے۔ مزید برآں پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے جنوب میں بارودی سرنگوں والے راستے سے گزرنے کی کوشش کے دوران تین میں سے ایک آئل ٹینکر میں دھماکے کے بعد آگ لگ گئی، جبکہ دیگر دو ٹینکر واپس مڑ گئے۔
غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز ایران کے کنٹرول میں ہے اور خطے میں امریکی سرگرمیوں کے باعث اسے مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا کہ ایران کی مرضی کے بغیر کسی بھی ٹینکر کو داخل ہونے یا وہاں سے گزرنے کی اجازت نہیں۔ مزید براں ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی حملے جاری رہے تو نئی حکمتِ عملی اپنائیں گے۔ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایران کی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈئیر جنرل امیر محمد اکرمینیا نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے جنوبی انفرا سٹرکچر پر امریکی حملے جاری رہے تو ملکی سیکیورٹی فورسز ایسی نئی حکمتِ عملیاں اور عسکری اقدامات اختیار کریں گے جن سے جارح قوتوں کے لیے جنگ جاری رکھنا ناممکن ہو جائے گا۔ انٹرویو میں امیر محمد اکرمینیا نے کہا کہ امریکی فریق کی جانب سے مفاہمتی یادداشت ( ایم او یو) کی خلاف ورزی کے بعد اب جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران کی مسلح افواج امریکی جارحیت کے جواب میں جوابی کارروائیاں کر رہی ہیں اور یہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی
جب تک امریکا ایران کے بنیادی ڈھانچے اور ساحلی علاقوں کو نشانہ بنانا بند نہیں کرتا۔ اکرمینیا نے کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات اور سرحدی سلامتی کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔مزید برآں ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور مذاکرات کار باقر قالیباف نے کہا ہے کہ خطے میں ہم تیل فروخت نہیں کریں گے تو کوئی بھی تیل فروخت نہیں کرے گا۔ جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی میں عراق کے ممکنہ کردار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان کافی ثالث موجود ہیں۔ ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے رپورٹر کے ایک سوال کے جواب میں عراقی وزیر اعظم علی زیدی کے حالیہ دورہ امریکہ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا عراقی وزیر اعظم نے واشنگٹن کا سفر کیا تھا۔ اس سفر سے ان کے خیالات اور تاثرات ہم تک پہنچانا فطری بات ہے۔ عباس عراقچی نے مزید کہا ہمیں فی الحال ثالثوں سے کوئی مسئلہ نہیں ہے؛ ہمارے درمیان کافی ممالک ہیں جو یہ کام کرتے ہیں، اور مسئلہ پیغامات کے تبادلے کا نہیں ہی، مسئلہ یہ ہے کہ وہ کس قسم کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔
عراقچی کے مطابق، مسئلہ امریکہ کا غیر منطقی، توسیع پسندانہ اور تسلط پسندانہ رویہ ہے، جس کا اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے فیصلہ کن ردعمل سامنے آیا ہے۔ عراقچی نے مزید کہا کہ کسی پیغام یا ردعمل کی ضرورت نہیں، یہ صرف امریکہ کے لیے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔ امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔ امریکی صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔ مزید برآں ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر یمن کے حوثیوں نے بحری جہازوں پر حملے دوبارہ جاری رکھے تو امریکہ اس کے لیے ایران کو ذمہ دار سمجھے گا اور تہران کے خلاف سخت فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں کہا کہ ایک سال قبل امریکہ نے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے اور عالمی تجارت میں مداخلت پر حوثیوں کے خلاف بھرپور فوجی کارروائی کی تھی۔ ان کے مطابق اس کے بعد، اور ایران کے ساتھ تنازع کے دوران بھی، حوثیوں نے نسبتاً ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا۔ تاہم ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ حوثیوں نے دوبارہ حملے شروع کر دئیے ہیں اور گزشتہ رات سعودی عرب کے دو جہازوں پر فائرنگ کی۔ انھوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسے حملے دوبارہ ہوئے تو امریکہ ایران کو اس کا ذمہ دار قرار دے گا کیونکہ حوثی ایران کے نمائندہ یا پراکسی کے طور پر کام کرتے ہیں۔ امریکی صدر نے کہا کہ ایسی صورت میں ایران کے ساتھ حوثیوں کو بھی سخت فوجی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مزید برآں امریکی وزیر خارجہ مارکوروبیو نے متنبہ کیا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کے ساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی۔ مارکو روبیو نے منیلا میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ ڈیل کی پاسداری کی۔
ایران اس وقت امریکہ کے ساتھ ڈیل کے لیے تیار نہیں، ممکن ہے کہ اگلے چند دن میں اپنا موقف تبدیل کر لے، انہوں نے ساتھ ہی خبردار کیا کہ صورتحال برقرار رہی تو ایران کو اس کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔ مارکو روبیو کا کہنا تھا جب بھی ایران، امریکہ ڈیل ہوتی ہے اسے ایران کو چلانے والے لوگ خراب کر دیتے ہیں، انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اب بھی ڈیل کے لیے براہِ راست اور بالواسطہ درخواستیں کر رہا ہے، ایران چاہے تو مشرق وسطیٰ کا امیر ترین ملک بن سکتا ہے لیکن اسے چلانے والے انتہا پسند مذہبی رہنماں کو معاشی معاملات کا علم ہی نہیں، انہیں دلچسپی حزب اللہ، حماس، حوثیوں اور دیگر ملیشیائوں کو رقومات دینے میں ہے جن کی سرپرستی میں دہشتگردی ہوتی ہے ۔ مارکو روبیو کا حوثیوں کے حوالے سے کہنا تھا کہ ایران نے حوثیوں کو اس تنازع میں شامل کر دیا ہے، اب دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے، امید ہے حوثی حملے روک دیں گے۔
مارکو روبیو نے سعودی عرب کو امریکہ کا اہم سٹریٹجک شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنا قابل فہم ہے، مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پر امن سول جوہری پروگرام چاہتا ہے، سعودی عرب یا دیگر ممالک کے ساتھ کسی بھی سول جوہری معاہدے میں حفاظتی اقدامات شامل ہوں گے، سول جوہری معاہدے کانگریس کی منظوری سے ہوں گے۔ مارکوروبیو کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عالمی فوجداری عدالت میں پاگل اور جنونی لوگ ہیں، امریکہ اس کا حصہ نہیں بنے گا، اگر اگر لوگ اس احمق تنظیم کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں لیکن ہم اس کا حصہ نہیں بنیں گے اور وہ امریکی شہریوں پر اپنے دائرہ اختیار کا اطلاق نہیں کر سکیں گے۔ یوکرین روس جنگ سے متعلق امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ روس یوکرین جنگ میں بہت خونریزی ہوئی، یوکرین نے اس کی بہت بھاری قیمت ادا کی ہے۔
امریکہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ چین کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔ ادھر عرب ممالک کی تنظم خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) نے ایران اور یمن کے حوثی گروپ پر خطے کی سلامتی اور عالمی بحری تجارت کو خطرے میں ڈالنے کا الزام عائد کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری اور موثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جی سی سی کے سیکرٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے کہا کہ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کے ساتھ ساتھ حوثیوں کی طرف سے باب المندب آبنائے کو بند کرنے کی دھمکیاں عالمی امن اور بین الاقوامی تجارت کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے یہ اقدامات بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہیں اس لیے عالمی برادری کو ان پر فوری احتساب اور سخت موقف اختیار کرنا چاہیے تاکہ بین الاقوامی قوانین، بحری راستوں کی آزادی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔



