لاہور (زبیر اسلم خان) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کل (جمعہ 19 جون) ملک گیر احتجاج کا اعلان کر دیا۔
منصورہ سے جاری اپنے ویڈیو پیغام اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان میں حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرول کی قیمت فوری طور پر 225 روپے فی لٹر کی جائے اور اسے تین سال کیلئے منجمد کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا رجحان جاری ہے، جبکہ ایران اور امریکہ کے معاہدے کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کے امکانات پیدا ہوئے ہیں، اس لیے پاکستان کے عوام کو بھی فوری ریلیف ملنا چاہیے۔
پٹرول میں 10 یا 20 روپے کمی کافی نہیں، حافظ نعیم
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پٹرول کی قیمت میں معمولی کمی سے عوامی مسائل حل نہیں ہوں گے۔ حکومت کو فی لٹر کم از کم 150 روپے تک کمی کرکے پٹرول 225 روپے پر لانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ مہنگا پٹرول نہ صرف عام شہری بلکہ ملکی معیشت کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ غریب، متوسط طبقہ، طلبہ، مزدور، کسان اور موٹر سائیکل چلانے والے افراد شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے الزام عائد کیا کہ حکومت ٹیکس وصولی کیلئے ایسے طبقے پر بوجھ ڈال رہی ہے جو پہلے ہی مہنگائی کا شکار ہے۔
پٹرول پر بھاری ٹیکس عوام کیلئے مسئلہ ہے
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ایک طالب علم جس کی کوئی قابل ٹیکس آمدنی نہیں، وہ پٹرول پر ٹیکس کیسے ادا کرے؟ اسی طرح محدود آمدنی رکھنے والے موٹر سائیکل صارفین پر بھی بھاری ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پٹرول کے ہر لٹر پر لیوی سمیت بھاری ٹیکس وصول کر رہی ہے، جبکہ گزشتہ مالی سال میں پٹرولیم لیوی کی مد میں بڑی رقم جمع کی گئی۔
جماعت اسلامی کے امیر نے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم لیوی کو فوری ختم یا کم کیا جائے جبکہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بھی کمی کی جائے۔
19 جون کو ملک گیر احتجاج کا اعلان
حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی جمعہ 19 جون کو ملک بھر کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز پر مہنگائی اور پٹرولیم قیمتوں کے خلاف احتجاج کرے گی۔
انہوں نے کارکنوں، نوجوانوں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ احتجاج میں بھرپور شرکت کریں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے عوام کو ریلیف نہ دیا تو جماعت اسلامی چاروں صوبائی ہیڈکوارٹرز پر طویل دھرنوں کا اعلان کرے گی۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت کو عوام پر بوجھ ڈالنے کی پالیسی ختم کرنا ہوگی تاکہ معیشت کا پہیہ چل سکے، صنعتوں کو فروغ ملے اور عام آدمی کو ریلیف فراہم کیا جا سکے



