لاہور(سلمان حسین) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے مون سون بارشوں کے پیش نظر اربن فلڈنگ، رودکوہی اور ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام انسانی اور مشینی وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث معمول سے زیادہ بارشوں کا خدشہ تھا، تاہم حکومت کے پیشگی اقدامات مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔
وزیراعلیٰ کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں مون سون بارشوں، نکاسی آب، ریسکیو انتظامات اور فلڈ مینجمنٹ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس میں متعلقہ محکموں نے بریفنگ دی۔
کرنٹ لگنے سے ہلاکتوں پر لیسکو اور بجلی کمپنیوں کو نوٹس
اجلاس میں وزیراعلیٰ نے بارشوں کے دوران کرنٹ لگنے سے ہونے والی ہلاکتوں پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لیسکو اور دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو فوری نوٹس لینے کی ہدایت کی۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کے کھمبوں پر لٹکتے تار شہریوں کی جانوں کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں، اس غفلت کا فوری سدباب کیا جائے۔
دریاؤں، ڈیموں اور بیراجوں پر نہانے پر پابندی
مریم نواز نے دریاؤں، ڈیموں اور بیراجوں پر نہانے پر سختی سے پابندی یقینی بنانے اور حساس مقامات کی ڈرونز کے ذریعے نگرانی کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو بارش، سیلاب اور ہنگامی صورتحال سے بروقت آگاہ رکھنے کے لیے مساجد، الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے مسلسل اعلانات کیے جائیں۔
خستہ عمارتیں خالی کرانے اور مین ہول محفوظ بنانے کا حکم
وزیراعلیٰ نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ خستہ حال عمارتوں کا فوری سروے کرکے انہیں رضاکارانہ طور پر خالی کرایا جائے، جبکہ مون سون کے دوران مین ہول، گٹروں اور کھلے گڑھوں کو محفوظ بنایا جائے تاکہ حادثات سے بچا جا سکے۔
انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو سیلابی پانی، ندی نالوں اور خطرناک مقامات پر جانے سے روکیں۔
کلینک آن ویلز اور فلڈ کنٹرول رومز فعال رکھنے کی ہدایت
مریم نواز نے متاثرہ علاقوں میں کلینک آن ویلز بھیجنے، سانپ کے کاٹنے کی ادویات اور پانی سے پھیلنے والی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے پیشگی انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے ہر ضلع میں 24 گھنٹے فعال مون سون فلڈ کنٹرول روم قائم رکھنے، ملتان اور ڈیرہ غازی خان میں بروقت انخلا کے انتظامات اور مری میں لینڈ سلائیڈنگ کے خدشے کے پیش نظر پیشگی حفاظتی اقدامات کا بھی حکم دیا۔
41 اضلاع میں نکاسی آب کا ریکارڈ آپریشن
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ پہلی مرتبہ پنجاب کے 41 اضلاع میں واسا کے دائرہ کار کو بڑھایا گیا، جہاں جدید ڈی واٹرنگ سیٹس، سکشن مشینیں اور دیگر مشینری فراہم کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ جہاں پہلے کئی دن تک پانی کھڑا رہتا تھا، اب وہاں چند گھنٹوں میں نکاسی آب ممکن ہوئی، جو متعلقہ اداروں کی مؤثر کارکردگی کا ثبوت ہے۔
لاہور، گجرات، سیالکوٹ اور جھنگ میں شہریوں کا اظہار اطمینان
اجلاس میں بتایا گیا کہ لاہور، گجرات، سیالکوٹ، جھنگ، تاج پورہ، قصور، شیخوپورہ، نارووال، مریدکے، ڈسکہ اور دیگر شہروں میں بارشی پانی کی تیز رفتار نکاسی سے شہریوں نے اطمینان کا اظہار کیا۔
گجرات، جھنگ، لاہور اور سیالکوٹ میں نئے پمپنگ آؤٹ واٹر ڈسپوزل اسٹیشنز کے باعث بارشی پانی کی نکاسی کا عمل پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز ہوا۔
343 ملی میٹر بارش کے باوجود لاہور میں ریکارڈ نکاسی آب
وزیراعلیٰ نے کہا کہ لاہور میں 48 گھنٹوں کے دوران 343 ملی میٹر بارش کے باوجود پانی کی بروقت نکاسی ممکن بنائی گئی، جبکہ بعض علاقوں میں ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں پانی صاف کر دیا گیا۔
انہوں نے واسا، ستھرا پنجاب، ریسکیو اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران و عملے کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ جدید ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور مؤثر ٹیم ورک کے باعث پنجاب میں گڈ گورننس کی عملی مثال قائم ہوئی ہے۔



