لاہور(زبیر اسلم خان) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ آئین سے متصادم ہے اور اس کے خلاف قانونی و آئینی جدوجہد جاری رہے گی۔
لاہور ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے اس ایکٹ کو عدالت میں چیلنج کیا ہے کیونکہ اس کے تحت اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں کیے جا رہے، جو آئین اور جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام کو یونین کونسل کی سطح پر اپنے چیئرمین کو براہ راست منتخب کرنے کا حق حاصل نہیں دیا جا رہا، جو کہ ایک غیر جمہوری اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے نظام کے باعث حقیقی عوامی نمائندگی متاثر ہوتی ہے اور یہ طرزِ عمل پیسوں کی منڈیوں کو فروغ دیتا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ملک میں جمہوری اداروں کو مضبوط کرنے کے بجائے کمزور کیا جا رہا ہے اور سیاسی جماعتیں خاندانی بنیادوں پر چل رہی ہیں، جس سے میرٹ اور شفافیت متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں بجلی کی غیر منصفانہ تقسیم اور لوڈشیڈنگ جیسے مسائل بھی عوامی مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ اصل مسائل سے توجہ ہٹائی جا رہی ہے۔
دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ میں پنجاب میں غیر جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی، جس کی سماعت جسٹس سلطان تنویر نے کی۔
عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو ہدایات لے کر آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دیا جبکہ پنجاب حکومت کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ بلدیاتی انتخابات میں کسی سیاسی جماعت کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں ہوگا۔
سماعت کے دوران عدالت نے سوال اٹھایا کہ چیئرمین اور وائس چیئرمین کا انتخاب براہ راست ہوگا یا نہیں، جس پر مختلف قانونی نکات پر تفصیلی دلائل پیش کیے گئے۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پنجاب اسمبلی کے اراکین براہ راست منتخب ہوتے ہیں، اس کے باوجود بلدیاتی سطح پر عوام کو براہ راست اختیار نہیں دیا جا رہا۔
سماعت کے دوران حافظ نعیم الرحمان بھی روسٹرم پر آئے اور کہا کہ دنیا کے زیادہ تر ممالک میں بلدیاتی انتخابات براہ راست ہوتے ہیں، اور اگر یونین کونسل کی سطح پر بھی براہ راست انتخاب نہ ہو تو یہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ قانون سازی پارلیمنٹ کا اختیار ہے اور عدالت صرف غیر آئینی معاملات میں مداخلت کر سکتی ہے، تاہم کیس میں متعدد اہم سوالات ابھی بھی جواب طلب ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔



