
پاکستان کی معاشی و جغرافیائی حکمتِ عملی میں اس وقت ایک خاموش مگر انتہائی اہم تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ یہ تبدیلی محض ایک نئی تجارتی راہداری کے آغاز تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات خطے کی سیاست، معیشت اور تزویراتی تعلقات تک پھیلتے نظر آتے ہیں۔ گبد بارڈر ٹرمینل کی فعالیت اور ایران کے ذریعے وسطی ایشیا تک نئی زمینی تجارت کا آغاز اسی بڑے وژن کا حصہ ہے جس کے تحت پاکستان اپنی تجارت کو روایتی، غیر یقینی اور محدود راستوں سے نکال کر زیادہ مستحکم اور قابلِ اعتماد راستوں کی طرف منتقل کر رہا ہے۔گبد بارڈر پاکستان اور ایران کے درمیان بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر کے قریب واقع ایک اہم سرحدی مقام ہے۔ یہ سرحدی گزرگاہ ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان سے جڑتی ہے اور تاریخی طور پر یہاں چھوٹے پیمانے پر سرحدی تجارت، اشیائے خورونوش، ایندھن اور دیگر ضروری سامان کی نقل و حرکت ہوتی رہی ہےتاہم حالیہ برسوں میں اس مقام کی اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ غیر رسمی تجارت کو منظم کرنے، کسٹمز نظام کو مؤثر بنانے اور قانونی تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے گبد بارڈر ٹرمینل کو ایک باقاعدہ تجارتی گیٹ وے کے طور پر ترقی دینے کی کوششیں کی گئی ہیں۔ یہ ٹرمینل اب پاکستان کی سرحدی تجارت میں ایک ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے، جہاں سے نہ صرف درآمد و برآمد کو سہولت ملتی ہے بلکہ خطے میں زمینی رابطہ بھی مضبوط ہو رہا ہے۔
نیشنل لاجسٹک کارپوریشن کی جانب سے گبد بارڈر کے ذریعے ایران کو راستہ بنا کر وسطی ایشیا تک تجارتی سرگرمیوں کا آغاز پاکستان کی معاشی حکمتِ عملی میں ایک اہم موڑ ہے۔ کراچی سے تاشقند گوشت کی پہلی کھیپ کی ترسیل محض ایک تجارتی لین دین نہیں بلکہ ایک علامتی پیش رفت ہے—ایک ایسے دور کا آغاز جس میں پاکستان اپنی برآمدات کو نئے اور محفوظ راستوں کے ذریعے خطے کی منڈیوں تک پہنچانے کی صلاحیت حاصل کر رہا ہے۔یہ نیا راستہ ٹرانزٹ انٹرنیشنل روٹ کے تحت نہ صرف فاصلے کم کرتا ہے بلکہ لاجسٹکس اخراجات میں بھی واضح کمی کا باعث بنتا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ راستہ ایسے جغرافیائی اور سیاسی خطرات سے نسبتاً محفوظ سمجھا جا رہا ہے جو ماضی میں بعض روایتی زمینی راستوں کے ساتھ جڑے رہے ہیں۔گزشتہ برسوں میں پاکستان کی علاقائی تجارت کا بڑا انحصار افغانستان کے راستوں پر رہا ہے مگر افغانستان کے اندرونی حالات خاص طور پر طالبان رجیم نے افغان سرزمین کو جب سے عالمی دہشتگرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ بنا دیا ہے تب سے یہ انحصار ایک غیر یقینی کیفیت میں تبدیل ہوچکا ہے۔پاکستانی مؤقف کے مطابق سرحد پار دہشتگردعناصر خصوصاً فتنہ خوارج سے منسلک نیٹ ورکس خطے کی سکیورٹی کے لیے ایک مستقل چیلنج ہیں۔ بعض بین الاقوامی رپورٹس میں بھی ان عناصر کی موجودگی اور سرحدی علاقوں میں ان کی سرگرمیوں کا ذکر کیا گیا ہے، جس سے خطے کی مجموعی صورتحال مزید پیچیدہ ہوئی۔ایسے حالات میں تجارت اور ٹرانزٹ کو صرف جذباتی یا روایتی تعلقات کے سہارے جاری رکھنا عملی طور پر مشکل ہوتا گیا۔ اسی لئے پاکستان نے اپنی توجہ ایسے راستوں کی طرف مرکوز کی جہاں ریاستی کنٹرول، تجارتی استحکام اور پیش گوئی زیادہ قابلِ اعتماد ہو۔
ایران کے ذریعے وسطی ایشیا تک رسائی پاکستان کے لیے ایک متبادل نہیں بلکہ ایک مضبوط اور پائیدار آپشن کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ یہ راستہ نہ صرف جغرافیائی طور پر مختصر ہے بلکہ اس میں علاقائی رابطے، بنیادی ڈھانچے اور ریاستی کنٹرول کی نسبتاً بہتر صورتحال بھی موجود ہے۔اس پیش رفت کے نتیجے میں پاکستان کو وسطی ایشیا کی ابھرتی ہوئی منڈیوں تک براہِ راست رسائی حاصل ہو سکتی ہے، جہاں توانائی، خوراک اور صنعتی مصنوعات کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سے نہ صرف برآمدات میں اضافہ متوقع ہے بلکہ پاکستان کی ٹرانزٹ اکانومی کو بھی نئی جہت مل سکتی ہے۔سی پیک نے پاکستان کو پہلے ہی ایک علاقائی تجارتی راہداری کے طور پر نمایاں کیا ہے۔ اب گبد بارڈر اور ایران کے ذریعے وسطی ایشیا تک رسائی اس تصور کو مزید وسعت دے رہی ہے۔ اگر یہ دونوں راستے مؤثر انداز میں جڑ جاتے ہیں تو پاکستان ایک ایسے مرکز کے طور پر ابھر سکتا ہے جو مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے درمیان ایک قدرتی پل کا کردار ادا کرے۔یہ صورتِ حال نہ صرف پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کو بڑھاتی ہے بلکہ اسے عالمی تجارت کے ایک ابھرتے ہوئے حب میں تبدیل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔گبد بارڈر کی فعالیت اور ایران کے ذریعے نئی تجارتی راہداری کا آغاز اس بات کا اظہار ہے کہ پاکستان اب اپنی اقتصادی حکمتِ عملی میں زیادہ عملی، خودمختار اور متنوع راستہ اختیار کر رہا ہے۔ یہ فیصلہ محض ایک روٹ کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک ذہنی اور تزویراتی تبدیلی ہے۔ایسی تبدیلی جو انحصار سے خود انحصاری کی طرف سفر کو ظاہر کرتی ہے۔اگر اس حکمتِ عملی کو تسلسل، استحکام اور مؤثر پالیسی سپورٹ حاصل رہی تو پاکستان نہ صرف اپنی معیشت کو مضبوط بنا سکتا ہے بلکہ خطے میں ایک اہم تجارتی اور تزویراتی طاقت کے طور پر اپنی حیثیت بھی مزید مستحکم کر سکتا ہے۔



