انٹر نیشنلتازہ ترینجرم-وسزا

ایران نےآبنائے ہرمز پر اپاچی ہیلی کاپٹر مارگرایا،ٹرمپ کا جواب دینے کا اعلان

تہران کیساتھ 2 سے 3 دن میں مضبوط اور موثر معاہدہ طے پاسکتا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ،رویہ نہ بدلا تو کوئی امن معاہدہ نہیں ہوگا، غیر ملکی افواج یہاں سے چلی جائیں: ایران

 

واشنگٹن، تہران: (ویب ڈیسک )ایران نے آبنائے ہرمز پر گشت کرنیوالا امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر مارگرایا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے ہمیں اس کا جواب دینا ہوگا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے گزشتہ روز آبنائے ہرمز کے اوپر گشت کرنے والا امریکی فوج کا انتہائی جدید اپاچی ہیلی کاپٹر مارگرایا۔

اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری پیغام میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مجھے ابھی ہماری عظیم فوج نے آگاہ کیا ہے کہ گذشتہ رات ایرانیوں نے آبنائے ہرمز پر گشت کے دوران ہمارے ایک انتہائی جدید اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا۔اس ہیلی کاپٹر میں دو پائلٹ سوار تھے جو اس واقعے میں محفوظ رہے۔اس حملے کے جواب میں امریکہ کو لازماً ردّعمل دینا ہوگا۔اس سے قبل امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اپاچی ہیلی کاپٹر کے کریش سے متعلق ایک بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ہیلی کاپٹر عمان کے ساحل کے قریب گر کر تباہ ہوا ہے اور امریکی افواج نے اس کے دونوں پائلٹس کو بچا لیا ہے۔

