انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاعلاقائی خبریں

عمران بڑے کھلاڑی،اعصاب پر سوار،باہرجانے سے انکار،ڈیل اورڈھیل کا امکان

لاہور:(تجزیہ،میاں حبیب)عمران خان مضبوط اعصاب کا مالک کھلاڑی ہے ورزش اس کی زندگی کا لازمی حصہ ہے وہ شاید کھانا کھائے بغیر تو رہ سکتا ہے لیکن ورزش کیے بغیر نہیں رہ سکتا میں نے انھیں انتہائی سیاسی مصروفیات کے دنوں میں بھی ورزش کرتے دیکھا بطور وزیراعظم وہ اپنی ٹانگوں کے ساتھ وزن باندھ کر پہاڑ چڑھتے تھے ان کا سیکورٹی سٹاف بھی تنگ تھا کہ ہمیں خواہ مخواہ پہاڑ چڑھنے پڑتے ہیں اور ساتھ ساتھ بھاگنا پڑتا ہے۔

imran-khan

وہ بیماری کی حالت میں بھی ورزش کیا کرتے تھے جیل میں بھی ان کی مصروفیات میں کتابیں پڑھنا اور ورزش کرنا تھا عمران خان عمر کے اس حصے میں بھی ڈولنے والے نہیں تھے لیکن قید تنہائی نے انھیں ،سٹریس، سے دوچار کر دیا انھوں نے قید کے دوران کبھی گلہ شکوہ نہیں کیا کئی بار ان کی صحت کے بارے میں تحفظات کا اظہار بھی کیا گیا تو انھوں نے پامردی سے کہا میں بالکل ٹھیک ہوں کئی بار بیرون ملک علاج کے حوالے سے کہا گیا تو انھوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو میں یہیں سے علاج کروا لوں گا باہر نہیں جائوں گا۔

imran-khan

کہتے ہیں کہ انھیں بیرون ملک جانے کی آفرز بھی دی گئی تھیں لیکن وہ نہ مانے انھوں نے کہا میں بالکل ٹھیک ہوں کئی بار انھیں طریقے طریقے سے ٹٹولنے کی کوشش کی گئی کہ شاید وہ اندر سے ٹوٹ گئے ہوں لیکن انھوں نے کبھی اس کا اظہار نہ کیا ہمیشہ یہی ثابت کیا کہ میں بالکل ٹھیک ہوں ان کی میڈیکل رپورٹس بھی یہی ظاہر کرتی رہیں کہ وہ قائم دائم ہیں لیکن پچھلے 6،7 ماہ سے ان کی ملاقاتوں پر جو پابندی لگائی جا رہی ہے اس سے انھیں سٹریس ہو گیا ہے ان کا بلڈ پریشر بھی ہائی ہونے لگ پڑا ہے ڈاکٹرز کے مطابق انھیں جو آنکھ کا مسئلہ ہوا ہے اس کے پیچھے جو عوامل کار فرما ہیں ان میں خون کا گاڑھا ہونا ہے جس کی وجہ سے ان کی آنکھ متاثر ہوئی۔

imran-khan

حکومت نے تہیہ کر رکھا تھا کہ عمران خان کو باہر کی ہوا نہیں لگوانی جس دن سے وہ اڈیالہ جیل گئے ہیں ان کے تمام کیسز بھی وہیں جیل کے اندر ٹرائل ہوتے ہیں ایک دن بھی انھیں جیل سے باہر نہیں لایا گیا عمران خان کی فیملی اور پارٹی کو تشویش ہوئی کہ حکومت رات کے اندھیرے میں انھیں ہسپتال کیوں لے کر گئی ہے اس کا مطلب ہے کہ ان کی صحت کے حوالے سے معاملہ سنگین ہے پچھلی بار جب ان پر لمبے عرصے تک ملاقاتوں پر پابندی تھی تو ان کی زندگی پر سوال اٹھنے لگے تو ان کی فیملی سے ملاقاتوں کے بعد معاملات نارملائز ہو گئے تھے لیکن اس بار تاحال نہ تو ان کی فیملی سے ان کی ملاقات کروائی جا رہی ہے نہ ذاتی معالجین سے اور نہ ہی پارٹی رہنماؤں سے ملاقات کروائی جا رہی ہے ۔

IMRAN-KHAN

قیاس کیا جا رہا ہے کہ ان کے مکمل صحت مند ہونے تک ان سے ملاقات نہیں کروائی جائے گی ان کی تازہ ترین میڈیکل رپورٹ میں حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ ان کی آنکھ جس حد تک متاثر ہوئی تھی اس میں بہتری آ رہی ہے ان کو پہلا انجکشن 25 جنوری کو لگایا گیا تھا دوسرا 25 فروری اور تیسرا 25 مارچ کو لگایا جائے گا جس سے ان کی آنکھ ٹھیک ہو جائے گی سرکاری رپورٹ کے مطابق انھیں ہسپتال داخل کروانے کی ضرورت نہیں ان کا مناسب علاج ہو رہا ہے۔

khwaja asif
فائل فوٹو

وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی طرف سے بیرون ملک علاج کا کوئی مطالبہ یا تقاضہ نہیں کیا گیا اس کا مطلب ہے کہ اگر عمران خان چاہے تو وہ بیرون ملک علاج کے لیے جا سکتے ہیں اور حکومت انھیں بھیجنے کے لیے تیار ہے ایک اور وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ اگر فریقین ڈیل پر رضامند ہوں تو ڈیل ہو سکتی ہے ایک فریق تو تحریک انصاف ہے پتہ نہیں وہ دوسرا فریق حکومت کو سمجھتے ہیں یا اسٹیبلشمنٹ کو بہرحال کوئی نہ کوئی گیم ضرور آن ہے ۔

imran-khan-adyala

جہاں تک عمران خان کا تعلق ہے وہ کسی صورت ملک سے باہر نہیں جانا چاہتے وہ اپنی سیاست کو ڈیمج کرنے کے لیے تیار نہیں وہ کئی ایک کے اعصاب پر سوار رہنا چاہتے ہیں، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ اب جب عمران خان کی صحت بارے رپورٹ آچکی کہ وہ ٹھیک ہیں تو اب احتجاج کرنے والوں کو سڑکیں خالی کر دینی چاہیں ورنہ وفاقی حکومت راست اقدام کرے گی اس بار احتجاج کرنے والوں کے ساتھ رویے میں بھی تھوڑی بہت تبدیلی نظر آ رہی ہے اور یہ تاثر بھی کافی گہرا ہو رہا ہے کہ تحریک انصاف سے کوئی ڈیل ہو رہی ہے اور آنے والے دنوں میں ڈھیل بھی نظر آئے گی اور اس کے لیے ماحول بنایا جا رہا ہے اب تو رابطہ کار بھی منظر عام پر آچکے ہیں۔

فائل فوٹو

وفاقی وزیر داخلہ سہولت کاری کر رہے ہیں تحریک انصاف میں بھی لچک پیدا ہوئی ہے اللہ کرے سیاسی عدم استحکام ختم ہو معاملات آگے بڑھیں ملک میں جاری افراتفری اور غیر یقینی کا خاتمہ ہو تاکہ کاروباری فضا بہتر ہو سکے ملکی معیشت کا پہیہ چلنا شروع ہو۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button