انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینصحتکالم

وہم،خوف اور انسان

عقیل انجم اعوان

انسانی ذہن بظاہر ایک منظم منطقی اور حقیقت پسند نظام دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے اندر ایک ایسی دنیا بھی آباد ہوتی ہے جہاں خیالات، خوف، یادیں اور خواہشات مل کر وہ تصویریں بناتے ہیں جو ہمیشہ حقیقت پر مبنی نہیں ہوتیں۔ انہی تصویروں کو ہم وہم کہتے ہیں۔ وہم انسان کی سوچ کا وہ رخ ہے جہاں حقیقت اور تصور کے درمیان فاصلہ دھندلا جاتا ہے۔ یہ وہم صرف ذہنی مریضوں تک محدود نہیں بلکہ ہر انسان کے اندر کسی نہ کسی سطح پر موجود ہوتا ہے۔ فرق صرف شدت اور اثر کا ہوتا ہے۔ کچھ لوگ ان وہموں کو پہچان لیتے ہیں اور کچھ انہی کے سہارے زندگی گزارنے لگتے ہیں۔

وہم دراصل انسان کی کمزوریوں، خوف اور عدمِ تحفظ کا عکس ہوتے ہیں۔ جب انسان خود کو کمزور محسوس کرتا ہے، جب اسے لگتا ہے کہ دنیا اس کے خلاف ہے، جب وہ تنہائی یا محرومی کا شکار ہوتا ہے تو اس کا ذہن ایسی تشریحات گھڑ لیتا ہے جو اسے وقتی سہارا تو دیتی ہیں مگر آہستہ آہستہ اسے حقیقت سے دور کر دیتی ہیں۔ کوئی یہ وہم پال لیتا ہے کہ لوگ اس کے بارے میں باتیں کر رہے ہیں، کوئی یہ یقین کر لیتا ہے کہ اس کے ساتھ ہونے والی ہر ناکامی کسی سازش کا نتیجہ ہے، اور کوئی خود کو غیر معمولی سمجھنے لگتا ہے تاکہ اپنے اندر کے خوف کو چھپا سکے۔

انسانی وہم کی ایک بڑی بنیاد خوف ہے۔ موت کا خوف، ناکامی کا خوف، تنہائی کا خوف، نظرانداز ہو جانے کا خوف۔ یہی خوف ذہن میں ایسے خیالات پیدا کرتا ہے جو بار بار دہرائے جانے سے سچ کا روپ دھار لیتے ہیں۔ کچھ لوگ معمولی جسمانی علامات کو مہلک بیماری سمجھ لیتے ہیں اور زندگی بھر اسی اندیشے میں مبتلا رہتے ہیں۔ کچھ افراد ہر وقت یہ سوچتے رہتے ہیں کہ ان پر کوئی نظر رکھے ہوئے ہے یا کوئی ان کے خلاف منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ یہ وہم انسان کی ذہنی صحت کو خاموشی سے کھا جاتے ہیں اور اسے مستقل اضطراب میں مبتلا رکھتے ہیں۔

تعلقات انسانی وہم کا سب سے حساس میدان ہیں۔ محبت، دوستی، ازدواجی رشتے اور خاندانی تعلقات سب وہم کی زد میں آ سکتے ہیں۔ محبت میں مبتلا انسان کبھی یہ وہم پال لیتا ہے کہ سامنے والا اس کے بغیر کچھ بھی نہیں، یا اس کی ہر خاموشی میں کوئی گہرا مطلب چھپا ہے۔ اسی طرح شک اور بدگمانی رشتوں کو آہستہ آہستہ زہر آلود کر دیتی ہے۔ ایک انسان بلا کسی ثبوت کے یہ مان لیتا ہے کہ دوسرا اسے دھوکہ دے رہا ہے، نتیجتاً اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔ جب فرد کی سطح پر اعتماد ٹوٹتا ہے تو اس کا اثر پورے معاشرے پر پڑتا ہے کیونکہ معاشرہ افراد کے اعتماد سے ہی جڑا ہوتا ہے۔
طاقت، اختیار اور شہرت سے جڑے وہم نہ صرف فرد بلکہ پورے سماج کو متاثر کرتے ہیں۔ جب کوئی شخص کسی عہدے، دولت یا اثر و رسوخ کے بعد یہ سمجھنے لگتا ہے کہ وہ عام انسانوں سے مختلف ہے تو اس کے فیصلوں میں توازن ختم ہو جاتا ہے۔ وہ خود کو عقلِ کل سمجھنے لگتا ہے اور اختلاف رائے کو دشمنی تصور کرتا ہے۔ تاریخ ایسے لوگوں سے بھری پڑی ہے جن کے وہمِ عظمت نے قوموں کو جنگوں، تباہی اور بربادی کی طرف دھکیل دیا۔ یہ وہم معاشرتی انصاف، قانون اور اخلاقیات کو کمزور کر دیتا ہے۔

علم اور ذہانت کے حوالے سے بھی وہم انسان کو گمراہ کرتے ہیں۔ کچھ لوگ تھوڑا سا علم حاصل کر کے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ سب کچھ جانتے ہیں۔ وہ دوسروں کی رائے سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور ہر اختلاف کو اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ اس رویے سے معاشرے میں فکری جمود پیدا ہوتا ہے۔ دوسری طرف کچھ افراد اپنی ذہانت کے بارے میں اس وہم کا شکار ہو جاتے ہیں کہ کوئی انہیں سمجھ ہی نہیں سکتا۔ نتیجتاً وہ تنہائی اختیار کر لیتے ہیں، جو وقت کے ساتھ ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل میں بدل جاتی ہے۔

