میرے لاہور کے باغات ۔۔
شہر رومان لاہور صرف گوشت پوست کے انسانوں کا مسکن نہیں ہے بلکہ ایک دبستان ہے شہر ادب ہے دریائے ایرا وتی کے کنارے جب بھگوان رام کے بیٹے راجہ لہو نے ایک بستی بسائی تو اس کا نام لہو چند سے لاہور پڑ گیا اس لہو چند کے نام کا مندر اج بھی شاہی قلعہ لاہور میں موجود ہے۔
دریا کنارے ہمشہ سے ایک تہذیب پنپتی ہے ایک ثقافت کا ظہور ہوتا ہے یوں صدیوں پہلے جس لہو چند نے ایراوتی کنارے جو بستی بسائی تھی وہ لاہور کے نام سے دنیا بھر میں معروف ہے اور ایراوتی اب راوی کہلاتا ہے ، اسی راوی کنارے سن 1936۔37 میں آل انڈیا نیشنل کانگریس کا بہت بڑا کنونشن ہوا پھر 1940 میں منٹو پارک مسلم لیگ کا جلسہ عام ہوا تب منٹو پارک مینارپاکستان نہیں بنا تھا ، لاہور ایک دبستان ہے جہاں اردو اور پنجابی زبان و ادب کا چلن ہمیشہ سے رہا یہ درست ہے اردو کا ارتقا لکھنو میں ہوا مگر ترویج لاہور میں ہوئی ۔
اسی شہر رومانس نے اردو کے جرائد اور کتابیں شائع کیں جب تک یوپی کے ادیبوں کی تخلیقات لاہور کے جرائد، فنون ، سویرا، ادب لطیف ، ہمایوں میں شائع نہیں ہوتے تھے تب تک انکی پذایرئی نہیں ہوتی تھی یہی وجہ ہے کہ بلند شہر کے انتظار حسین ہوں یا پانی پت کے ڈاکٹر مبشر حسن ہا راجستھان کے ڈاکٹر مبارک علی ہجرت کے بعد ان کا مسکن دبستان لاہور ہی رہا۔
ایک زمانہ تھا لاہور کی سیاست فخر زمان ،سلمان تاثیر، ڈاکٹر مبشر حسن، شیخ رشید ،پرویز صالح، الطاف قریشی ،حنیف رامے جیسے اہل دانش کے ہاتھ میں تھی ، صحافت میں حسین نقی ،آئی اے رحمان ،حمید اختر ،احمد ندیم قاسمی، احمد بشیر کا طوطی بولتا تھا ، پاک ٹی ہائوس میں ناصر بشیر، انتظار حسین، زاہد ڈار ،سعادت حسن منٹو دی گریٹ جیسی ہستیاں براجمان ہوتی تھیں ۔
حلقہ ارباب ذوق انجمن ترقی پسند مصنفین کے اجلاسوں میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی ٹی ہاوس وائی ایم سی اے کے ہال گواہ ہیں ، لاہور کے نگار خانے آباد تھے وحید مراد ،ندیم ،محمد علی، شاہد اردو فلموں کے یوسف خان ،لالہ سدھیر، منور ظریف پنجابی فلموں کے افق پر چھائے ہوئے تھے ریاض شاہد، خواجہ خورشید انور خریں قادری جیسے نابغہ روزگار نگار خانوں کی رونق تھے۔
لاہور ہائی کوٹ کے برگد کے درخت کے نیچے عابد حسن منٹو ہوتے تھے میاں جہانگیر جیسے نظریاتی کارکن تھے، گئے دنوں کے لاہور کی جھلک میرا ناہر کی فلم ارتھ 1947 میں دیکھی جا سکتی ہے جہاں لاہور کے چائے خانوں اور باغات میں مسلمان ہندو سکھ مسیحی پارسی بیٹھ کر ادبی سیاسی تاریخی مباحثے کیا کرتے تھے ۔
یہ میرا ناہر وہی فلم میکر ہیں جو زہران ممدانی کی والدہ ہیں ، خیر وقت بدلتا گیا لاہور کی ہیت بدلی اس شہر کے باسیوں کا مزاج بھی ادب صحافت سیاست کے مرکز کی ساخت کو پہلی ٹھیس اسی کی دہائی میں آمر جنرل ضیالحق نے لگائی جس نے سیاسی اور صحافتی کلچر کو بدل ڈلا نظریاتی اور اہل علم کی جگہ موقع پرستوں کو قبضہ ہوا تو اس شہر کی تاریخی ادبی ساخت بھی بدل گئی ۔
کچھ دیوانے اب بھی ٹی ہائوس میں بیٹھ کر دبستان کی شمع جلائے رکھے ہیں اردو صحافت زوال پزیر ہے اردو پنجابی ادب کی کتب کی اشاعت کر دہ کتب خانوں حلقہ ارباب ذوق انجمن ترقی پسند مصنفین اور پنجابی ادبی سنگت نے زندہ رکھا ہوا ہے ، ایک ظلم جو لاہور کے فارم 47 کے حکمران اس شہر کے تاریخی باغات موچی دروازے اور ناصر باغ کے ساتھ کرنے جا رہے وہ یہ ثابت کرتا کہ یہ فارم 47 والے تاریخ ادب اور ثقافت سے بے بہرہ ہیں۔
موچی دروازہ کا میدان اور ناصر باغ صرف گھاس پوس کے میدان نہیں اس شہر رومان کی تاریخ ہیں تہذیب ہیں ثقافت ہیں جس نے اس شہر رومان کو دیکھا ہے اس نے لاہور دیکھا ہے مگر جب علم وادب سے نابلد لوگ شہر اور ملک پر قابض ہو جائیں تب باغات اجڑ جاتے ہیں وہاں پارکنگ پلازے بن جاتے ہیں جس کے اندر کروڑ وں روپے کی کاریں کھڑی ہوتی ہےاندرغیر معقول بندے بیٹھے ہوتےہیں۔



