
"میں خود ہی اپنی تلاش میں ہوں، میرا کوئی رہنما نہیں ہے
وہ کیا دکھائیں گے راہ مجھ کو، جنہیں خود اپنا پتا نہیں۔”
لاری اڈے کے قریب ایک چھوٹے سے خاک آلود میدان میں، برگد کے پرانے درخت کے سائے تلے، زمین پر ایک پرانی چارپائی اور کھجور کی چٹائی بچھائے چند لوگ گول دائرے میں بیٹھے تھے۔ ان کے درمیان مرکزِ نگاہ تھے استاد صادق، جنہیں لوگ پیار سے "سیاسی استاد” کہا کرتے تھے۔ ان کی شخصیت گہرے فکری شعور کی آئینہ دار تھی۔ وہ صرف تاش کے پتوں کا کھیل نہیں کھیلتے تھے بلکہ جب بھی بیٹھتے، پاکستان کے ماضی، حال اور مستقبل پر ایسے گہرے تجزیے پیش کرتے کہ اچھے اچھے مبصرین بھی دنگ رہ جاتے۔
اس روز ماحول میں ایک عجیب سا اداس سکوت چھایا ہوا تھا۔ تاش کے پتے تو بچھے ہوئے تھے، مگر کھلاڑیوں کے چہروں پر وہ پرانی رونق نہ تھی۔ ان میں سے ایک شخص نے پریشانی سے پوچھا:
"استاد صادق! آج تاش کے پتوں میں آپ کا وہ پرانا دل نہیں لگ رہا۔ آپ کی خاموشی میں آخر کون سا غم چھپا ہے؟”
استاد صادق نے ایک گہری آہ بھری، اپنے ہاتھ میں موجود تاش کے پتوں کو دیکھا، پھر آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اور ایک طنزیہ مگر اداس مسکراہٹ کے ساتھ وہی شعر دہرایا:
"میں خود ہی اپنی تلاش میں ہوں، میرا کوئی رہنما نہیں ہے
وہ کیا دکھائیں گے راہ مجھ کو، جنہیں خود اپنا پتا نہیں۔”
پھر انہوں نے اپنے ہاتھ کا آخری پتا زمین پر رکھ دیا اور بولے:
"معاف کرنا دوستو… میں کیا کہوں؟ دیکھو، آج پوری دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں نئے دفاعی معاہدے ہو رہے ہیں۔ سعودی عرب پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ قطر، بحرین، عمان اور ایران جیسے برادر ممالک بھی پاکستان کی طرف امید سے دیکھ رہے ہیں اور باہمی تعاون، علاقائی استحکام اور مشترکہ مفادات کے فروغ کے لیے ہماری قیادت سے بات چیت کر رہے ہیں۔ کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے ہماری معیشت کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے تھے۔
مگر آج میرا دل اس وقت بیٹھ جاتا ہے جب میں اپنے ہی اندرونی نظام کی حالت دیکھتا ہوں۔ ہم نے ملک کی خاطر جنگیں بھی لڑیں، قربانیاں بھی دیں، اپنے پیاروں کو بھی کھویا، مگر بدلے میں عام آدمی کو آج بھی غربت، مہنگائی اور محرومی ہی نصیب ہوتی ہے!”
استاد صادق کا یہ درد دراصل اسی وسیع تر قومی المیے کی عکاسی کرتا ہے جو حالیہ عسکری اور سیاسی قیادت کی اہم پریس کانفرنسوں میں بھی نمایاں طور پر سامنے آیا۔
ایک طرف، انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل نے اپنی بریفنگ میں دہشت گردی کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں، حاصل ہونے والی کامیابیوں اور سیکیورٹی فورسز و شہریوں کی لازوال قربانیوں کا ذکر کیا، تو دوسری جانب ریاستی و حکومتی حلقوں سے یہ اعتراف بھی سامنے آیا کہ ملک کا موجودہ انتظامی اور سیاسی نظام اپنی خامیوں کے باعث سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بھی اس امر پر زور دیا کہ جب تک جمہوریت کی روح کے مطابق بنیادی اصلاحات اور اچھی حکمرانی کے تقاضے پورے نہیں کیے جاتے، حالات میں حقیقی تبدیلی ممکن نہیں۔
یہی وہ تضاد ہے جو عام آدمی کو شش و پنج میں مبتلا کرتا ہے۔ ایک طرف دنیا پاکستان کی عسکری صلاحیت، سفارتی کردار اور قربانیوں کا اعتراف کرتی ہے، جبکہ دوسری طرف اندرونِ ملک سیاسی کشمکش، انتظامی جمود اور نظام کی کمزوریاں ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔
اس پورے منظرنامے میں وہ بیرونِ ملک مقیم صحافی اور تجزیہ کار بھی ایک سوالیہ نشان بن جاتے ہیں جو محفوظ فاصلے پر بیٹھ کر صرف پاکستان کے عسکری اور سیاسی نظام کی خامیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں، مگر اس زمینی حقیقت اور ان قربانیوں سے بالکل بے خبر رہتے ہیں جو اس سرزمین کے محافظ روزانہ اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر رقم کر رہے ہیں۔
جب گفتگو اپنے اختتام کو پہنچی تو شام گہری ہو چکی تھی۔ برگد کے پرانے درخت کے سائے تلے بیٹھے استاد صادق نے ایک گہری سانس لی، اپنے سامنے بکھرے ہوئے تاش کے پتے سمیٹے، مسکرائے اور بولے:”چلو یارو! بہت ہو گئی سیاست اور دنیا بھر کی باتیں… اب یہ بتاؤ، تم میں سے کسی نے ماشاء اللہ، کھانا کھایا ہے یا ابھی بھی چائے کی پیالیوں پر گزارا کر رہے ہو؟”
استاد صادق کے اس اچانک مگر محبت بھرے سوال پر وہاں بیٹھے سب لوگوں کے اداس چہروں پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھر گئی۔ سیاسی بحثوں اور قومی بحرانوں کے بعد وہ اچانک زندگی کی اس حقیقت میں لوٹ آئے جہاں بھوک، محبت اور اپنوں کی فکر سب سے پہلے آتی ہے۔
شاید یہی اس مٹی کا اصل حسن ہے کہ یہاں بڑے سے بڑے سیاسی طوفان اور نظام کے گہرے زخم بھی محبت کی حرارت کو ختم نہیں کر سکتے۔ جب کوئی اپنا خلوص سے پوچھ لے، "ماشاء اللہ، کھانا کھایا؟” تو زندگی کی ساری تھکن ایک لمحے میں اتر جاتی ہے، اور امید کا چراغ پھر سے روشن ہو اٹھتا ہے کہ ایک دن ہم ان اندھیروں سے نکل کر اپنی منزل خود پا لیں گے۔



