بلاگپاکستانتازہ ترینکالم

ایہہ پتر ہٹاں تے نہیں وکدے،قربانی کی صدا

چند روز قبل مجھے سیالکوٹ جانا تھا ناشتہ کیا، سامان اٹھایا اور روانہ ہو گیا میری گاڑی خراب تھی اس لیے میں پیدل لاری اڈا کی طرف روانہ ہوا تاکہ بس پکڑ سکوں اور تھوڑی واک بھی ہو جائے۔ پیدل چلتے ہوئے میں نے شہر کی ہلچل دیکھی، دکانوں کی روشنی اور لوگوں کے روزمرہ کے معمولات۔ ہر منظر کچھ کہانی سناتا تھا، لیکن دل کی دھڑکن ایک ہی چیز پر مرکوز تھی: وطن، اس کی حفاظت اور قربانی۔
لاری اڈا پہنچ کر میں نے اخبار خریدا تاکہ سفر کے لمحات خبرناموں کی دنیا میں گزرے اور ملکی حالات پر بھی نظر رہے۔

کوسٹر میں میرے ساتھ جو مسافر بیٹھا، وہ پڑا لکھا، باوقار اور سنجیدہ انسان تھا۔ سلام دعا کے بعد ہمارا سفر آغاز ہوا۔ کچھ دیر میں میں اخبار پڑھتا رہا، پھر وہ اخبار میرے ساتھی نے لے لیا اور میں موبائل پر فیس بک اور انسٹاگرام دیکھنے لگا۔اسی دوران موبائل پر میڈم نورجہاں کا وہ لازوال نغمہ چل پڑا، جس کی شاعری آج بھی دل کو ہلا دیتی ہے:
ایہہ پتر ہٹاں تے نہیں وکدے
توں لبھدی پھریں بازارکڑے
یہ نغمہ محض ایک دھن نہیں، بلکہ وطن کے لیے عشق، قربانی اور شہادت کی داستان ہے۔ ہر مصرعہ خون اور محبت سے بھرا ہوا لگتا ہے۔ دل و دماغ ساکت ہو گئے، آنکھیں نم ہو گئیں، اور دل خون کے آنسوں رونے لگا۔ یہ لمحہ مجھے یاد دلاتا ہے کہ ہمارے ملک کی زمین کی حفاظت محض وردی یا ہتھیار کا نام نہیں، بلکہ ہر نوجوان کی جان کی قیمت ہے، جو اس قوم کے مستقبل کے لیے قربان کی جاتی ہے۔

یہیں میں نے محسوس کیا کہ ایک اور ماں کا بیٹا، میجر عدیل زمان، اسی وقت باجوڑ میں اپنی جان وطن کی خاطر قربان کر رہا تھا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران بھارتی پراکسی فتنۃ الخوارج کے پانچ دہشت گرد مارے گئے، مگر اسی معرکے میں میجر عدیل زمان نے اگلی صف میں لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔

یہ وہ نوجوان ہیں جو اپنی ماؤں کے کلیجوں کو آگ میں ڈال کر، اس قوم کی ماؤں کے دلوں میں سکون دیتے ہیں۔ یہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر، زمین کی حفاظت کرتے ہیں تاکہ ہمارے گھروں میں چراغ جلیں، بچوں کے چہروں پر مسکراہٹیں ہوں، اور راتیں امن کی ہوں۔ یہ قربانیاں وقتی نہیں، یہ تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے روشنی کا چراغ بنتی ہیں۔

آج پاکستان جس مضبوط اور مستحکم پوزیشن میں دنیا کے نقشے پر ابھرا ہے، اس کے پیچھے صرف بندوق نہیں بلکہ انٹیلی جنس اداروں کی خاموش حکمت، سیاسی قیادت کا وژن اور فوجی قیادت کا غیرمتزلزل عزم شامل ہے۔ سید عاصم منیر، چیف آف ڈیفنس فورسز، پاک فوج کی قیادت میں پاک فوج نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان اب دفاعی نہیں بلکہ فیصلہ کن اور پراعتماد سوچ کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔

حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں جب بھارتی رافیل طیارے گرے تو دنیا نے محسوس کیا کہ پاکستان کی عالمی پوزیشن بدل چکی ہے۔ یہ وہ پاکستان نہیں جو کبھی دباؤ میں نظر آتا تھا، بلکہ ایک مضبوط، خوددار اور پراعتماد ریاست کے طور پر ابھر رہا ہے۔ یہ کامیابی کسی ایک ادارے کا کارنامہ نہیں، بلکہ فوج، انٹیلی جنس اداروں اور ریاستی قیادت کے ہم آہنگ عزم کا نتیجہ ہے، جس کا مقصد ایک ہی ہے: پاکستان کی بقا، سلامتی اور خودمختاری۔

آج جب پاک فوج کے جوان روز اس ملک کی زمین کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں، تو ہم سب پر بھی ایک ذمہ داری ہے۔ یہ وقت اختلافات یا بے حسی کا نہیں، بلکہ اپنی پاک فوج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا وقت ہے۔ میجر عدیل زمان جیسے شہداء ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ قومیں نعروں اور تقریروں سے نہیں، بلکہ قربانی، اتحاد اور اعتماد سے مضبوط ہوتی ہیں۔

اگر ہمیں پاکستان کو واقعی مضبوط دیکھنا ہے، تو ہمیں ان ماؤں کے درد، ان شہداء کے لہو اور ان محافظوں کے عزم کا احترام کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے دلوں میں یہ یقین رکھنا ہوگا کہ ہر قطرہ خون، ہر قربانی اور ہر لمحہ جدوجہد اس سرزمین کی حفاظت کے لیے ہے۔ یہی پاکستان کا راستہ ہے، یہی پاکستان کا مستقبل ہے، اور یہ ہم سب کا فرض ہے کہ ہم اپنی قوم اور اپنی پاک فوج کے ساتھ ہر لمحہ کھڑے رہیں، تاکہ یہ سرزمین ہمیشہ آزاد، محفوظ اور تابناک رہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button