پاکستانتازہ ترینجرم-وسزا

ہائیکورٹ بار نتائج،فریقین کمپیوٹرسرور کے فرانزک پر متفق،خاتون وکیل پر مبینہ تشدد

 

لاہور:( بیوروچیف)لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات کے متنازعہ نتائج کے معاملے پر دونوں گروپ کمپیوٹرسرور کے فرانزک پر متفق ہو گئے۔

کمپیوٹر سرور میں خرابی یافراڈ ثابت ہونے پرلاہور ہائیکورٹ بار کے انتخابات دوبارہ ہوں گے ،انتخابات کے نتائج کا جائزہ لینے کے لئے اجلاس کے موقع پر بھی دونوں گروپوں کے وکلاء نے ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کی، ایک موقع پر وکلاء آپس میں گتھم گتھابھی ہو گئے جس کی وجہ سے حالات کشیدہ رہے ۔

لاہور ہائیکورٹ بار کے متنازعہ نتائج کا جائزہ لینے کے لئے اجلاس گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ بار میں منعقد ہوا جس میں انڈی پینڈنٹ گروپ اور پروفیشنل گروپ کی قیادت نے شرکت کی، اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ بائیو میٹرک سسٹم کمپیوٹرسرور کا فرانزک کرایا جائے گا ، کمپیوٹر سرور میں خرابی یافراڈ ثابت ہونے پرلاہور ہائیکورٹ بار کے انتخابات دوبارہ ہوں گے تاہم فرانزک رپورٹ میں خرابی ثابت نہ ہونے پر موجودہ نتیجہ تسلیم کیا جائے گا۔

کمپیوٹر کا فرانزک کروانے کے لیے نامزد ادارے کا فیصلہ کمیٹی کرے گی جس کے لئے کمیٹی کا دوبارہ اجلاس آج دوبارہ ہو گا ۔کمیٹی کی معاونت نو منتخب سیکرٹری قاسم اعجاز سمرا ء کریں گے۔کمیٹی میں انڈی پینڈنٹ گروپ کی جانب سے احسن بھون ،پیر مسعود چشتی، رمضان چوہدری اور طاہر نصر اﷲ وڑائچ جبکہ پروفیشنل گروپ کی جانب سے اشتیاق اے خان ،مقصود بٹر ، شفقت محمود چوہان ، اسد منظور بٹ شامل تھے۔

نجی ٹی وی کے مطابق اس موقع پر وکلا ء ایک دوسرے سے گتھم گتھاہو گئے ۔وکیل رہنما کے خلاف نازیباالفاظ استعمال کرنے پر مبینہ طور پر خاتون وکیل پر بھی تشددکیاگیا ۔دونوں گروپوں کی جانب سے شدید نعرے بازی اور تلخ کلامی کی گئی جس کی وجہ سے حالا ت کشیدہ رہے ۔

فرخ الیاس چیمہ نے کہا کمیٹی بنا ئی گئی، سب کچھ اس کے سامنے رکھیں ،ہائیکورٹ کے ملازمین نے کہا سرور کو باہر لے کر جانا پڑے گا،سرور کو لاہور ہائیکورٹ کے باہر حفیظ سینٹر لے کر جایا گیا،اس کا بل بھی منظور ہوا،پہلے ایک تنازعہ آیا رمضان میں الیکشن ہونے چاہئیں یا نہیں،ایسا الیکشن جس پر بہت سے سوالیہ نشان ہیں جس میں غلط ووٹ کاسٹ پکڑے گئے،آپ بڑے پن کا مظاہرہ کریں اور کہیں کہ الیکشن غلط تھے۔

پیر مسعود چشتی نے کہا ہم لڑائی جھگڑے والے لوگ نہیں ،ہم بارہا فرانزک کروانے کا مطالبہ کرتے رہے،ہر سال امیدوار سڑکوں پر پھررہے ہوتے ہیں ،اپنا کروڑوں روپیہ خرچ کرتے ہیں،یہ بار کسی ایک فرد کی میراث نہیں، بارہ بجے تک نو سو ووٹ کاسٹ ہوا، اگلے دو گھنٹے میں نو ہزار ووٹ کیسے کاسٹ ہو گئے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button