انٹر نیشنلتازہ ترینسائنس و ٹیکنالوجی

عالمی نظام میں تبدیلیاں شروع،آبنائے ہرمزسے ابھرنے والی چوتھی عالمی طاقت کون؟

ایران کی گرفت کوعارضی سمجھنا غلط،امریکہ کے سامنے مشکل انتخاب، چین،روس اور ایران مغرب کو دنیا کے 30فیصد تیل سے محروم کر دیں تو جھکاؤ ان کی طرف ہوجائے گا

واشنگٹن:(ویب ڈیسک) حالیہ برسوں میں یہی سمجھا جاتا رہا ہے کہ عالمی نظام تین طاقتوں امریکہ، چین اورروس کے گرد گھومتا ہے، اس تصور میں یہ فرض کیا گیا تھا کہ طاقت بنیادی طور پر معاشی حجم اور عسکری صلاحیت سے حاصل ہوتی ہے۔تاہم اب یہ مفروضہ درست نہیں رہا، ایران عالمی طاقت کے چوتھے مرکز کے طور پر تیزی سے ابھر رہا ہے۔

ایران معاشی یا عسکری لحاظ سے ان تینوں ممالک کے ہم پلہ نہیں، بلکہ کی اس کی طاقت عالمی معیشت میں توانائی کی سب سے اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول سے پیدا ہو رہی ہے۔دنیا کی کل سپلائی کا پانچواں حصہ تیل اور گیس کی ترسیل اسی گزرگاہ سے ہوتی ہے اور مستقبل قریب میں اس کا کوئی حقیقی متبادل موجود نہیں ہے۔

اگر ایران چند ماہ یا سال اپنا کنٹرول برقرار رکھتا ہے تو یہ پیشرفت عالمی نظام کو بدل دے گی۔ایسا سمجھنا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت عارضی ہے اور امریکی و اتحادی جلد صورتحال کو مستحکم کر لیں گے، بالکل غلط ہے۔ ایران کو اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کیلئے آبنائے ہرمز کو مکمل بند کرنے کی ضرورت نہیں، چند دنوں بعد کسی ایک جہاز کو نشانہ بنانا ہی کافی ہے۔جدید معیشتوں کو صرف تیل نہیں بلکہ بروقت اور مسلسل سپلائی درکار ہے، جب یہ تسلسل ٹوٹتا ہے توانشورنس مہنگی ہو جاتی ہے اور حکومتیں توانائی تک رسائی کو ایک پیچیدہ تزویراتی مسئلہ سمجھنے لگتی ہیں۔

امریکہ کو دوہرا مسئلہ درپیش ہے۔ آبنائے سے گزرنے والے جہاز کو حملوں سے بچانا جو مہنگا اور کل وقتی آپریشن ہے، جبکہ ایران کیلئےکبھی کبھار جہاز کو نشانہ بنانا ہی کافی ہے تاکہ عالمی سپلائی کی قابل اعتماد حیثیت پر سوال کھڑا ہو جائے۔اس صورت حال میں ایک نیا علاقائی نظام جنم لے گا،جس میں خلیجی ریاستیں تیل کی رسد پر اثر انداز ہونے والے فریق یعنی ایران کے ساتھ زیادہ ہم آہنگی پیدا کریں گی ۔چین کو ترقی برقرار رکھنے کیلئے خلیجی توانائی درکار ہے۔

روس کو زیادہ اور غیر مستحکم توانائی قیمتوں سے فائدہ ہوتا ہے جبکہ ایران کو آبنائے ہرمز میں اپنی پوزیشن سے اثر و رسوخ حاصل ہوتا ہے۔ان تینوں ممالک کو باقاعدہ اتحاد کی ضرورت نہیں، نظام کی ساخت خود انہیں ایک ہی سمت میں لے جاتی ہے اور اس طرح ایک نیا عالمی محور ابھرتا ہے۔تصور کریں کہ ایران دنیا کے 20فیصد تیل پر کنٹرول رکھتا ہو اور روس 11فیصد پر جبکہ چین اس سپلائی کا بڑا حصہ استعمال کرے تو یہ تینوں ممالک مغرب کو دنیا کے 30 فیصد تیل سے محروم کرنے کیلئے ایک کارٹل بنا سکتے ہیں جس کے نتائج تباہ کن ہوں گے، امریکہ اور یورپ کی طاقت میں تیزی سے کمی اور عالمی طاقت کا جھکاؤ چین، روس اور ایران کی طرف ہو جائے گا۔

امریکہ کے سامنے مشکل انتخاب ہے، یا تو آبنائے ہرمز پر دوبارہ کنٹرول کیلئے طویل المدتی آپریشن کرے، یا پھر نئے عالمی توانائی نظام کو قبول کرے جس میں اس کا کوئی عمل دخل نہیں ہوگا۔اگر وہ قبول کرتا ہے تو عالمی نظام ازسرنو تشکیل پائے گا اور ایران چوتھی عالمی طاقت کے طور پر ابھرے گا اور اگر امریکہ عسکری کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے ایک طویل اور مشکل جنگ کا سامنا ہوگا جس میں شکست کا امکان بھی موجود ہے۔یہ روایتی نہیں بلکہ دھارا تبدیل کرنے والی جنگ ہے، اگر یہ حالات چند برس بھی برقرار رہے تو عالمی نظام مستقل طور پر بدل جائے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button