بھارت کو شرمندگی،دبئی ائرشو میں جنگی طیارہ تیجس گرکرتباہ،پائلٹ ہلاک
دبئی:(حافظ زاہدعلی،ویب ڈیسک)بھارت کوایک اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ گیا،دبئی ائرشو میں جنگی طیارہ تیجس گرکرتباہ،پائلٹ ہلاک ہوگیا۔ حادثے کے سبب بھارتی فضائیہ کو ایک بار پھر عالمی سطح پر رسوائی کا سامنا ہے۔
دبئی میں انٹرنیشنل ایئرشو جاری ہے جس میں مختلف ممالک کے طیارے اور دیگر آلات پیش کیے گئے،شو میں فضائی کرتب دکھاتے ہوئے بھارت کا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا، طیارے کو حادثہ ایئرشو کے آخری روز پیش آیا جس کے فوری بعد ریسکیو آپریشن شروع کردیا گیا۔
ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طیارہ تکنیکی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہوا، حادثے کے بعد ایئر شو کو عارضی طور پر معطل کردیا گیا، گرنے والے طیارے کا پائلٹ ہلاک ہوگیا۔
کچھ دن قبل تیجس طیارے کا آئل بھی لیک ہوا تھا جس کی ویڈیو سامنے آئی تھی،بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی فضائیہ نے تیجس کے حادثے اور پائلٹ کی ہلاکت کی تصدیق کردی، طیارے کو حادثہ مقامی وقت کے مطابق 2 بج کر 10 منٹ پر پیش آیا۔
دبئی ایئر شو میں بڑی تعداد میں لوگ بیرونی حصے میں موجود طیاروں کے ڈسپلے دیکھنے کے لیے موجود تھے، حادثے کے بعد شو کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا اور شرکا کو مرکزی نمائشی ایریا میں واپس جانے کی ہدایت کی گئی۔
دوپہر کے ڈسپلے کے دوران بھارت کا لڑاکا طیارے کے گرنے سے شرکا میں خوف و ہراس پھیل گیا، تاہم فوری طور پر پائلٹ کے ہلاک ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ملی تھی۔ بعد ازاں پائلٹ کے بھی حادثے میں ہلاکت کی تصدیق ہوگئی۔
اس سے قبل، دبئی ایئرشو کے دوران بھارتی لڑاکا طیارے تیجس سے تیل لیک ہونے کی فوٹیج بھی وائرل ہوئی تھی۔
تیجس کا مطلب ہندی میں چمک یا درخشندگی ہے، بھارت میں ملکی سطح پر ڈیزائن اور تیار کیا گیا ایک لڑاکا طیارہ ہے جسے 2016 میں بھارتی فضائیہ میں شامل کیا گیا، تیجس کو ڈیزائن اور دیگر تکنیکی مسائل کا سامنا رہا ہے اور ایک وقت میں بھارتی بحریہ نے اسے زیادہ وزنی ہونے کی وجہ سے مسترد بھی کر دیا تھا۔
دو سالہ ایئر شو 17 سے 21 نومبر تک دبئی کے المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں منعقد ہو رہا ہے۔
شو کی ویب سائٹ کے مطابق اس میں 1,500 سے زائد نمائش کنندگان، 200 طیارے (فضائی مظاہروں اور جامد نمائش دونوں میں)، 12 کانفرنس ٹریکس اور 450 بین الاقوامی ماہرین شامل ہیں۔
تیجس کا یہ دوسرا معروف حادثہ ہے، پہلا حادثہ 2024 میں بھارت میں ایک مشق کے دوران پیش آیا تھا۔
تیجس ایم کے-1 اے لڑاکا طیارے بھارت کی فضائیہ کے کم ہوتے اسکواڈرنز کو مضبوط بنانے اور ’ پرانے’ ہوتے طیاروں کی جگہ لینے کے لیے انتہائی اہم ہیں، خصوصاً اس وقت جب چین کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت اور پاکستان کے لیے اس کی حمایت بھارت کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
تیجس طیاروں کی تیاری اور فراہمی میں تاخیر ہو رہی ہے کیونکہ جی ای کی جانب سے 2021 میں آرڈر کیے گئے 99 انجنوں میں سے صرف چار فراہم کیے گئے ہیں، کمپنی نے اس تاخیر کی وجہ کووڈ کے بعد پیدا ہونے والے سپلائی چین کے مسائل کو قرار دیا ہے۔



