پاکستانتازہ ترینجرم-وسزا

DSPکا مزید جسمانی ریمانڈ،دفعہ 302 تاحال شامل نہ ہوسکی

شواہد مٹانے کے الزام میں ملزم کادوست اور باورچی گرفتار،مقتولین کے فون برآمد

لاہور (بیورو چیف/سید ظہیر نقوی)لاہور میں اپنی بیوی اور بیٹی کو قتل کرنے والے ڈی ایس پی کو عدالت میں پیش کردیا گیا۔ اپنی اہلیہ اور بیٹی کو قتل کرنے والے ڈی ایس پی عثمان حیدر کو مدعیوں کو دھمکیاں دینے کے مقدمے میں کینٹ کچہری میں پیش کیا گیا۔
پولیس نے ملزم کو جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر جوڈیشل مجسٹریٹ علی اکبر کی عدالت میں پیش کیا۔ تفتیشی افسر انسپکٹر عالم نے عدالت کو بتایا کہ ملزم سے کیس کے حوالے سے مزید تفتیش درکار ہے۔بعد ازاں عدالت نے ملزم کا مزید 3 روز کا جسمانی ریمانڈ دیدیا۔ پولیس کے مطابق قتل کے بعد شواہد مٹانے اور تفتیش کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم جدید تفتیش کے نتیجے میں اہم حقائق سامنے آ گئے ہیں۔
لاہور میں ڈی ایس پی عثمان حیدر کی بیوی اور بیٹی کے قتل کے معاملے میں پولیس نے دو مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس کے مطابق زیر حراست افراد میں ڈی ایس پی کا قریبی دوست شیراز عرف بوبی اور ایک باورچی شامل ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کے بعد ڈی ایس پی نے اپنے دوست شیراز عرف بوبی اور باورچی کو فون کیا اور مقتولہ بیوی اور بیٹی کے موبائل فون ان کے حوالے کئے۔
تفتیش کے مطابق باورچی نے مقتولہ بیٹی کا موبائل فون لے کر گجومتہ کا رخ کیا، جبکہ شیراز عرف بوبی مقتولہ بیوی کا موبائل فون لے کر غالب مارکیٹ کی جانب چلا گیا۔دریں اثنا پولیس تاحال ڈی ایس پی عثمان حیدر کے خلاف قتل کا مقدمہ درج نہیںکر سکی۔
پولیس کے اعلیٰ افسران ڈی ایس پی کے خلاف 302 کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے میں شش و پنج کا شکار ہیں۔4روزگزرنے کے باوجود پولیس اور پراسیکیوشن کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔ گزشتہ روز پولیس مدعی خاتون کو لے کر پراسیکیوٹر جنرل کے پاس بھی پیش ہوئی ، تاہم پراسیکیوشن کے 2 سرکاری وکلا بھی تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچے سکے ہیں۔
پولیس نے فی الحال مدعی پارٹی کی اندراج مقدمہ درخواست بھی وصول نہیں کی ہے۔ واضح رہے کہ مقتولین کی شناخت لواحقین کے ڈی این اے ٹیسٹ سے ہوئی تھی اور پولیس کے پاس صرف ڈی ایس پی کا اعتراف جرم کا بیان ہے ۔
مقتولین کے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی تھی جبکہ پولیس نے تاحال لواحقین کو لاشیں بھی وصول نہیں کروائی ہیں۔ مدعیہ کا الزام ہے کہ پولیس 3 روز سے اعلیٰ افسران کے دفاتر کے چکر لگوا رہی ہے اور ہمیں کچھ نہیں بتایا جارہاہے کہ پولیس نے عثمان حیدر کے ساتھ کیا کرنا ہے ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button