
صدرآپ کی مرضی کا، وزیراعظم آپ کی مرضی کا،کابینہ آپ کی مرضی کی، گورنرآپ کی مرضی کے، وزرائے اعلیٰ آپ کی مرضی کے، پارلیمنٹ میں اکثریت آپ کی مرضی کی، 26ویں ترمیم آپ کی مرضی کی، 27ویں ترمیم آپ کی مرضی کی،عدلیہ آپکی مرضی کی، جب اقتدار کے تمام مراکز ایک ہی سمت میں کھڑے ہوں اورپھربھی یہ اعلان کرنا پڑے کہ ’’سسٹم فیل ‘‘ ہو گیا، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ صرف نظام ناکام ہوا ہے، یہ بھی ماننا پڑے گا اسے چلانے والے ناکام ہوگئے۔۔۔۔ سوال صرف یہ نہیں نظام ناکام کیوں ہوا۔۔۔؟ اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے، آخراس نظام کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں تھی۔۔۔؟

پاکستان کی سیاست اس وقت شاید اپنی سب سے نازک موڑ پرکھڑی ہے۔ بظاہر حکومت قائم ہے، ادارے اپنی جگہ موجود ہیں، اسمبلیاں بھی کام کر رہی ہیں، لیکن پس منظرمیں ایک ایسی بے چینی محسوس کی جا سکتی ہے جو کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ اسی تناظر میں میری اطلاعات یہ ہیں کہ آنے والے ایک سے ڈیڑھ ماہ میں پاکستان ایک غیرمعمولی سیاسی فیصلے کے دہانے پر کھڑا ہو سکتا ہے۔
اطلاعات یہ ہیں کہ یا تو 28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ملک کے انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں کی جائیں گی، جن میں نئے صوبوں اورنئے انتظامی یونٹس کے قیام جیسے اہم فیصلے بھی شامل ہو سکتے ہیں، یا پھراگریہ راستہ ہموارنہ ہو سکا تو موجودہ سیاسی بندوبست خود ایک بڑے امتحان سے گزرے گا۔ ایسی صورت میں صدرمملکت سمیت اتحادی حکومت کا سورج غروب ہوتا نظر آرہا،یعنی ستمبر’’ ستمگر ‘‘ ہوسکتا۔۔۔۔
اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو یہ صرف ایک آئینی ترمیم یا حکومت کی تبدیلی کا معاملہ نہیں ہوگا، بلکہ اس سے بھی بڑا سوال یہ ہوگا کہ کیا ہم ایک بارپھرنظام کی بنیادوں کو مضبوط کرنے جا رہے ہیں، یا صرف پرانی عمارت پر نئی رنگ و روغن کر کے قوم کو ایک اورامید بیچنے کی کوشش کی جائے گی۔۔۔؟ کیونکہ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی اصلاحات کے نام پرصرف اختیارات کی تقسیم بدلی گئی، مگراحتساب، میرٹ، انصاف اورادارہ سازی کو نظرانداز کیا گیا، تو چند برس بعد وہی مسائل پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ واپس آ گئے۔۔۔
اصل سوال 28ویں ترمیم نہیں، اصل سوال پاکستان کا مستقبل ہے۔ اگر واقعی نئے صوبے بنتے ہیں، نئے انتظامی یونٹس قائم ہوتے ہیں یا آئینی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی آتی ہے تو قوم کو صرف ایک بات کا اطمینان ہونا چاہیے کہ کیا اس سے عام آدمی کی زندگی بدلے گی۔۔۔؟ کیا تھانے میں انصاف آسان ہوگا۔۔۔؟ کیا سرکاری دفتر میں سفارش کی جگہ قانون لے گا۔۔۔؟ کیا نوجوان کو روزگار ملے گا۔۔۔؟ کیا سرمایہ کارکو اعتماد ملے گا۔۔۔؟
