انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاعلاقائی خبریں

ڈنکی موت کا کھیل،بھوک،پیاس،اندھی گولی انجام،سی این این اردوکے چشم کشا انکشافات

لاہور:(رپورٹ:محمد قیصر چوہان)ڈنکی لگا کر یورپ سمیت دیگر ممالک جانیوالوں کی اندھی گولیوں ،بھوک،پیاس سے ہلاکتوں اور بغیر کفن لاشوں جیسےچشم کشا انجام کا انکشاف ہواہے۔

کسی بھی شخص کو غیر قانونی طریقے سے پیدل ایران اور ترکی پھر وہاں سے کشتی میں سوار ہو کر سمندری راستے سے یونان یا اٹلی سمیت کسی اوریورپی ملک جانے کے عمل کو پنجابی میں ’ڈنکی‘ کہا جاتا ہے اور یہ کام کرنے والے افراد کو’ڈنکر ‘ کہا جاتا ہے ۔یہ لفظ زیادہ تر گجرات، سیالکوٹ اور گوجرانوالہ میں استعمال ہوتا ہے جبکہ بلوچستان کے راستے ایران جانے والوں کو وہاں کے انسانی سمگلرز ’مہمان‘ کہتے ہیں۔

DUNKEY-2

سی این این اردوڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق یونان بذریعہ سمندری سفر کیلئے چھوٹی کشتیاں استعمال ہوتی ہیں ان کشتیوں سے پنجابی لفظ ڈنکی بنا،پاکستانیوں کی اکثریت قرض لے کر ،گھر یا پھر زمین کاٹکڑا بیچ کر، ماں ، بہن اور بیوی کے زیور ات ، فروخت کر یورپ جاتے ہیں، ڈنکی کا نام لینا آسان ہے، لگانی بہت ہی مشکل ہے۔ڈنکی لگا کر یورپ جانے والے افرادکو موت کی شاہراہ سے گزرنا پڑتا ہے، ڈنکی لگا کر یورپ جانا خود کشی کے مترادف ہے۔بے روزگاری،معاشرتی عدم توازن ،راتوں رات امیر بننے کا خواب نوجونوں کو اس مہم جوئی پر اکساتا ہے اور وہ کسی ایسے ایجنٹ کی تلاش میںہوتے ہیں جوکسی طرح ان کو سمندر پار یورپ کی دنیا میں پہنچا دے

DAUD SULEMAN JAVED PRINCE
اوورسیزپاکستانی دائود سلیمان جاوید پرنس تفصیلات بتا رہے ہیں

19سال قبل ڈنگی لگا کریورپ جانے والے پاکستانی صوبہ پنجاب کے ضلع گجرات تحصیل کھاریاں کے معروف علاقےگوشت مارکیٹ میں پیدا ہونے والے اوورسیز پاکستانی داﺅدسلیمان جاوید پرنس نے انٹرویومیں چونکادینے والے انکشافات کئے ہیں،دائو سلیمان جاوید پرنس نے بتایا کہ یورپ کی ڈنکی موت کا کھیل ہے،انہوں نے بتایا کہ 2005 میں جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں پنجابی کا ایک جملہ ’بیچو مکان تے چلو یونان(مکان فروخت کرو اور یونان چلو) ایک رائج الوقت محاورے کی شکل اختیار کر چکا تھا ضلع گجرات میں یہ جملہ زبان زد عام تھا ان دنوں یورپ جانے کی خواہش ایک وبا کی صورت اختیار کرچکی تھی اور نوجوان اپنی ہر چیز داﺅپر لگا کر یورپ جانا چاہتے تھے، 2005 میں میرے دوست ندیم نے کہا کہ یار تم میرے ساتھ کراچی چلو میں ایجنٹ سے بات کرتا ہوں ۔اور یوں ہم کھاریاں سے کراچی کیلئے روانہ ہوئے۔پھرجان کی بازی لگاتے ہوئے انتہائی مشکل حالات میں بلوچستان کے راستے ایران ، وہاں سے ترکی اور پھر یونان پہنچے۔آج بھی جب میں یورپ کے اس غیر قانونی ڈنکی کے سفر بارے سوچتا ہوں تو میری روح کانپ اُٹھتی ہے۔کیونکہ میں نے یورپ کا یہ سفر ہر جانب ،ہر قدم موت سے آنکھ مچولی کھیلتے ہوئے کیا تھا۔

