پاکستانتازہ ترین

پٹرول 4.40 روپے، ڈیزل 3.62 روپے فی لٹر مہنگا، نئی قیمتیں نافذ، آئل ٹینکرز کی ہڑتال کی دھمکی

لاہور/اسلام آباد/کراچی(ویب ڈیسک ) وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق 24 جولائی سے پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اطلاق کر دیا گیا ہے، جبکہ دوسری جانب آئل ٹینکرز مالکان اور گڈز ٹرانسپورٹ الائنس نے اپنے مطالبات منظور نہ ہونے پر ملک گیر ہڑتال کی دھمکی دے دی ہے۔

پٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں

پٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق:

  • پٹرول: 4 روپے 40 پیسے فی لٹر اضافہ
  • نئی قیمت: 331 روپے 52 پیسے فی لٹر
  • ہائی اسپیڈ ڈیزل: 3 روپے 62 پیسے فی لٹر اضافہ
  • نئی قیمت: 378 روپے 66 پیسے فی لٹر

نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔

آئل ٹینکرز کا حکومت کو 72 گھنٹے کا الٹی میٹم

کراچی میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے آل پاکستان آئل ٹینکرز اونرز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے حکومت کو 72 گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال کی جائے گی۔

تنظیم کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ گزشتہ تین برس سے آئل ٹینکرز کے کرایوں میں اضافہ نہیں کیا گیا، جبکہ اس دوران موٹروے اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے ٹول ٹیکس میں تقریباً 180 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، جس سے ٹرانسپورٹ کا شعبہ شدید مالی دباؤ کا شکار ہے۔

ٹرانسپورٹرز کے اہم مطالبات

آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ:

  • وائٹ آئل پائپ لائن کے کوٹے پر نظرثانی کی جائے۔
  • کمرشل لوڈنگ کا نظام فوری طور پر ختم کیا جائے۔
  • ٹول ٹیکس میں اضافے کے تناسب سے آئل ٹینکرز کے کرایوں میں بھی اضافہ کیا جائے۔

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اگر مطالبات منظور نہ ہوئے تو ملک بھر میں آئل ٹینکرز کی نقل و حمل بند کر دی جائے گی، جس سے ایندھن کی ترسیل اور ملکی معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔

گڈز ٹرانسپورٹ الائنس نے بھی ہڑتال کا عندیہ دے دیا

دوسری جانب پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس نے بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کسی بھی وقت ملک گیر ہڑتال کی کال دینے کا عندیہ دیا ہے۔

الائنس کے صدر ملک شہزاد اعوان نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ٹرانسپورٹ کے شعبے کے لیے ناقابل برداشت ہو چکا ہے اور اس حوالے سے ملک بھر کی ٹرانسپورٹ تنظیموں سے مشاورت جاری ہے۔


Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button