پاک،سعودیہ معاہدے میں فیلڈ مارشل کا اہم کردار،شہبازخادم پاکستان سے خادم حرمین الشریفین
لاہور:(عقیل انجم اعوان)دنیا کے بدلتے ہوئے منظرنامے میں بعض فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے دھارے کو موڑ دیتے ہیں۔ یہ فیصلے محض دو ملکوں کے درمیان کاغذی معاہدے نہیں ہوتے بلکہ ان کے اندر ایک ایسا وژن چھپا ہوتا ہے جو آنے والی نسلوں کی تقدیر کو نئے زاویے عطا کرتا ہے۔ ریاض میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا’’اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ‘‘ (SMDA) بھی ایسا ہی ایک فیصلہ ہے۔ بظاہر یہ ایک دفاعی معاہدہ ہے لیکن حقیقت میں یہ عالم اسلام کی اجتماعی طاقت، خطے کے نئے توازن اور دو برادر ممالک کے گہرے رشتے کی روشن مثال ہے۔یہ معاہدہ اس وقت ہوا جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے بھارت اپنی بالادستی قائم کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے اسرائیل اپنی توسیعی پالیسیوں کو عملی جامہ پہنا رہا ہے اور مغربی طاقتیں خلیجی دنیا میں اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کے لیے نئی چالیں چل رہی ہیں۔ ایسے میں پاکستان اور سعودی عرب کا یہ قدم نہ صرف دونوں ممالک کے لیے نجات دہندہ ہے بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے امید کی کرن بھی ہے۔

آٹھ دہائیوں پر محیط تعلقات کا تسلسل
پاکستان اور سعودی عرب کا تعلق محض دو ریاستوں کے درمیان تعلق نہیں بلکہ یہ دو ایسے قلوب کا رشتہ ہے جنہیں ایک ہی ایمان نے باندھ رکھا ہے۔ پاکستان کی سرزمین پر بسنے والا ہر مسلمان سعودی عرب کو اپنے ایمان کا مرکز سمجھتا ہے کیونکہ وہاں حرمین شریفین واقع ہیں۔ یہی وہ نسبت ہے جو دونوں ممالک کو ایک دوسرے سے جدا نہیں ہونے دیتی۔قیام پاکستان کے فوراً بعد سعودی عرب ان چند ممالک میں شامل تھا جس نے پاکستان کو تسلیم کیا۔ اسی وقت سے لے کر آج تک سعودی عرب نے ہر نازک موقع پر پاکستان کا ساتھ دیا۔ 1965 اور 1971 کی جنگیں ہوں یا 1998 کے ایٹمی دھماکوں کے بعد لگنے والی عالمی پابندیاں سعودی عرب نے پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑا۔ اسی طرح پاکستان نے بھی حرمین شریفین کی حرمت کو اپنی قومی سلامتی کا حصہ قرار دیا اور سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہمیشہ تیار کھڑا رہا۔یہی پس منظر اس معاہدے کی بنیاد ہے۔ یہ محض وقتی مفادات کا نتیجہ نہیں بلکہ آٹھ دہائیوں کی رفاقت کا فطری تسلسل ہے۔

معاہدے کی کلیدی شقیں
ریاض میں طے پانے والا یہ معاہدہ کئی اہم شقوں پر مشتمل ہے جنہیں سمجھنا ضروری ہے۔
1۔ مشترکہ دفاع کی ضمانت: اگر کسی بھی ملک پر حملہ ہوتا ہے تو اسے دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔ یہ نیٹو طرز کی شق ہے جو دفاعی اتحاد کو غیر معمولی مضبوطی دیتی ہے۔
2۔ حرمین شریفین کا تحفظ: پاکستان نے برملا عہد کیا ہے کہ مقدس مقامات کے دفاع میں وہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ یہ پاکستانی عوام کے دل کی آواز ہے۔
3۔ افواج کا انضمام: دونوں ممالک کی افواج مشترکہ مشقیں کریں گی، انٹیلی جنس شیئرنگ بڑھے گی اور دفاعی ٹیکنالوجی میں تعاون ہوگا۔4