DUNKY-3

سی این این اردوکی رپورٹ کے مطابق ایجنٹ حضرات ڈنکی لگا کر یورپی ممالک جانے والے افراد کوانسان نہیں سمجھتے بلکہ وہ ان سے بھیڑ بکریوں جیسا سلوک کرتے ہیں ڈنکی کے ذریعے پنجاب سے یورپ جانے والوں کو قطعی بلوچستان ، ایران اور ترکی کے جغرافیائی حالات کا علم نہیں ہوتالہٰذا میدانوں کے رہنے والے یہ نوجوان جب خطرناک پہاڑی سلسلوں،صحراﺅں ،ندی نالوں اور جنگلوں میں میلوں پیدل چلتے ہیں تو ان میں کئی کسی حادثہ کا شکار ہوکر اپنی جان گنوا بیٹھتے ہیں اور جو زخمی ہو جا ئے، اسے بھی یہ ایجنٹ خود مار دیتے ہیں کیونکہ وہ اس سفر کے دشوار گزار راستوں کو عبور کرنے کے قابل نہیں رہتے۔

اوورسیز پاکستانی داﺅدسلیمان جاوید پرنس کے مطابق پیچھے ان کو چھوڑا نہیں جاسکتا اور یہ ایجنٹ اپنا وقت ضائع نہیں کرتے۔ ان کا کام ایک انسانی کھیپ کو ایران اور ترکی کی سرحد پر پہنچانا ہوتا ہے ،اس کے بعد سمندری سفر کے ذریعے یونان پہنچانا ہوتا ہے۔یورپ کے اس خطرناک سفر کے دوران ہم نے بلند وبالا پہاڑ وں ، جنگلوں، ندی نالوں کوعبور کیا۔اس دوران میں نے کئی خطرناک سانپ بھی دیکھے ،جن کے ڈسنے سے کئی افراد ہلاک ہوئے ۔ راستے میں لاوارث مرے ہوئے لوگوں کی لاشیں بھی دیکھیں۔

ایران سے ترکی جاتے ہوئے ڈنکر نے ہمیں مسلسل 32 گھنٹے پیدل چلایا۔اس دوران راستے میں بدبودار گندا پانی پینا پڑا۔میرے پاﺅ ں میں موچ آگئی تو درد کی شدت کی وجہ سے مجھ سے مزید چلا نہیں جا رہا تھا میں زمین پر بیٹھ گیا تو ایجنٹ نے مجھے کہا کہ جس طرھ بھی ہو سکے تم چلتے رہو ،ورنہ میں آپ کو راست میں ہی چھوڑ دوں گا ، واپس تم جا نہیں سکتے ۔

غربت اور موت کا خوف مجھے مسلسل چلنے پر مجبور کرتا رہا۔یورپ کے اس سفر کے دوران جو لوگ مرجاتے ہیں ان کو کفن تو کیا قبر بھی نصیب نہیں ہوتی، انسانیت کی جوتوہین ان ایجنٹوں کے ہاتھوں ہوتی ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ ترکی اور یونان کی سرحد پر ایسے قبرستان ہیں جہاں ہزاروں کی تعداد میں تارکین وطن کی قبریں ہیں۔

ان بے نام قبروں پر کوئی کتبہ نہیںلگا ہوا۔ان کا تعلق کس مذہب سے ہے ،کوئی تمیز نہیں۔خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کی لاشوں کو راہ چلتے ہوئے لوگ دفنا دیتے ہیں ان پہاڑی علاقوں میںبے پناہ افراد کی لاشوں کو نہ تو کفن نصیب ہوتا ہے اور نہ ہی قبر ملتی ہے۔نہ کسی کی نماز جنازہ پڑھائی جاتی ہے۔ڈنکی لگانے والے انسان کی زندگی بد تر ہوتی ہے،ہم راستے میں فروخت ہوتے جاتے ہیں۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد ہم فروخت ہوتے ہیں۔اس سفر کے دوران ہمیں کھانے کو کچھ نہیں ملتا۔

