خطرناک بیانیے، اندرونی اختلافات اور عالمی طاقتوں کے کھیل نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک منظم بحران میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہ صرف فوجی تصادم نہیں، بلکہ خوف، سرمایہ اور کنٹرول کا ایک پیچیدہ نظام ہے۔
ایک زمانے میں ایک وسیع و عریض بستی تھی جس کے عین درمیان ایک شاندار عمارت کھڑی تھی۔ یہ عمارت صرف اینٹوں اور پتھروں سے نہیں بنی تھی بلکہ تاریخ، ایمان اور مشترکہ شناخت سے جڑی ہوئی تھی۔ اس کے مکین مختلف کمروں میں رہتے تھے، ان کی زبانیں مختلف تھیں مگر ان کی اذان ایک تھی۔
پھر بستی کے باہر کچھ ایسے تاجر آ بیٹھے جو خریدتے نہیں تھے بلکہ حالات کو اس نہج تک لے جاتے تھے کہ چیزیں خود ان کے قبضے میں آ جائیں۔ یہ وہی تاجر تھے جنہوں نے خاموشی سے اس عمارت کے مکینوں کے درمیان اختلاف کا بیج بویا، پھر آہستہ آہستہ ان کے ذہنوں میں یہ خوف بٹھایا کہ اگر انہوں نے خود اس عمارت کو اپنے کنٹرول میں نہ رکھا تو کوئی اور آ کر اس پر قبضہ کر لے گا۔ اسی خوف کو بنیاد بنا کر انہوں نے ہر کمرے تک الگ الگ رسائی حاصل کی—کسی کو تحفظ کے نام پر، کسی کو طاقت کے نام پر اور کسی کو بقا کے نام پر اسلحہ فراہم کیا۔ ساتھ ہی خود کو ایک سیکیورٹی کمپنی کے طور پر پیش کیا جو ان سب کی حفاظت کی ذمہ دار ہوگی۔ اس تحفظ کے عوض کمیشن طے ہوا، معاہدے ہوئے اور مہنگا اسلحہ فروخت کیا گیا۔ یوں ایک ایسا ماحول تشکیل دیا گیا جس میں بظاہر سب کچھ دفاع اور سلامتی کے لیے تھا مگر حقیقت میں اعتماد کمزور اور فاصلے گہرے کیے جا رہے تھے۔
پھر ایک مرحلہ ایسا آیا جب یہی اسلحہ، جو کسی بیرونی خطرے کے خلاف استعمال ہونا تھا، انہی کمروں کے درمیان چلنے لگا۔ شبہ نے دشمنی کی شکل اختیار کی اور خوف نے فیصلہ سازی کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ وہ تاجر جو خود کو محافظ کہتے تھے، باہر بیٹھے رہے—نہ انہوں نے دیواروں کو بچایا، نہ خون کو روکا—وہ صرف اس لمحے کا انتظار کرتے رہے جب پوری عمارت ملبے کا ڈھیر بن جائے۔
یہ کہانی اب محض تمثیل نہیں رہی بلکہ موجودہ عالمی سیاست کی ایک جھلک بن چکی ہے۔ آج جب ہم مشرقِ وسطیٰ، ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو دیکھتے ہیں تو ہمیں صرف ایک جنگ نہیں بلکہ ایک مکمل نظام نظر آتا ہے جس میں فوجی تصادم، معیشت، ٹیکنالوجی اور بیانیہ سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
یہاں ایک اور اہم پہلو سامنے آتا ہے جو اس پورے منظر کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ ایران ایک ایسا ملک ہے جو برسوں سے سخت معاشی پابندیوں، محدود درآمدات و برآمدات، اور عالمی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ اس کے باوجود جب عالمی میڈیا، سوشل میڈیا اینالسٹس اور بین الاقوامی چینلز ایک ایسا چہرہ پیش کرتے ہیں جس میں ایران کو ایک غیر معمولی، تقریباً ناقابلِ یقین ٹیکنالوجی رکھنے والی طاقت کے طور پر دکھایا جاتا ہے—جو نہ صرف جدید دفاعی نظاموں کو چیلنج کر رہی ہے بلکہ امریکی تنصیبات اور خطے میں موجود مہنگے فوجی ڈھانچوں کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے—تو یہ تصویر خود کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔
کیونکہ تجزیہ کار یہ بھی جانتے ہیں کہ ہر ریاست کی ایک حد ہوتی ہے—معاشی، تکنیکی اور اسٹریٹیجک۔ پھر جب کوئی ریاست اپنی ان حدود سے آگے بڑھتی ہوئی دکھائی دے، ایسی کارروائیاں کرتی ہوئی نظر آئے جو بظاہر اس کی مجموعی صلاحیت سے زیادہ ہوں، تو سوال صرف اس کی طاقت کا نہیں رہتا بلکہ اس پورے منظرنامے کا ہو جاتا ہے۔
کیا یہ حملے واقعی صرف ایران کی اپنی حکمت عملی کا نتیجہ ہیں؟
یا اس کے پیچھے کوئی ایسا پیچیدہ کھیل ہے جس میں کچھ قوتیں یہ چاہتی ہیں کہ خطے میں موجود وہ تمام دفاعی نظام، وہ تمام مہنگی انسٹالیشنز جو برسوں سے قائم کی گئی تھیں، پہلے مفلوج ہوں، پھر اس کے بعد وہی ممالک ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہو جائیں؟
اسی تناظر میں اسرائیل کا کردار بھی ایک نئے زاویے سے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک ایسی طاقت جسے خطے میں ایک مستقل خوف کے طور پر پیش کیا گیا، ایک ایسی ٹیکنالوجی اور عسکری برتری کے ساتھ جو عرب دنیا کے لیے ایک مستقل دباؤ بنے، تاکہ وسائل سے مالا مال ریاستیں اپنی بقا کے لیے بیرونی سیکیورٹی پر انحصار کریں، مہنگے دفاعی معاہدے کریں اور عالمی اسلحہ مارکیٹ کا حصہ بنتی رہیں۔
یہاں ایک بار پھر وہی ماڈل سامنے آتا ہے—خوف پیدا کیا جاتا ہے، پھر اس کا حل بیچا جاتا ہے، پھر اسی حل پر انحصار کو مستقل بنا دیا جاتا ہے۔ مگر جب اسی نظام کے اندر کہیں کہیں دراڑیں دکھائی دینے لگیں، جب وہی دفاعی سسٹمز غیر مؤثر محسوس ہوں، جب طاقت کا توازن غیر متوقع انداز میں بدلتا ہوا نظر آئے، تو یہ سوال مزید گہرا ہو جاتا ہے کہ کیا یہ سب محض اتفاق ہے یا ایک کنٹرولڈ بیلنس جس کے ذریعے پورے خطے کو ایک مخصوص دائرے میں رکھا جا رہا ہے۔
اسی تناظر میں وہ بیانیہ ابھرتا ہے جسے مثبت انداز میں پیش کیا جاتا ہے، جہاں جنگ کو امن کے لیے ضروری قرار دیا جاتا ہے اور تباہی کو استحکام کا راستہ بتایا جاتا ہے، مگر زمینی حقیقت ایک مختلف تصویر پیش کرتی ہے جس میں اصل دشمن کی پہچان دھندلا دی جاتی ہے اور توجہ اندرونی اختلافات کی طرف موڑ دی جاتی ہے۔
جب ایک ایسا ماحول تشکیل دیا جائے کہ مسلمان خود ہی مسلمان کے خلاف کھڑا ہو جائے تو عالمی سطح پر یہ تصور مضبوط ہو جاتا ہے کہ یہ ایک داخلی مسئلہ ہے۔ اس کے بعد بیرونی مداخلت کو جواز مل جاتا ہے اور اسے امن کے قیام کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
یہی وہ ماڈل ہے جو تاریخ میں بارہا دہرایا گیا ہے۔ عراق، شام اور لیبیا اس کی واضح مثالیں ہیں جہاں عدم استحکام، اندرونی تقسیم اور بیرونی مفادات ایک ساتھ جڑتے گئے، اور نتیجہ ملبہ، بکھراؤ اور کنٹرول کی صورت میں سامنے آیا۔
اگر اس پورے منظر کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو یہ محض ایک جنگ نہیں بلکہ ایک منظم نظام دکھائی دیتا ہے جس میں پہلے خوف پیدا کیا جاتا ہے، پھر اس کا حل بیچا جاتا ہے اور پھر انحصار کو مستقل بنا دیا جاتا ہے۔ یہی سائیکل مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر دہرایا جا رہا ہے۔
اب سوال یہ نہیں رہا کہ کون لڑ رہا ہے بلکہ یہ ہے کہ یہ جنگ کس کی ہے اور اس کا انجام کس کے حق میں لکھا جا رہا ہے، کیونکہ تاریخ صرف یہ نہیں دیکھتی کہ عمارت کیسے گری بلکہ یہ بھی لکھتی ہے کہ اسے گرانے والے کون تھے اور خاموش رہنے والے کون۔



