حماس رہنمائوں کو سرنڈر پر معافی کی پیشکش :مزید2یرغمالیوں کی لاشیں،15فلسطینیوں کی میتیں واپس
غزہ کی تعمیر نو کیلئے نئے سینٹر کا اعلان، حماس کے زیرکنٹرول علاقے کیلئے فنڈز جاری نہیں کئے جائینگے: امریکی حکام
غزہ،تل ابیب،واشنگٹن(ویب ڈیسک)غزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیل اور حماس کے درمیان لاشوں کے تبادلے کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ روز ایک اسرائیلی یرغمالی کی لاش واپس کی گئی تھی۔
حماس نے گزشتہ رات مزید دو لاشیں اسرائیل کو واپس کردیں جب کہ ملبے تلے دبی دیگر لاشوں کی تلاش کا کام بھی جاری ہے۔ جیسے جیسے یرغمالیوں کی لاشیں ملتی جائیں گے۔ انھیں اسرائیل بھیجا جائے گا۔اسی طرح اسرائیل نے بھی 15 فلسطینیوں کی میتیں حکام کے حوالے کی ہیں۔
یہ تمام افراد اسرائیل کی غیر قانونی تحویل میں تھے جہاں ان پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے گئے تھے۔مجموعی طور پر اسرائیل کی جانب سے اب تک 135 میتیں غزہ واپس کی گئی ہیں اور یہ سب اسرائیلی جیلوں میں قید تھے۔دوسری طرف حماس کے رہنما اور چیف مذاکرات کار خلیل الحیہ کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان ہونے والا غزہ جنگ بندی معاہدہ قائم رہے گا کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ یہ (معاہدہ) برقرار رہے، اور اس کی پاسداری کے لئے ہم بہت پر عزم ہیں۔
حماس کے ٹھکانوں پر کئی مہلک حملوں کے بعد منگل کو جنگ بندی کے اہم ثالث قطر کے حکمران نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ 11 روز پرانی جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے جس کی مذمت کا اعادہ کرتے ہیں۔دریں اثنا اسرائیلی میڈیا کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور جیرڈ کشنر نے صدر اور وزیراعظم سے ملاقاتیں کیں اور تباہ حال علاقوں کا دورہ کیا۔دورے کے اختتام پر نائب امریکی صدر نے کہا کہ غزہ میں اب بھی 15 اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں موجود ہیں جن کی بازیابی بہت مشکل کام ہے۔
جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ باقی ماندہ یرغمالیوں کی لاشوں کی بازیابی فوری ممکن نہیں ہے۔ یہ راتوں رات نہیں ہوگا۔ اس کام میں وقت لگ سکتا ہے۔ امریکی نائب صدر نے مزید کہا کہ حماس کو غیر مسلح کرنا بھی وقت طلب عمل ہے۔
اس کام کے لیے انتظار اور صبر چاہیے اور میں یقین دلاتا ہوں کہ ہم ان سے اسلحہ لے لیں گے۔ نائب صدر وینس نے کہا کہ حماس کے بعض عسکری رہنمائوں کو معافی یا بخشش دی جا سکتی ہے بشرطیکہ وہ اسلحہ پھینک دیں اور باقی ماندہ زندگی قانون و امن کے دائرے میں رہ کر گزاریں۔تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حماس نے تعاون نہیں کیا تو جیسا کہ صدر ٹرمپ نے کہا تھا، حماس کو تباہ کردیا جائے گا۔ جیرڈ کشنر نے غزہ کے دورے کے موقع پر کہا کہ ایسا لگتا ہے یہاں ایٹم بم گرا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ بہت افسوس ناک ہے کہ فلسطینیوں کے پاس رہنے کو جگہ نہیں ہے۔
اس موقع پر صحافی نے جیرڈ کشنر سے سوال پوچھا کہ غزہ میں جو کچھ ہوا کیا یہ نسل کشی نہیں ہے؟ جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نہیں یہ نسل کشی نہیں ہے مگر یہاں بچوں کا قتل عام ہوا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر حماس نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی تو مشرق وسطیٰ کے ہمارے اتحادی ممالک اپنی پوری فوجی قوت کے ساتھ غزہ میں گھس کر انہیں سیدھا کردیں گے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ دھمکی آمیز بیان ٹروتھ سوشل پر کی گئی اپنی پوسٹ میں کیا جس میں پہلی بار حماس کے خاتمے کے لیے مشرق وسطیٰ کے اتحادی ممالک کا ذکر کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ کے لیے جو محبت اور جذبہ آج نظر آ رہا ہے وہ ہزار سال سے نہیں دیکھا گیا۔ یہ ایک نہایت خوبصورت منظر ہے۔ ٹرمپ نے یہ دھمکی بھی دی کہ اگر حماس نے اپنا برا رویہ تبدیل نہیں کیا تو اس کا خاتمہ تیز تر، شدید اور بیرحمانہ ہوگا۔ادھر لبنان کے نائب وزیراعظم طارق متری نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل سکیورٹی انتظامات کے آغاز سے ہی لبنانی علاقوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور کسی کو بھی معلوم نہیں کہ اسرائیل کے اصل عزائم اور منصوبے کیا ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حزب اللہ کی موجودگی کے باوجود اسرائیل نے لبنان کی سرزمین کے اندر پانچ مقامات پر قبضہ برقرار رکھا ہوا ہے۔ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے غزہ کی تعمیر نو کے آغاز کے لئے سویلین ملٹری کوآپریشن سینٹرکے افتتاح کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسرائیلی حکومت اور دیگر شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور اب ہمارے سامنے بہت سا کام ہونا باقی ہے۔ امریکی صدر کے داماد جیرڈکشنر دوبارہ مستقبل کی تعمیر نو کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ تعمیر نو کے فنڈز حماس کے زیر کنٹرول علاقوں میں نہیں بھیجے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں تعمیرِ نو کے آغاز پر غور کیا جا رہا ہے جو اسرائیلی دفاعی افواج کے کنٹرول میں ہیں۔