ڈنکرہمیں پہاڑوں میںبے یاروں مدد گار چھوڑ کر خودمحفوظ مقامات پر چلے جاتے ہیں،زیادہ تر سفر رات کو کیا جاتا ہے۔ ایران اور ترکی کے اندر ڈنکر ہمیں جانوروں کی مانند گاڑیوں میں ٹھونس کر کنٹینروں میں بند کرکے بھی لے جاتے تھے،بعض اوقات تہہ خانے میں بھی بند رکھتے تھے۔زندگی اور موت کے اس کھیل میںہم تین ملکوں کی بارڈر سیکورٹی فورسزکوچکما دے کر ایران، ترکی اور پھر یونان میںداخل ہوئے ۔کئی افراد بارڈر کو کراس کرتے ہوئے ان فورسز کی گولیوں کا نشانہ بن کر جاں بحق ہو جاتے ہیں۔

داﺅدسلیمان جاوید پرنس نے بتایا کہ پیسے میں بڑی طاقت ہےہم نے یونان میں موجود پاکستانی ایمبیسی کے افراد کورشوت دیکر اپنے پاسپورٹ کی تاریخ میں تبدیلی کراوئی ۔ یونان کی ایمیگریشن میں اپلائی کیا۔پھر جب انکوائری آئی تو ایک بار پھر پاکستانی ایمبیسی کے افراد کو رشوت دیکر انکوائری کلیئر کروائی۔ چھےسال یونان میں رہنے کے بعد میں فرانس چلا گیا۔

اوورسیز پاکستانی داﺅدسلیمان جاوید پرنس کے مطابق اکثر سننے کو ملتا ہے کہ یورپ جانے والے افراد کی کشتی کو حادثہ پیش آگیا جس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے،انسانی اسمگلر یا ایجنٹ حضرات جو ڈنکی لگانے والے افراد کو سبز باغ دکھاتے ہیںوہ جھوٹ پر مبنی ہوتے ہیں اگر یہ انسانی اسمگلر سچ بولیں تو کوئی بھی شخص موت کے راستے پر چل کر یورپ نہ جائے ۔

یورپ کے سفر کے دوران کشتی چوری کی ہوتی ہے ،اس کو چلانے والا بھی اناڑی ہوتا ہے اور پھر اوورلوڈنگ کی جاتی ہے پکڑے جانے کے خوف سے اناڑی ڈرایﺅرکشتی تیز رفتاری سے چلاتے ہیں جس کے سب حادثات رونما ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں درجنوں افراد سمندر میں ڈوب کر مرجاتے ہیں اس کے علاوہ ایران اور ترکی کے پہاڑی علاقوں میں گاڑیاں چلانے والے ڈرائیورز کی بڑی تعداد نشہ کرکے گاڑی چلاتے ہیں اکثر حادثات تیزرفتاری کے سبب خطرناک موڑ کاٹتے ہوئے پیش آتے ہیں ان حادثات میں بھی کئی لوگ جاں بحق ہوتے ہیں۔

ڈنکی لگا کر یورپ جانا ،زندگی اور موت کا کھیل ہے جو اس میں کامیاب ہوتا ہے وہ اپنی منزل پر پہنچ جاتا ہے جو ناکام ہوتا ہے وہ موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے۔ ڈنکی لگا کر یورپ جانے والے افراد کو ہر قدم پر مشکلات اور موت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایران اور ترکی میں غیر قانونی طور سفر کرتے ہوئے ان افراد کا واسطہ ایسے قبائل سے بھی پڑتاہے جو کہ ذرا سی بات پر ان کو مار ڈالتے ہیںان میں قابل ذکر ترکی، ایران اور عراق میںموجو کرد قبائل ہیں جو کہ خود علیحدگی چاہتے ہیں یہ کسی اجنبی کو اپنے علاقے میں برداشت نہیں کرتے۔ اور ان تارکین وطن کو ان کے علاقوں سے بھی گزرنا پڑتا ہے ۔

