ایک وقت تھا جب ہوا تازہ تھی کھانے پینے کی چیزوں میں ملاوٹ نہ ھونے کے برابر تھی خالص دودھ خالص دیسی گھی تھا دنیا نے ترقی کی سب زہریلا ہوگیا ہوا پانی پھل سبزیاں یہاں تک کہ پاسٹک کے چاول بھی آگئے ۔ زندگی میں سادگی تھی مگر اس سادگی میں ایک عجیب سا سکون بھی شامل تھا۔ لوگوں کے چہروں پر اطمینان نظر آتا تھا اور فطرت کے ساتھ انسان کا تعلق بہت مضبوط محسوس ہوتا تھا۔ صبح کا آغاز تازہ ہوا اور پرندوں کی آوازوں سے ہوتا تھا اور شامیں تھکن کے باوجود سکون کا پیغام لے کر آتی تھیں۔ اس زمانے میں سہولتیں کم تھیں مگر زندگی میں ایک توازن تھا جو آج کی تیز رفتار دنیا میں کہیں کھو گیا ہے۔
کبھی سردیوں میں ہلکی سی دھند میں بھی تازگی کا احساس ہوتا اس دھند کو سموگ نے آلیا کینسر نزلہ زکام کی طرح پھیلنے لگا ہمارے پیاروں کو ہم اپنی آنکھوں کے سامنے تڑپتا دیکھتے ہیں۔ یہ منظر صرف بیماری کا نہیں بلکہ اس بدلتی ہوئی دنیا کا دردناک عکس ہے جس میں ترقی کی قیمت انسان اپنی صحت اور سکون سے ادا کر رہا ہے۔ وہی فضا جو کبھی زندگی بخش محسوس ہوتی تھی اب بیماریوں کا سبب بننے لگی ہے۔ شہروں کی سڑکوں پر چلتے ہوئے دھواں اور گرد فضا کو اس قدر آلودہ کر چکے ہیں کہ سانس لینا بھی مشکل محسوس ہونے لگا ہے۔
انسان نے سہولتوں کے نام پر ایسی دوڑ شروع کر دی ہے جس کا اختتام نظر نہیں آتا۔ صنعتیں بڑھیں، گاڑیاں بڑھیں اور شہروں کا پھیلاؤ بڑھتا گیا۔ اس سب کے ساتھ فطرت آہستہ آہستہ پیچھے ہوتی چلی گئی۔ درختوں کی جگہ عمارتوں نے لے لی اور کھلی فضا کی جگہ دھوئیں اور شور نے گھیر لیا۔ اس ترقی کے سفر میں انسان نے شاید یہ سوچنے کی مہلت ہی نہیں لی کہ وہ اپنی آئندہ نسلوں کے لیے کس قسم کی دنیا چھوڑ رہا ہے۔
زندگی کے انداز بھی وقت کے ساتھ بدلتے گئے۔ ایک دور تھا جب گھروں میں لینڈ لائن فون ہوتا تھا۔ اس کی گھنٹی بجتی تو گھر کے ہر فرد کی توجہ اس طرف مبذول ہو جاتی تھی۔ لوگ سکون سے بیٹھ کر ایک دوسرے سے بات کرتے تھے اور گفتگو میں خلوص اور اپنائیت محسوس ہوتی تھی۔ پھر موبائل فون نے زندگی میں قدم رکھا اور رفتہ رفتہ ہر ہاتھ میں ایک سکرین آ گئی۔
پھر موبائل آیا اصل تباہی تب شروع ہوئی جب موبائل انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا آیا۔ سوندھی خوشبو والے اخبار کی جگہ جگمگاتی سکرینوں نے لے لی۔ وہ اخبار جو کبھی صبح کی چائے کے ساتھ پڑھا جاتا تھا اور جس کے اوراق پلٹنے سے ایک خاص سی خوشبو اٹھتی تھی اب آہستہ آہستہ یادوں کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ اس کی جگہ موبائل فون کی چمکتی ہوئی سکرین نے لے لی ہے جو ہر لمحہ انسان کی توجہ اپنی طرف کھینچتی رہتی ہے۔
بغیر کسی تار کے کہیں بھی کام کرنے والا موبائل ہماری زندگیوں میں زہر گھولنے آگیا۔ یہ آلہ بظاہر سہولت کا ذریعہ تھا مگر آہستہ آہستہ اس نے انسان کی زندگی کے بہت سے قیمتی لمحات کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ اب محفلوں میں بھی لوگ ایک دوسرے سے زیادہ اپنی سکرینوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔ گفتگو کم ہو گئی ہے اور خاموشی بڑھتی جا رہی ہے۔
پہلے اکا دکا سننے کو آتا کہ کہ کسی کو شوگر کی بیماری لاحق ہے اب ہر تیسرا بندہ اس مرض میں مبتلا ہے۔ یہ صرف ایک بیماری کا پھیلاؤ نہیں بلکہ اس بدلتی ہوئی طرز زندگی کی علامت ہے جس میں جسمانی حرکت کم اور ذہنی دباؤ زیادہ ہو گیا ہے۔ انسان کی زندگی جتنی تیز ہوئی ہے اس کے جسم اور ذہن پر بوجھ بھی اتنا ہی بڑھ گیا ہے۔