وہم کا ایک بڑا اثر انسان کی عملی زندگی پر پڑتا ہے۔ وہم میں مبتلا انسان فیصلے جذبات کی بنیاد پر کرتا ہے، حقائق کی بنیاد پر نہیں۔ وہ مواقع کھو دیتا ہے، لوگوں سے دور ہو جاتا ہے اور اپنی صلاحیتوں کو شک اور خوف کی نذر کر دیتا ہے۔ کچھ لوگ یہ وہم پال لیتے ہیں کہ وہ ناکام ہیں، اس لیے کوشش ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ کچھ یہ مان لیتے ہیں کہ کامیابی صرف مخصوص لوگوں کے لیے ہے، اس لیے اپنی جدوجہد کو بے معنی سمجھنے لگتے ہیں۔

معاشرتی سطح پر وہم افواہوں، سازشی نظریات اور بداعتمادی کو جنم دیتے ہیں۔ جب لوگ بغیر تحقیق ہر بات پر یقین کرنے لگیں تو معاشرہ حقیقت کے بجائے افسانوں پر چلنے لگتا ہے۔ ایک جھوٹی خبر خوف پھیلا دیتی ہے، ایک بے بنیاد الزام نفرت کو جنم دیتا ہے، اور یوں معاشرہ تقسیم در تقسیم کا شکار ہو جاتا ہے۔ اصل مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور خیالی خطرات مرکزی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔

جدید دور میں ٹیکنالوجی نے انسانی وہم کو نئی شکلیں دے دی ہیں۔ اسکرین کے پیچھے موجود آوازیں، تحریریں اور مصنوعی گفتگو انسان کو یہ احساس دلاتی ہیں کہ وہ سمجھا جا رہا ہے اور اس کے خیالات کی تصدیق ہو رہی ہے۔ کچھ لوگ اس حد تک اس میں الجھ جاتے ہیں کہ حقیقی انسانوں سے تعلق کمزور پڑ جاتا ہے۔ یہ وہم کہ ہر سوال کا جواب ایک ہی ذریعے سے مل سکتا ہے، انسان کو فکری طور پر محدود اور جذباتی طور پر کمزور بنا دیتا ہے۔ تنہائی کے شکار افراد اس وہم کو حقیقت سمجھنے لگتے ہیں کہ یہی تعلق سب سے زیادہ خالص اور محفوظ ہے۔
روحانی اور مذہبی معاملات میں بھی وہم انسانی زندگی اور معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ جب کوئی فرد خود کو دوسروں سے زیادہ حق پر، زیادہ منتخب یا زیادہ پاک سمجھنے لگتا ہے تو برداشت ختم ہو جاتی ہے۔ اختلاف رائے گمراہی قرار پاتا ہے اور مکالمے کی جگہ نفرت لے لیتی ہے۔ ایسے وہم معاشرے کو تقسیم کر دیتے ہیں اور تشدد، تعصب اور عدم برداشت کو فروغ دیتے ہیں۔

انسانی وہم کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ انسان خود کو درست سمجھنے لگتا ہے اور اپنی سوچ پر سوال کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ جب سوال ختم ہو جائیں تو اصلاح کا دروازہ بھی بند ہو جاتا ہے۔ وہم حقیقت بننے لگتا ہے اور انسان آہستہ آہستہ اپنی ہی بنائی ہوئی دنیا میں قید ہو جاتا ہے۔ اس قید سے نکلنا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ ہر مخالف آواز دشمن محسوس ہوتی ہے۔

اس کے باوجود وہم صرف تباہی نہیں، اگر انسان ان کو سمجھ لے۔ وہم دراصل انسان کی اندرونی حالت کا آئینہ ہوتے ہیں۔ یہ بتاتے ہیں کہ ہم کہاں خوف زدہ ہیں، کہاں عدمِ تحفظ کا شکار ہیں اور کہاں ہمیں سہارا درکار ہے۔ اگر فرد اپنی سوچ پر سوال کرنا سیکھ لے، اختلاف کو برداشت کرے اور حقیقت کو جانچنے کی عادت اپنائے تو وہم کمزور پڑ جاتے ہیں۔ اسی طرح معاشرہ اگر مکالمے، تحقیق اور برداشت کو فروغ دے تو اجتماعی وہم بھی دم توڑنے لگتے ہیں۔

ایک صحت مند زندگی اور متوازن معاشرہ وہی ہے جہاں انسان خود کو کامل نہ سمجھے، اپنی رائے کو آخری سچ نہ مانے اور دوسروں کی بات سننے کا حوصلہ رکھے۔ وہم انسان کی فطرت کا حصہ ہیں، مگر ان کے غلام بن جانا انسان اور معاشرے دونوں کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ اصل دانش یہی ہے کہ انسان اپنے ذہن کے اندھیروں کو پہچانے، ان کا سامنا کرے اور حقیقت کی روشنی کو خود پر حاوی ہونے دے۔ یہی راستہ فرد کو سکون اور معاشرے کو استحکام کی طرف لے جاتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button