یہ علاقے موت کی وادی کہلاتے ہیںان کے علاوہ علیحدگی پسند تنظیموں اور فرقہ پرست دہشت گرد وں کی جانب سے دوسرے فرقے کے لوگوں کو ڈھونڈ کر مار دینے کا خطرہ علیحدہ اپنی جگہ موجود ہوتا ہے۔ ایران اور ترکی کی سرحد پر پہاڑی علاقوں میں بہت زیادہ سردی ہوتی ہے موسمیاتی خرابی، شدید سردی اور گنداپانی پینے سے کوئی شخص بیمار پڑ جائے تو اگر وہ یورپ کا سفر ادھورا چھوڑ کر واپس جانا چاہئے تو انسانی اسمگلر (ڈنکر) اس کو جان سے مار دیتے ہیںانانسانی اسمگلروں کوواپس جانے والوں سے دو خطرے ہوتے ہیں ،ایک تو یہ کہ واپس جانے والاپنجاب والے ایجنٹ کو پکڑوا نہ دے ،دوسرا جو پوری رقم انہوں نے ایڈوانس میں لی ہوتی ہے ،وہ واپس نہ کرنی پڑ جائے چناچہ وہ ایسے افراد کو باقی لوگوں کے سامنے کسی پہاڑ سےدھکا دے دیتے ہیں یا گولی مار دیتے ہیں کہ دوسرے اس سے عبرت پکڑیں اور واپس جانے کا خیال دل سے نکال دیں۔

کئی پاکستانی ترکی میں اغوا بھی ہوئے جہاں ان کی ویڈیوز بنا کر ان کے گھر والوں کو بھیجی گئیں کہ پیسے بھیجیں۔انسانی اسمگلر اکثر ظلم کرتے ہیں۔ پیسے چھین کر گھر والوں سے مزید پیسے منگوانے کو کہتے ہیں۔ اور کہتے ہیں تبھی آگے بھیجیں گے۔جنگل میں لٹیرے بھی ملتے ہیں جو چیزیں چھین لیتے ہیں۔کچھ لوگ ڈر کر، کچھ بھوک سے مر جاتے ہیں،کچھ پہاڑوں سے گر کر مر جاتے ہیں۔سرحدی فورسز کی جانب سے پکڑے جانے والے لوگوں پر جسمانی تشدد کیا جاتا ہے۔ ہنگری کی سرحد پر فورسز لوگوں پر تربیت یافتہ کتے چھوڑ دیتے ہیں۔ سردی میں سرحد عبور کرنے کی کوشش کرنے والے کی تارکین وطن کے جسمانی اعضا کو اتنا نقصان پہنچا کہ کاٹنے پڑے۔ جو لوگ مر جاتے ہیں ڈنکر انھیں وہیں کہیں جنگل میں پھینک جاتے ہیں کیونکہ وہ لاش ساتھ لے جانے کا رسک نہیں لے سکتے۔اسی لیے میں کہتاہوں کے ڈنکی لگا کر یورپ جانا خود کشی ہے۔

 

داﺅدسلیمان جاوید پرنس کے مطابق یہ تو بس خام خیالی ہے یورپ پہنچ کر ہرچیز بد ل جاتی ہے کئی سال تک ہم چھپ کر کام کرتے ہیں۔ ہمیں توہماری محنت کی پوری اجرت تک نہیںملتی۔مالک کا جب دل کرتا ہے اورجتنا دل کرتا ہے وہ پیسے دے دیتا ہے کیونکہ انھیں بھی پتا ہوتا ہے کہ یہ غیر قانونی تارکین وطن ہیں۔کئی لوگ چھ، سات مہینے تک کام کرتے ہیں، انھیں اجرت نہیں ملتی لیکن وہ ان کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کر سکتے۔ ہم پاکستان سے توبڑے بڑے خواب لے کر یورپ جاتے ہیں لیکن اس کی حقیقت بڑی المناک ہوتی ہے۔
جس دن ہماری دستاویز بن جاتی ہیں اور ہم لیگل ہوجاتے ہیں ،تو ہمیں اچھی نوکری بھی مل جاتی ہے اور پھر اس کام کی اجرت بھی پوری ملتی ہے جب ہم ٹیکس ادا کرتے ہیں تو ہمیں ہروہ سہولت ملتی ہے جو یورپ کے شہریوں کو ملتی ہے ،پھر جا کر سکون نصیب ہوتا ہے۔