سینٹکام کا کہنا تھا کہ ہیلی کاپٹر ’علاقائی پانیوں میں گشت‘ کر رہا تھا جب یہ واقعہ پیش آیا۔قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ ایک مضبوط اور مؤثر معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکا ہے، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی نے تہران پر بمباری کے مقابلے میں زیادہ دباؤ ڈالا ہے،ہم یہ جنگ جیت رہے ہیں، لیکن اصل فتح اگلے دو ہفتوں میں نظر آئے گی جب ہم مکمل فتح کا اعلان کریں گے۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بہت اچھا، مضبوط اور طاقتور معاہدہ طے پانے کے قریب ہے۔ان کے مطابق اگر امریکہ چاہے تو ایران پر مزید دو یا تین ہفتے تک آسانی سے بمباری کر سکتا ہے، لیکن اس صورت میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوگا، جسے وہ نہیں چاہتے۔ٹرمپ نے کہا فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی حل زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے اور ان کی خواہش ہے کہ دونوں فریق ایک ایسے معاہدے تک پہنچیں جو جنگی کارروائی سے بھی زیادہ مضبوط ہو۔امریکی صدر کے مطابق ایران پر عائد بندرگاہی ناکہ بندی نے غیر معمولی اثرات مرتب کیے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اقتصادی دباؤ اور ابتدائی امریکی اقدامات کے امتزاج نے ایران کی معیشت کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے باعث تہران معاہدہ کرنے پر آمادہ ہو سکتا ہے۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر وسیع پیمانے پر بمباری کی جاتی تو آبنائے ہرمز طویل عرصے تک بند رہ سکتی تھی، جس کے عالمی توانائی کی ترسیل اور عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہوتے۔دوسری جانب ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں امن معاہدے کے حوالے سے بھی امید ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ فریقین ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور وہ اس عمل کے ’آخری مراحل‘ میں ہیں۔جب ان سے پوچھا گیا کہ معاہدہ کتنے عرصے میں ممکن ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ پیش رفت آئندہ دو سے تین دن کے اندر سامنے آ سکتی ہے۔ٹرمپ کے ان بیانات کو ایسے وقت میں اہم قرار دیا جا رہا ہے جب خطے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی، جنگ بندی کی کوششیں اور سفارتی رابطے عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ادھر ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم کے لیے منعقدہ ایک ٹیلی ریلی سے خطاب کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے سخت مؤقف اختیار کیا ہے اور ان کے بقول ہم یہ جنگ جیت رہے ہیں، لیکن اصل فتح اگلے دو ہفتوں میں نظر آئے گی جب ہم مکمل فتح کا اعلان کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ مکمل فتح بہت جلد سامنے آئے گی اور اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں نمایاں طور پر نیچے آنا شروع ہو جائیں گی۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ٹرمپ نے اپنی تقریر میں کسی مخصوص فوجی، سفارتی یا قانونی منصوبے کی تفصیلات فراہم نہیں کیں جس کی بنیاد پر مکمل فتح کا اعلان کیا جائے گا۔ایران کی جانب سے اس بیان پر فوری باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ٹرمپ نے براہِ راست تیل کی قیمتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فتح کے بعد قیمتیں گر جائیں گی، تاہم توانائی منڈیوں کے ماہرین عام طور پر قیمتوں کی سمت کا انحصار سپلائی، آبنائے ہرمز کی صورتحال، پابندیوں، جنگی خطرات اور عالمی طلب جیسے متعدد عوامل پر کرتے ہیں۔ اس لیے یہ ٹرمپ کا سیاسی و معاشی دعوی ہے، کوئی سرکاری مارکیٹ پیش گوئی نہیں۔امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران متعدد سفارتی رابطے ہوئے ہیں۔ مشرقِ وسطی کے پانچ مختلف ممالک نے ان سے رابطہ کیا اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو پر ایران کے خلاف حملے روکنے کے لیے دبائو ڈالنے کی درخواست کی۔ٹرمپ کے مطابق یہ ممالک ایران اور امریکہ کے درمیان زیرِ غور معاہدے کی حمایت کرتے ہیں اور خطے میں کشیدگی میں اضافے پر تشویش رکھتے ہیں۔ایگزیوس اور اسرائیلی میڈیا کے مطابق امریکی صدر نے یہ دعوی بھی کیا کہ ایران نے ان کی انتظامیہ کو پیغامات بھیجے ہیں جن میں حملے روکنے پر آمادگی ظاہر کی گئی، بشرطیکہ اسرائیل بھی اپنی کارروائیاں بند کر دے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ایران نے امریکہ سے رابطہ کر کے درخواست کی کہ اسرائیل کو بھی مزید حملے نہ کرنے کا کہا جائے۔امریکی صدر نے ایک بار پھر ایران اور اسرائیل پر زور دیا کہ وہ کشیدگی میں اضافے سے گریز کریں اور سفارت کاری کی راہ اختیار کرتے ہوئے تنازع کے حل اور ایران-امریکہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھائیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نےامریکی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں امریکہ اپنے اہداف حاصل کرنے کے لئے مضبوط اور اچھی پوزیشن میں ہے۔جے ڈی وینس نے کہا ایرانی اس جنگ کو مزید جاری نہیں رکھنا چاہتے، یہ ان کے مفاد میں نہیں، میرا خیال ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر آرہے ہیں اور سنجیدہ تجاویز پیش کر رہے ہیں، جن کی ہم یقینا تصدیق کریں گے۔