ایران،امریکہ مذاکرات میں اہم پیشرفت،بنیادی اصولوں پر اتفاق
امریکی بحری جہاز ایران کے مزید قریب پہنچ گیا ،تہران ڈیل چاہتا ہے:ٹرمپ،امریکی مضبوط فوج کو بھی ایسا تھپڑ پڑ سکتا ہے کہ وہ اٹھ نہ سکے: خامنہ ای
جنیوا،تہران:(ویب ڈیسک )ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق جوہری معاملے پر ایران اور امریکہ کے درمیان ’بالواسطہ‘ مذاکرات کا دوسرا دور جنیوا میں اختتام پذیر ہو گیا۔ایرانی وفد اقوام متحدہ میں عمانی سفیر کی رہائش گاہ پر موجود تھا،ایرانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ایرانی وفد مذاکرات کے عمل سے مطمئن ہے اور اس کے جاری رہنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہےکہ رہنما اصولوں پر کلی اتفاق ہوا ہے، اور ان اصولوں کی بنیاد پر ہم ایک متن لکھنا شروع کریں گے البتہ اگلے دور کے لیے ’کوئی مخصوص وقت طے نہیں ہوا اور فیصلہ ہوا کہ ایک ممکنہ معاہدے کے متن پر کام کریں، پھر ایسے متن کا تبادلہ کریں اور پھر تیسرے دور کے لیے تاریخ مقرر کریں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران ڈیل کرنا چاہتا ہے۔دوران پرواز طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران مذاکرات میں بالواسطہ طور پر شامل رہوں گا۔مزید براں امریکا نے ایران پر یومیہ 800 مرتبہ فضائی حملے کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی، ابراہام لنکن بحری بیڑا ایران کے مزید قریب پہنچ گیا ہے۔

علاوہ ازیں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکا کی مضبوط فوج کو بھی ایسا تھپڑ پڑ سکتا ہے کہ وہ اٹھ نہ سکے۔ایک بیان میں ایرانی سپریم لیڈرنے کہا کہ امریکی صدر اسلامی جمہوریہ ایران کو نہیں گرا سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ امریکی صدر اپنی فوج کو دنیا کی مضبوط ترین فوج قرار دیتے ہیں، دنیا کی سب سے مضبوط فوج کو بھی ایسا تھپڑ پڑ سکتا ہے کہ وہ اٹھ نہ سکے۔آیت اللہ علی خامنہ ای کا کہنا تھا کہ جنگی جہاز سے زیادہ خطرناک وہ ہتھیار ہے جو اسے سمندر کی تہہ میں بھیج سکتا ہے، مذاکرات کے نتائج کو پہلے سے طے کرنا احمقانہ ہے۔
دریں اثنا امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنا ایک مشکل امر ہوگا، تاہم واشنگٹن اس سلسلے میں اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لائے گا۔ مارکو روبیو نے ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ طے پانا مشکل کام ہے، ہم ہمیشہ سے یہی کہتے آئے ہیں کہ یہ کٹھن ہے لیکن ہم کوشش کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے مذاکرات کار اس وقت وہاں جا رہے ہیں جہاں وہ ملاقاتیں کریں گے، اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ہوتا ہے، ہمیں امید ہے کہ کوئی معاہدہ طے پا جائے گا۔



