وفاق بجلی کے نظام کی خامیاں دور کرنے میں ناکام :سہیل آفریدی
پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں وفاق پر خیبرپختونخوا کے 2200 ارب سے زائد واجب الادا ہیں ، خطاب
پشاور:(ویب ڈیسک)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، کم وولٹیج، بجلی کی فراہمی سے متعلق مسائل اور توانائی کے شعبے سے متعلق امور پر ایک اہم اجلاس ہوا جس کابینہ اراکین، محکمہ توانائی کے اعلیٰ حکام، پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی ،ٹرائبل الیکٹرک سپلائی کمپنی اور ہزارہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ نے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، کم وولٹیج، بجلی کی فراہمی میں تاخیر، مکمل ترقیاتی منصوبوں کو بروقت بجلی نہ ملنے اور اس کے باعث عوام کو درپیش مشکلات پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔
وزیر اعلیٰ نے بجلی کی فراہمی سے متعلق مختلف نوعیت کے 1638 زیر التوا کیسز کو ترجیحی بنیادوں پر جلد از جلد نمٹانے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ متعلقہ محکموں کی جانب سے مکمل ادائیگیاں کیے جانے کے باوجود بجلی کے کھمبوں، ٹرانسفارمرز اور دیگر ضروری سامان کی بروقت فراہمی نہیں ہو رہی جس کے باعث متعدد مکمل ترقیاتی منصوبے تاحال فعال نہیں ہو سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ محکموں سے رقوم وصول کرنے کے باوجود بجلی کی فراہمی میں تاخیر ناقابل قبول اور عوامی وسائل کا ضیاع ہے۔ سہیل آفریدی نے پشاور، ٹرائبل اور ہزارہ الیکٹرک سپلائی کمپنیوں کو ہدایت کی کہ تمام زیر التوا کیسز فوری طور پر نمٹائے جائیں اور بجلی کے نئے کنکشنز، ٹرانسفارمرز اور دیگر ضروری سہولیات کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جائے۔
انہوں نے کہا متعلقہ ادارے اپنے فیصلوں اور اقدامات میں سیاسی ترجیحات کے بجائے عوامی مفاد، انصاف اور میرٹ کو مقدم رکھیں۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ شدید گرم علاقوں میں جاری بجلی اسکیمیں رواں سال ستمبر جبکہ دیگر علاقوں میں دسمبر تک ہر صورت مکمل کر کے فعال بنائی جائیں تاکہ عوام کو بروقت ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
فنڈز کی دستیابی کے باوجود اگر خریداری کے عمل میں تاخیر کے باعث منصوبوں کی لاگت میں اضافہ ہوا تو اس اضافی مالی بوجھ کی ذمہ داری متعلقہ ادارہ خود برداشت کرے گا۔ بجلی کے کنکشنز کی فراہمی میں تاخیر کے باعث عوام کو بنیادی سہولیات سے محروم نہیں رکھا جا سکتا اور اس ضمن میں متعلقہ اداروں کی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا۔
خیبرپختونخوا اپنی ضرورت سے دو گنا زائد بجلی پیدا کرنے کے باوجود غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، کم وولٹیج اور امتیازی رویے کا سامنا کر رہا ہے۔ وفاقی حکومت نہ صرف بجلی کے نظام کی خامیوں کو دور کرنے میں ناکام رہی ہے بلکہ صوبے کے آئینی اور مالی حقوق بھی ادا نہیں کر رہی، جس کا براہِ راست خمیازہ صوبے کے عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں وفاق پر خیبرپختونخوا کے 2200 ارب روپے سے زائد واجب الادا ہیں۔ صوبہ اپنی ضرورت سے زائد گیس پیدا کر کے وفاق کو فراہم کرتا ہے لیکن اس کے باوجود یہاں سی این جی اسٹیشنز بند کر دیے جاتے ہیں، جو صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک اور صریح ناانصافی ہے۔
وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ بجلی کے نظام کی خامیوں کا بوجھ عوام پر منتقل کرنے کے بجائے انہیں فوری طور پر دور کرے اور خیبرپختونخوا کے آئینی، مالی اور توانائی سے متعلق حقوق کی ادائیگی یقینی بنائے۔