موبائلوں پہ چلتی ریلیز کی ایڈیکشین نے ہر طرف جال پھیلا دیا۔ چند لمحوں کی ویڈیوز اور مسلسل بدلتے مناظر انسان کو اس طرح اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں کہ وقت کا احساس ہی ختم ہو جاتا ہے۔ گھنٹوں گزر جاتے ہیں مگر انسان کو احساس نہیں ہوتا کہ اس نے اپنی زندگی کے کتنے قیمتی لمحے ایک سکرین کے حوالے کر دیے ہیں۔
سوشل میڈیا کے ذریعے دھڑا دھڑ ڈالر کمانے کے لالچ میں برا کانٹینٹ عام ہوگیا۔ شہرت اور دولت کی خواہش نے بہت سے لوگوں کو ایسے راستوں پر ڈال دیا ہے جہاں اخلاقی حدود کی پرواہ کم رہ جاتی ہے۔ زیادہ ویوز اور زیادہ فالوورز حاصل کرنے کی دوڑ میں ایسا مواد بھی پھیلنے لگا ہے جو معاشرے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
اچھی بات پھیلانے والے یوٹیوبرز بھی ہیں گوگل ہماری ماں اور چیٹ جی پی ٹی رازدان بن گیا۔ معلومات تک رسائی آسان ہو گئی ہے اور دنیا ایک کلک کی دوری پر آ گئی ہے۔ لوگ ہر سوال کا جواب انٹرنیٹ سے تلاش کر لیتے ہیں اور بہت سے معاملات میں یہی ٹیکنالوجی ان کا سب سے بڑا سہارا بن چکی ہے۔
لوگوں نے زندگی کے ہر مسئلے پر چیٹ جی پی ٹی سے مشورے کرنے شروع کردئیے اس کے نتیجے میں طلاق کی شرح میں مزید اضافہ ہوگیا۔ جب انسان اپنے قریبی رشتوں کے بجائے مشینوں سے رہنمائی لینے لگے تو تعلقات میں فاصلے پیدا ہونا فطری بات بن جاتی ہے۔ رشتے برداشت، گفتگو اور قربانی سے مضبوط ہوتے ہیں اور جب یہ عناصر کمزور پڑنے لگیں تو گھریلو زندگی میں دراڑیں پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔
دشمنیاں فرقہ واریت طوفان کی طرح معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے ۔ سوشل میڈیا کے میدان میں اختلافات اکثر شدت اختیار کر لیتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی باتیں بڑے تنازعات میں بدل جاتی ہیں۔ معاشرے میں برداشت کا دائرہ سکڑتا جا رہا ہے اور تقسیم کی دیواریں اونچی ہوتی جا رہی ہیں۔
ہر تہوار زیر بحث آگیا یہاں تک کہ عید الاضحٰی بھی میٹھی عید یعنی عیدالفطر کو کسی نے نہ چھیڑا عید میلادالنبی ﷺمنانے پر بھی لوگوں کو کنفیوز کرنا شروع کردیا گیا۔ وہ تہوار جو کبھی محبت اور اتحاد کی علامت تھے اب اختلافات کا موضوع بننے لگے ہیں۔ حالانکہ ان مواقع کا مقصد دلوں کو جوڑنا اور خوشیاں بانٹنا تھا۔
پہلے سب ہر مذہبی تہوار جوش وخروش سے مناتے۔ گلیوں میں رونق ہوتی تھی، گھروں میں خوشبوئیں بکھرتی تھیں اور دلوں میں ایک دوسرے کے لیے خلوص اور محبت ہوتی تھی۔ لوگ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے تھے اور تہواروں کے دن پورا معاشرہ ایک خاندان کی طرح نظر آتا تھا۔
آج کی دنیا میں ترقی کی رفتار بہت تیز ہے مگر اس رفتار میں انسان کہیں نہ کہیں اپنی اصل قدروں سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ فطرت کی تازگی، رشتوں کی مٹھاس اور معاشرتی ہم آہنگی وہ خزانے تھے جنہوں نے زندگی کو خوبصورت بنایا تھا۔ جب یہ چیزیں کمزور پڑنے لگیں تو ترقی کی چمک بھی دلوں کے اندھیرے کو دور نہیں کر سکتی۔ یہی احساس انسان کو بار بار ماضی کی طرف دیکھنے پر مجبور کرتا ہے جہاں زندگی شاید سادہ تھی مگر اس سادگی میں ایک ایسی خوشبو تھی جو آج کی تیز رفتار دنیا میں کہیں گم ہو گئی ہے۔



