لاہور:(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی) ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشنل ریسرچ (آئی ای آر) پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹرعبدالقیوم نے اپنے خلاف لگائے گئے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے تردید کر دی ہے۔ ڈاکٹرعبدالقیوم کا کہنا ہے کہ ان کی تعیناتی، ڈگریاں اور سنیارٹی مکمل طور پر میرٹ اور یونیورسٹی قوانین کے مطابق ہیں۔

ڈائریکٹر آئی ای آر پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹرعبدالقیوم نمائندہ سی این این اردوڈاٹ کام سید ظہیر نقوی کو تفصیلات بتا رہے ہیں
سی این این اردوڈاٹ کام سے خصوصی گفتگو میں انہوں نے واضح کیا کہ گورنر پنجاب، رجسٹرار پنجاب یونیورسٹی، کنٹرولر امتحانات اور ہائی کورٹ کے احکامات کے مطابق ان کا کیس کلیئر ہے اور ان پر عائد کیے گئے الزامات حقائق کے برعکس ہیں۔ ڈاکٹرعبدالقیوم کے مطابق ان کی تمام تعلیمی اسناد یونیورسٹی کے طے شدہ قوانین اور طریقہ کار کے عین مطابق منظور شدہ ہیں، جبکہ ان کی سروس سنیارٹی بھی مکمل طور پر قانونی تقاضوں کے تحت ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض عناصر ذاتی مفادات کے تحت منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ ڈاکٹرعبدالقیوم نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ حقائق سامنے آنے پر تمام غلط فہمیاں دور ہو جائیں گی۔
دریں اثنا طلبااور دیگر اساتذہ کا کہنا ہے کہ پنجاب یونیورسٹی کے ادارہ علم و تحقیق کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عبدالقیوم چوہدری ایک تجربہ کار اور معتبر پروفیسر ہیں جو پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھتے ہیں ان کی ڈگری PhD in Education ہے جیسا کہ ان کے جیورنل رابطہ صفحہ اور یونیورسٹی دستاویزات میں درج ہے۔ عبدالقیوم نہ صرف ڈائریکٹر، ادارہ تعلیم و تحقیق پنجاب یونیورسٹی، لاہور میں خدمات انجام دے رہے ہیں بلکہ چیئرمین شعبہ ابتدائی تعلیم (Elementary Education) بھی ہیں، جہاں وہ نصابی اور تحقیقی پروگراموں کی قیادت کرتے ہیں۔
ان کا نام ریسرچ جرنل “Journal of Elementary Education” کے چیف ایڈیٹر اور PhD ایجوکیشن کے ساتھ منسلک ہے، جو ان کی تعلیم اور تحقیقی صلاحیتوں کی تصدیق کرتا ہے، ڈاکٹر عبدالقیوم چوہدری نے تعلیم کے اعلیٰ شعبے میں کئی تحقیقاتی کام، کانفرنسز اور ورکشاپس کا اہتمام اور قیادت کی ہے، جو تعلیمی معیار کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
انہیں USAID پاکستان کی جانب سے ”شیلڈ آف ایکسیلنس“ بھی دیا گیا ہے، جو ان کی خدمات اور علمی خدمات کی ایک مثبت تسلیم ہے، انہوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی کانفرنسز اور ورکشاپس میں حصہ لیا اور انہیں منظم بھی کیا ہے انہوں نے کئی طلبہ کو تحقیقی اور پیشہ ورانہ مواقع فراہم کیے ہیں۔