امریکی نائب صدر کا مزید کہنا تھا کہ اگر ہم معاہدے تک پہنچ جاتے ہیں تو یہ امریکی عوام کے لیے ایک بڑی کامیابی ثابت ہوگا۔ادھر ایران نے امریکہ کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر مذاکرات میں پیشرفت کی تصدیق کر دی۔اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعیدایروانی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ ممکنہ معاہدے کے متن کو حتمی شکل دینے کے لیے تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے کہا کہ فریقین ابھی حتمی متن تک نہیں پہنچے، تاہم مذاکرات میں پیشرفت جاری ہے اور امید ہے یہ عمل جون کے اختتام تک مکمل ہو جائے گا۔روسی خبر ایجنسی کے مطابق امیر سعید ایروانی نے کہا مسودے اور گفتگو کا تبادلہ پاکستان کے ذریعے کیا گیا ۔ جنگ بندی کے مسودے میں لبنان سمیت تمام علاقوں کو شامل کیا جائےگا۔ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ ایران کو امریکہ پر اعتماد نہیں اور اگر واشنگٹن کا موجودہ رویہ برقرار رہا تو دونوں ممالک کے درمیان امن مذاکرات کامیاب ہونا تو دور، جاری رکھنا بھی مشکل ہو جائے گا۔امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ابراہیم عزیزی نے کہا کہ ایران کو یہ تاثر نہیں ملتا کہ امریکی صدر اور امریکی حکومت مذاکرات کے معاملے میں مکمل سنجیدگی اور دیانت داری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ان کے مطابق ایران مذاکرات کو وسیع تر سیاسی اور سفارتی کشمکش کا حصہ سمجھتا ہے، تاہم اگر امریکہ سنجیدہ رویہ اختیار کرے تو مذاکرات پر کوئی اعتراض نہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران مذاکرات کے اصولوں اور بین الاقوامی ضابطوں کی پابندی کا خواہاں ہے۔ اگر امریکہ بھی انہی اصولوں کے مطابق آگے بڑھے تو بات چیت کا عمل جاری رہ سکتا ہے۔ابراہیم عزیزی نے مذاکرات میں درپیش رکاوٹوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو ابھی تک ایسا کوئی قابلِ عمل فریم ورک نظر نہیں آیا جس کے ذریعے کسی حتمی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔ ان کے مطابق ایران کے منجمد اثاثوں کا مسئلہ اس عدم اعتماد کی ایک نمایاں مثال ہے، جس پر پیش رفت نہ ہونے سے مذاکراتی عمل متاثر ہو رہا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت یورینیم افزودگی اور ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے اور نہ ہی موجودہ مرحلے پر یہ معاملات مذاکراتی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کسی بھی معاہدے کا انحصار امریکہ کے عملی رویے پر ہے۔ اگر موجودہ طرزِعمل جاری رہا تو معاہدے کے امکانات کمزور ہو جائیں گے کیونکہ اعتماد کے بغیر مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکتے۔ایرانی رہنما نے مزید کہا کہ اگر ایران کی طے شدہ شرائط پوری کی جائیں، قومی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے، اقتصادی معاملات میں پیش رفت ہو اور لبنان سمیت علاقائی مسائل پر عملی اقدامات کیے جائیں تو مذاکرات آگے بڑھ سکتے ہیں۔ بصورت دیگر ایران اپنے مؤقف اور خطے میں اپنے اتحادیوں کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔انہوں نے زور دیاکہ لبنان اور خطے کے دیگر معاملات ایران کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہیں اور تہران ان مسائل پر اپنے مؤقف میں کسی قسم کی نرمی دکھانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ایران کے پارلیمانی سپیکر اور اعلی مذاکرات کار باقر قالیباف نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ نہ جنگ بندی کا خواہاں ہے اور نہ ہی بامعنی مذاکرات چاہتا ہے، باقر قالیباف نے ٹیلیگرام پر جاری اپنے آفیشل بیان میں اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ ایران کو اپنے عوام کے حقوق کے دفاع کے لیے فیصلہ کن ردعمل دینا ہوگا۔باقر قالیباف نے واضح کیا کہ ایران کی حکمت عملی صرف جنگ یا صرف مذاکرات پر مبنی نہیں ہوگی۔ ہم اپنے وقت پر لڑیں گے اور اپنے وقت پر مذاکرات بھی کریں گے۔ ہمارا بنیادی مقصد جنگ کا خاتمہ اور پائیدار سلامتی کا قیام ہے۔انھوں نے دعوی کیا کہ لبنان کے معاملے نے ثابت کردیا، سفارتی اور فوجی محاذ مل کر مخالفین کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرسکتے ہیں۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کے قریب موجود غیر ملکی افواج مسلسل خطرے میں ہیں اور انہیں اس علاقے سے نکل جانا چاہیے۔انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی سرزمین کے قریب موجود غیرملکی افواج اپنے انسانی غلطیوں، حادثات یا ممکنہ طور پر کراس فائر میں پھنسنے کے باعث مسلسل خطرے میں ہیں۔عباس عراقچی نے مزید کہا کہ خطرات کو کم کرنے کا بہترین حل یہ ہے کہ غیر ملکی افواج یہاں سے چلی جائیں۔سینئر عرب سفارتی ذرائع کے مطابق ایران، امریکہ اور خطے کی مجموعی صورتحال سے متعلق ایک ممکنہ معاہدے کی جانب پیشرفت ہوتی دکھائی دے رہی ہے، تاہم مغربی سفارتکاروں نے خبردار کیا ہے کہ مذاکراتی عمل کے حوالے سے ضرورت سے زیادہ امید وابستہ کرنا قبل از وقت ہو سکتا ہے۔۔ مبصرین کا کہنا ہے موجودہ مذاکرات اگرچہ کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہو سکتے ہیں، تاہم ان کے فوری سیاسی یا سماجی نتائج کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
اپاچی ہیلی کاپٹر

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button