4۔ خطرات کا مشترکہ مقابلہ: موجودہ اور مستقبل کے چیلنجز کو مل کر نمٹا جائے گا تاکہ کسی بھی دشمن کو دونوں ممالک کو الگ الگ نشانہ بنانے کا موقع نہ ملے۔
پاکستان کے لیے فوائد
یہ معاہدہ پاکستان کے لیے غیر معمولی فوائد رکھتا ہے۔
دفاعی تحفظ: پاکستان کو یہ یقین دہانی حاصل ہوگئی کہ اب وہ کسی بیرونی جارحیت کی صورت میں اکیلا نہیں ہوگا۔ سعودی عرب کی مالی طاقت اور سفارتی اثرورسوخ پاکستان کے دفاع کو مزید مضبوط بنائے گا۔
معاشی سہارا: سعودی عرب پاکستان کا سب سے بڑا معاشی معاون ہے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں نہ صرف دفاعی صنعت میں سرمایہ کاری بڑھے گی بلکہ توانائی، زراعت اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں بھی سعودی سرمایہ پاکستان آئے گا۔ یوں یہ معاہدہ پاکستان کی کمزور معیشت کے لیے ٹانک کا کردار ادا کرے گا۔
سفارتی وزن: سعودی عرب او آئی سی سمیت عالمی اداروں میں قائدانہ کردار رکھتا ہے۔ پاکستان کے ساتھ اس کا یہ معاہدہ پاکستان کی سفارتی پوزیشن کو بے حد مضبوط کر دے گا خاص طور پر کشمیر کے مسئلے پر۔
ایٹمی حیثیت کی تائید: یہ معاہدہ عالمی برادری کے سامنے یہ حقیقت اجاگر کرتا ہے کہ پاکستان کی ایٹمی طاقت صرف اپنی نہیں بلکہ عالم اسلام کی سلامتی کے لیے بھی ہے۔ اس سے پاکستان کی ایٹمی پالیسی کو اخلاقی جواز بھی ملتا ہے۔

سعودی عرب کے لیے فوائد
سعودی عرب کے لیے بھی یہ معاہدہ ایک گہرا معنی رکھتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، یمن کی جنگ، ایران کے اثرات
اور اسرائیل کے عزائم سعودی سلامتی کو خطرے میں ڈالے ہوئے ہیں۔ ایسے میں پاکستان جیسی ایٹمی طاقت کا ساتھ سعودی عرب کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنا دیتا ہے۔ اس کے علاوہ پاک فوج کی پروفیشنل مہارت اور جنگی تجربہ سعودی فوج کے لیے قیمتی سرمایہ ثابت ہوگا۔
معاہدے کے مخالفین
جب بھی دو طاقتور ممالک اتحاد کرتے ہیں لازمی ہے کہ کچھ قوتیں اس پر خوش نہ ہوں۔
بھارت: سب سے زیادہ پریشانی بھارت کو ہے۔ بھارت جانتا ہے کہ پاکستان اب چین کے ساتھ ساتھ سعودی عرب جیسے طاقتور ملک کا بھی پارٹنر ہے۔ یہ صورت حال اس کی بالادستی کے خواب کو چکنا چور کرتی ہے۔
اسرائیل: اسرائیل سعودی عرب کو اپنے قریب لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ اسرائیل کے لیے بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ پاکستان اسے تسلیم نہیں کرتا اور فلسطین کا کھلا حامی ہے۔
مغربی قوتیں: بعض مغربی طاقتیں نہیں چاہتیں کہ ایک ایٹمی پاکستان اور تیل سے مالا مال سعودی عرب مل کر ایک طاقتور بلاک بنائیں۔ یہ ان کے عالمی منصوبوں کے لیے چیلنج ہے۔
آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار
اس معاہدے کی کامیابی میں پاکستان کے آرمی چیف کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنی بصیرت، حکمت اور اعتماد سازی کی صلاحیت سے سعودی قیادت کو قائل کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہے۔ انہوں نے نہ صرف ریاض میں سفارتی پل باندھے بلکہ پاکستان کے اندر بھی قومی اتفاق رائے کو یقینی بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ معاہدہ عوام اور ریاست دونوں کے دل کی آواز بن گیا ہے۔
خطے پر اثرات