نوجوان نسل ڈنکی لگا کر یا پھر اور کسی غیر قانونی طریقے سے یورپ جانے کی بجائے قانونی راستہ اپنائیں۔ اس طرح اگر ویزا نہیں بھی لگتا تو صرف ویزا فیس کی مد میں رقم ضائع ہو گی کم ازکم آپ کی جان تو محفوظ رہے گی،نوجوان تعلیم حاصل کرنے کےساتھ ساتھ ہنر مند بنیں ۔حکومت کو بھی چاہئے کہ ٹیکنیکل ایجوکیشن کو فروغ دیں ،زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو ہنر مند بنائیں اور اووسیز اپلائمنٹ کے ذریعے نوجوان نسل کو باعزت طریقے سے بیرون ملک بجھوایا جائے۔

دوسری جانب تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ پاکستان سےہزاروں لوگ ڈنکی لگا کر موت سے جیت کر یورپ پہنچتے ہیں اور پھر وہاں پر دن رات انتھک محنت کرکے پیسے کماتے ہیں۔وہ ان پیسوں سے اپنے آبائی وطن پاکستان میں زمین اور جائیداد یں خریدتے ہیں۔ بدقسمتی سے ان کی املاک پر قبضہ ہو جاتا ہے، پاکستان میں لینڈ مافیا بہت فعال اور حکومتوں سے زیادہ طاقتور ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے گروہ متحرک ہیں جو کہ اوورسیز پاکستانیوں کی جمع پونجی کھا جاتے ہیں۔

ملک میں منظم قبضہ گروہ ہیں جنہیں با اثر افراد کی حمایت حاصل ہوتی ہے اور بعض اوقات تو ایسے افراد کی سیاسی وابستگیاں بھی ہوتی ہیں۔ جائیدادوں پر قبضوں کے واقعات میں قریبی رشتے داروں کے ساتھ ساتھ قبضہ مافیا کے لوگ بھی شامل ہوتے ہیں اور محکمہ مال کے افراد بھی ان کی معاونت کرتے ہیں۔زمینوں پر قبضے کے لیے جعل سازی سے نقلی کاغذات تیار کیے جاتے ہیں اور زمینوں کو فروخت کر دیا جاتا ہے۔ جبکہ اوورسیز پاکستانی ملک سے باہر اس ساری صورت حال سے لا علم ہوتے ہیں۔ دوسری جانب کوئی عام شہری نقلی کاغذات پر جائیداد خرید لیتا ہے اور پھر دونوں ایسے افراد آپس میں قانونی معاملات میں الجھ جاتے جنہیں قبضہ گروہ نے دھوکا دیا ہوتا ہے۔

پاکستان میں زمینوں پر قبضے کے قانون کو سخت کرنے اور سزائیں بڑھانے کی ضرورت ہے کیونکہ قانون میں قبضہ گروپوں کی سزا بہت معمولی ہے۔اوورسیز پاکستانیوں کے لیے قومی اسمبلی سے نئے سرے سے قانون سازی کی ضرورت ہے۔ قابضین کو سخت سزائیں ملنی چاہئیں کیوں نکہ لینڈ مافیا کی جڑیں بہت مضبوط ہیں اور اوورسیز پاکستانیوں کی املاک ان کیلئے آسان ترین ہدف ہیں۔

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو آن لائن پورٹل کی سہولت میسر ہیں۔جس پر اوورسیز پاکستانی اپنی درخواست رجسٹر کرا تے ہیںاور وہ اپنی ملکیت سے متعلق دستاویزات بھی اس پر اپ لوڈ کر تے ہیں لیکن اس کے باوجود اوورسیز پاکستانیوں کو انصاف نہیں ملتا۔ اوور سیز پاکستانی اپنے خون پسینے کی کمائی پاکستان بجھواکرپاکستانی معیشت کومضبوط بنانے میں اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں موجود ان کی زمینوں اور جائیدادوں کو کوئی تحفظ حاصل نہیںہے۔پاکستانی حکومت کو چاہئے کہ وہ اوورسیز پاکستانیوں کی املاک کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے سخت قانون سازی کرے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button