اگران سوالوں کا جواب نفی میں ہے تو پھر چاہے ترمیم 28ویں ہو یا 38ویں، عوام روٹی کو ہی ترستے رہیں گے۔پاکستان کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ ہم نے اکثرنظام کی اصلاح اورنظام کی مرمت کو ایک ہی چیز سمجھ لیا۔ کہیں عہدے بدل دیے، کہیں وزارتیں بڑھا دیں، کہیں محکموں کے نام تبدیل کر دیے، مگر وہ بیماریاں جوں کی توں رہیں جنہوں نے ریاست کو کمزور کیا۔
دنیا کی کامیاب ریاستیں اس لیے مضبوط نہیں ہوئیں کہ انہوں نے زیادہ آئینی ترامیم کیں، بلکہ اس لیے کہ انہوں نے ایسے ادارے قائم کیے جو حکمرانوں سے بھی زیادہ طاقتور، قانون کے پابند اورعوام کے سامنے جواب دہ تھے۔آج اگرخود یہ اعتراف سامنے آ رہا ہے کہ ’’سسٹم فیل ‘‘ ہو گیا، تو اس اعتراف کو صرف ایک سیاسی بیان سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ شاید یہ وہ لمحہ ہے جب پاکستان کو پہلی بار دیانت داری سے یہ طے کرنا ہوگا کہ مسئلہ افراد میں ہے یا نظام میں۔۔۔؟ اختیارات میں ہے یا احتساب میں۔۔۔؟ اورسب سے بڑھ کریہ کہ ریاست عوام کے لیے ہے یا عوام ریاست کیلئے ہیں۔۔۔؟ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب آنے والی نسلوں کی تقدیر کا فیصلہ کرے گا۔۔۔
قومیں اس دن تباہ نہیں ہوتیں جب ان پرقرض بڑھ جاتا ہے، بلکہ اس دن زوال کی طرف بڑھنا شروع ہوتی ہیں جب وہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کے باوجود انہیں درست کرنے کی ہمت کھو دیتی ہیں۔ پاکستان بھی آج ایک ایسے ہی دوراہے پرکھڑا ہے۔ ایک راستہ وہ ہے جہاں پھرکوئی نئی ترمیم، کوئی نیا انتظامی خاکہ اورچند نئے چہرے لا کر قوم سے کہا جائے کہ اب سب کچھ بدل جائے گا۔
دوسرا راستہ وہ ہے جہاں پہلی مرتبہ ریاست یہ تسلیم کرے کہ اصل طاقت عوام ہیں، اورنظام کی بنیاد بھی عوام کی آزاد رائے، مضبوط ادارے، قانون کی بالادستی اورمیرٹ پر ہونی چاہیے، نہ کہ شخصیات کی خواہشات پر۔۔۔۔اگرواقعی یہ مان لیا گیا ہے کہ موجودہ نظام ناکام ہوچکا ہے تو پھراس ناکامی کا علاج بھی روایتی نہیں ہونا چاہیے۔ ایک ناکام ڈھانچے پر نئی منزل تعمیر کرنے سے عمارت مضبوط نہیں ہوتی،بنیادوں کو درست کرنا پڑتا ہے، اور بنیادیں صرف آئینی ترامیم سے نہیں بلکہ اداروں کی اصلاح، اختیارات کی منصفانہ تقسیم، شفاف احتساب اورعوامی اعتماد سے مضبوط ہوتی ہیں۔۔۔
شاید اسی لیے آج یہ سوال پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوچکا ہے۔۔۔۔۔ جب !! صدرآپ کی مرضی کا، وزیراعظم آپ کی مرضی کا،کابینہ آپ کی مرضی کی، گورنرآپ کی مرضی کے، وزرائے اعلیٰ آپ کی مرضی کے، پارلیمنٹ میں اکثریت آپ کی مرضی کی، 26ویں ترمیم آپ کی مرضی کی، 27ویں ترمیم آپ کی مرضی کی،عدلیہ آپکی مرضی کی، پھر بھی ’’سسٹم فیل ‘‘ ہو گیا،میرا مشورہ ہے !! اب سب کچھ عوام کی مرضی کا لاکر دیکھ لیاجائے،ایک بار تجربہ کرلینا چاہیے۔۔۔۔
ہو سکتا ہے یہی وہ فیصلہ ہو جو پاکستان کی اگلی نصف صدی کا رخ متعین کر دے۔ ورنہ تاریخ کا سبق بڑا بے رحم ہے، وہ ریاستوں کو غلطیوں پر سزا دینے میں کبھی دیر نہیں کرتی، اور قوموں کو بار بار ایک ہی امتحان دینے کا موقع بھی ہمیشہ نہیں ملتا۔۔۔بہرحال اگلے 45دن بہت اہم ہیں،پاکستان،زندہ باد۔۔۔