یہ معاہدہ خطے میں طاقت کے توازن کو یکسر بدل دے گا۔ خلیج میں اب کوئی ملک پاکستان اور سعودی عرب کے مشترکہ اتحاد کو نظر انداز نہیں کر سکے گا۔ بھارت کو اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنا پڑے گی۔ ایران کو نئے تعلقات کا توازن تلاش کرنا ہوگا اور اسرائیل کو اپنی حکمت عملی بدلنی ہوگی۔ او آئی سی کو بھی اس معاہدے سے نئی توانائی ملے گی۔
پاکستان اور سعودی عرب کے حالیہ دفاعی معاہدے نے نہ صرف خطے میں ایک نئی سفارتی لہر پیدا کر دی ہے بلکہ عالمی تجزیاتی حلقوں کو بھی متوجہ کیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا بالخصوص رائٹرز اور اے پی نیوز اس معاہدے کو دونوں ممالک کے برسوں پرانے تعلقات کی توسیع قرار دے رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ کوئی اچانک ردعمل نہیں بلکہ ایک ایسا قدم ہے جس نے دیرینہ تعاون کو باضابطہ ادارہ جاتی اور قانونی شکل دے دی ہے۔خطے کی موجودہ نازک صورتِ حال بھی اس معاہدے کی اہمیت کو دوچند کر رہی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ خلیجی ریاستیں جو طویل عرصہ امریکہ پر انحصار کرتی رہیں اب واشنگٹن کی بدلتی پالیسیوں اور اسرائیل،فلسطین بحران جیسے عوامل کے باعث متبادل سکیورٹی ڈھانچوں کی طرف دیکھ رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کے قطر پر حملے اور اس کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کو اس معاہدے کے پس منظر میں اہم عنصر قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی تجزیہ نگاروں نے خاص طور پر اس شق پر توجہ مرکوز کی ہے کہ اگر کسی ایک ملک پر جارحیت ہو تو دونوں ممالک مل کر جواب دیں گے۔ یہ شق نہ صرف علامتی اہمیت رکھتی ہے بلکہ ایک موثر ڈٹرنٹ بھی سمجھی جا رہی ہے۔ تاہم سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا یہ دفاعی تعاون محض سیاسی پیغام رسانی ہے یا کسی حقیقی فوجی مداخلت تک بھی جا سکتا ہے۔بھارت نے سرکاری سطح پر اس معاہدے کو سنجیدگی سے لیا ہے اور اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ تجزیاتی سطح پر یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سعودی عرب کی پاکستان کے ساتھ صف بندی بھارت کی دفاعی حکمتِ عملی کو متاثر کر سکتی ہے اگرچہ سعودی عرب اور بھارت کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے گہرے رشتے اس اندیشے کو کسی حد تک کمزور کرتے ہیں۔
خلیجی ریاستوں اور مسلم دنیا میں اس معاہدے کو عموماً مثبت نظروں سے دیکھا جا رہا ہے۔ خاص طور پر حرمین شریفین کے تحفظ اور باہمی دفاعی تعاون کی شق کو امت مسلمہ کی وحدت کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ادھر مغربی دنیا میں اسے خطے کے طاقت کے توازن میں ممکنہ تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا یہ معاہدہ بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوگا یا نہیں۔مجموعی طور پر عالمی ردعمل میں ایک پہلو نمایاں ہے کہ اس معاہدے کو عملی فوجی شراکت داری سے زیادہ ایک سیاسی اور علامتی اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اس نے بھارت کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ مستقبل میں یہ معاہدہ کتنا کارگر اور فعال ثابت ہوتا ہے، اس کا انحصار خطے کی بدلتی سیاست اور بڑے طاقتوں کے رویے پر ہوگا۔



