پاکستانتازہ ترینفن اور فنکار

بچے کی دل کی دھڑکن سننے کے باوجود عماد وسیم نے اسقاطِ حمل پر اصرار کیا:سابق اہلیہ

 

کراچی:(ویب ڈیسک)عماد وسیم کی سابق اہلیہ اور ان کے 3 بچوں کی والدہ ثانیہ اشفاق نے اپنی ازدواجی زندگی، طلاق اور پیش آنے والے واقعات کے بارے میں تفصیل سے بات کی ہے۔

ثانیہ اشفاق اس وقت برطانیہ میں اپنے تین بچوں کے ساتھ بطور سنگل مدر زندگی گزار رہی ہیں۔

اپنی ازدواجی زندگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ثانیہ اشفاق نے بتایا کہ میری عماد وسیم سے آن لائن ملاقات ہوئی تھی، ابتدا میں عماد انتہائی مہربان، محبت کرنے والے اور ہمدرد انسان لگے، دونوں میں محبت ہوئی اور پھر شادی ہوگئی، شادی کے بعد میں برطانیہ چھوڑ کر پاکستان منتقل ہوگئی اور اپنے خاندان اور دوستوں سے دور ہوگئی۔

ثانیہ اشفاق نے دعویٰ کیا کہ شادی کے بعد عماد کے خاندان کی ہماری ازدواجی زندگی میں مداخلت بڑھ گئی، جب عماد اپنے خاندان کے ساتھ ہوتے تو ان کا رویہ بالکل مختلف ہو جاتا تھا اور خاندان ان کی غلطی پر بھی ان کا ساتھ دیتا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ جب میں پہلی مرتبہ حاملہ ہوئی تو عماد بہت خوش تھے، 2024ء میں دونوں نے عمرہ بھی کیا اور اس وقت حالات معمول کے مطابق تھے، بعد ازاں میں دوبارہ حاملہ ہوئی اور میں نے کچھ عرصے تک یہ خبر عماد کی والدہ سے چھپانے کا فیصلہ کیا کیونکہ ماضی میں ان پر اسقاطِ حمل کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا اور میں دوبارہ اسی صورتحال سے خوفزدہ تھی۔

 

ثانیہ کے مطابق جب عماد نے اپنی والدہ کو حمل کے بارے میں بتایا تو ان کی والدہ نے عماد سے طلاق لینے اور جائیداد اور دیگر سامان اپنے قبضے میں لینے کا کہا، بعد میں گھر کا فرنیچر اور دیگر سامان بھی لے لیا گیا۔

ثانیہ اشفاق نے دعویٰ کیا کہ اس معاملے پر میرے اور عماد کے درمیان کئی روز تک بحث جاری رہی، جبکہ عماد کے بڑے بھائی کی مداخلت کے بعد صورتحال مزید خراب ہوگئی، میں اس دوران خود کو بالکل تنہا محسوس کرتی تھی کیونکہ میرا خاندان برطانیہ میں تھا۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ حمل کے دوران عماد کے بھائی نے مجھے اغوا کروانے کی دھمکی بھی دی، جو مبینہ طور پر عماد کے سامنے دی گئی اور عماد خاموش رہے۔

ثانیہ کے مطابق کچھ عرصے بعد عماد نے برطانیہ منتقل ہونے اور وہاں بچوں کے ساتھ نئی زندگی شروع کرنے کی تجویز دی، عماد نے کہا کہ وہ پاکستان میں پیش آنے والی تلخ باتوں کو بھول کر برطانیہ میں بچوں کے ساتھ زندگی گزاریں گے، جس پر میں نے یقین کیا۔

ثانیہ اشفاق کا دعویٰ ہے کہ برطانیہ پہنچنے کے بعد صورتحال تبدیل ہوگئی، عماد میری والدہ کے گھر آئے، وکیل سے رابطہ کیا، انہیں بتایا کہ وہ مجھے چھوڑ رہے ہیں، میرا اور بچوں کا پاسپورٹ لے لیا اور مجھے والدہ کے گھر چھوڑ کر چلے گئے۔

ثانیہ نے دعویٰ کیا کہ اس کے بعد تقریباً 9 ماہ تک مجھے ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا اور عماد کے وکیل کے ذریعے ہر ہفتے مجھے خطوط موصول ہوتے رہے، میں اس کے باوجود اپنی شادی بچانا چاہتی تھی اور عماد سے درخواست کرتی رہی، لیکن وہ صرف یہ کہتے رہے کہ انہیں وقت درکار ہے۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ عماد نے بچوں کو اپنے پاس رکھنے کی دھمکی بھی دی، عماد کی گرفتاری کے وقت میں نے ان کی مدد کی اور انہیں جیل سے باہر لانے کی کوشش کی، عماد کو اپنے اعمال کے باعث جیل ہوئی تھی۔

ثانیہ نے بتایا کہ بچے کی پیدائش کے وقت میں نے عماد کو پیغام بھیجا، تاہم عماد نے خوشی کا اظہار کرنے کے بجائے مجھے مزید پیغامات نہ بھیجنے کی تنبیہ کی اور کہا کہ اسے ہراسانی سمجھا جاسکتا ہے۔

ثانیہ اشفاق نے دعویٰ کیا کہ بعد ازاں میں نے عماد کی ایک دوسری خاتون کے ساتھ ویڈیوز دیکھیں اور مجھے محسوس ہوا کہ عماد اپنے نومولود بچے کے بجائے مذکورہ خاتون کے ساتھ وقت گزار رہے ہیں، مجھے دھوکا دیا گیا اور بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ عماد بے وفائی کر رہے تھے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ عماد نے مجھے طلاق کے کاغذات بھیجے اور اسی ماہ اس خاتون سے شادی کرلی، جسے وہ پہلے عماد کی مداح قرار دے چکی تھیں، میں بچوں کو عماد سے ملوانے کے لیے پاکستان بھی لے کر آئی، تاہم اس کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

ثانیہ اشفاق نے کہا کہ عماد کے خاندان سے بھی بات کرنے کی کوشش کی لیکن کسی نے ان کی بات نہیں سنی، بچے روتے رہے لیکن عماد نے ان کی پروا نہیں کی اور میں بچوں کی تمام ذمہ داریاں خود اٹھا رہی ہوں۔

ثانیہ اشفاق نے اپنی گفتگو میں اسقاطِ حمل سے متعلق بھی ایک واقعہ بیان کیا۔

ان کے مطابق عماد نے ڈاکٹر سے اسقاطِ حمل کے لیے اپائنٹمنٹ لی تھی، ڈاکٹر نے مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ بچے کو رکھنا چاہتی ہیں۔

ثانیہ کے مطابق ڈاکٹر نے عماد کو دوسرے کمرے میں بلا کر بچے کے دل کی دھڑکن سنوائی، تاہم دل کی دھڑکن سننے کے باوجود عماد نے اسقاطِ حمل پر اصرار کیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت میں تین ماہ کی حاملہ تھی، مجھے انجکشن دیا گیا، جس کے بعد میں بے ہوش ہوگئی اور جب ہوش آیا تو اسقاطِ حمل ہوچکا تھا۔

ثانیہ اشفاق نے کہا کہ میں اس واقعے کو کبھی معاف نہیں کرسکتی، میں دعا کرتی ہوں کہ میرے بچے زندگی میں کامیاب ہوں۔

 

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button