ایران کے میزائلوں نے اسرائیل میں تباہی مچا دی، 200 ہلاک
ایران نے 48گھنٹے میں آبنائے ہرمز کو نہ کھولا تو سخت کارروائی، ٹرمپ کی دھمکی
تہران، تل ابیب، ریاض، واشنگٹن، لندن، برن، ماسکو، کولمبو ( ویب ڈیسک) ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ جاری ہے۔ اسرائیل نے تہران کے مختلف علاقوں پر مزید حملے کئے ہیں، جن میں شہر کے مشرقی حصے میں دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔
ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں میں اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ اصفہان اور خارگ کے مختلف علاقوں میں بھی فضائی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، ان شہروں کے متعدد حصے فضائی حملوں کی زد میں آئے ہیں، جس کے بعد علاقے میں دھماکوں اور دھوئیں کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان علی محمد نائنی اسرائیلی حملے میں شہید ہو گئے ہیں، جس کی تصدیق ایرانی میڈیا نے کی ہے۔ حملوں کے ردعمل میں ایران کے بھی اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک پر میزائل حملے جاری ہیں۔
اسرائیلی شہروں دیمونا اور عراد میں ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں متعدد یہودی ہلاک اور قریباً 160زخمی ہو گئے، متعدد عمارتیں بھی تباہ ہوئی ہیں۔ جبکہ ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز نے کہا ہے کہ میزائل حملوں میں اسرائیل کے مختلف شہروں میں فوجی تنصیبات اور سکیورٹی مراکز کو نشانہ بنایا، جن میں ایلات، دیمونا، بیرشیبا، کریات شامل ہیں۔ پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ یہ حملے صرف اسرائیل تک محدود نہیں رہے، بلکہ کویت میں علی السلیم ایئر بیس، یو اے ای میں دو اڈوں کو نشانہ بنایا، ان حملوں میں 200سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ ایرانی حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے تہران کی فضائوں میں ایک امریکی، اسرائیلی ڈرون مار گرایا، جبکہ پاسداران انقلاب نے اسرائیلی لڑاکا طیارہ گرانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ اسرائیل میں ایرانی حملوں کے بعد ہنگامی اقدامات کیے گئے ہیں۔ وزیراعظم نیتن یاہو نے صورتحال کو ’’ انتہائی مشکل‘‘ قرار دیتے ہوئے ریسکیو اداروں کو مزید مضبوط کرنے کی ہدایت دی ہے۔
اسرائیلی وزارت تعلیم نے ملک بھر میں تعلیمی ادارے بند کر دئیے ہیں جبکہ جنوبی علاقوں میں اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ادھر ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں امریکی صدر نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ایران کی قیادت ختم ہو چکی ہے، بحری اور فضائی قوت تباہ ہو گئی ہے اور ملک کے پاس کوئی موثر دفاع باقی نہیں رہا، ایران اب معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن میں ایسا نہیں چاہتا۔ امریکی صدر نے کہا کہ ایران 48گھنٹے میں آبنائے ہرمز کھول دے، ایران نے اگر مقررہ وقت میں آبنائے ہرمز کو نہ کھولا تو امریکہ ایران کے مختلف پاور پلانٹس کو نشانہ بنائے گا اور سب سے بڑے پلانٹ سے آغاز کرتے ہوئے اسے تباہ کر دے گا، یہ کارروائی ایران کی جانب سے ممکنہ رکاوٹوں کے جواب میں ہوگی۔
ٹرمپ نے مزید کہا ہے کہ امریکہ کے بغیر نیٹو ایک کاغذی شیر ہے۔ ہم ان کا یہ رویہ یاد رکھیں گے۔ دوسری جانب ایرانی حکام نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد مذاکرات سے متعلق کسی بھی پیشکش کو مسترد کیا ہے۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے بجلی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا تو وہ خطے میں توانائی اور پانی کی تنصیبات پر حملے کر سکتا ہے۔ ایرانی فوج کے مرکزی کمانڈ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایران نہ صرف تیل و گیس کی تنصیبات بلکہ پانی صاف کرنے والے پلانٹس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نظام کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے، خاص طور پر وہ تنصیبات جو امریکہ اور اسرائیل سے منسلک ہوں۔ مزید برآں ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے عیدالفطر کے موقع پر اسلامی اور ہمسایہ ممالک کے نام پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کا کسی بھی برادر ملک سے کوئی تنازع نہیں۔
اپنے پیغام میں ایرانی صدر نے کہا کہ اسلامی دنیا کے درمیان اختلافات سے صرف صیہونی ریاست فائدہ اٹھا رہی ہے، اس لیے اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ موجودہ جنگ ایران پر مسلط کی گئی ہے اور ملک صرف دفاعی اقدامات کر رہا ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایران اس وقت تک اپنی دفاعی کارروائیاں جاری رکھے گا جب تک ضرورت محسوس ہوگی۔ مزید برآں ایران نے بحر ہند میں واقع امریکی فوجی اڈے ڈیاگو گارشیا پر میزائل حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کر دی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق ایران کا ان حملوں سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی اس نے اس کارروائی میں کوئی کردار ادا کیا ہے۔ ادھر عراق میں سرگرم مزاحمتی گروپ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے اربیل میں واقع امریکی زیرِ انتظام ہریر ایئر بیس کے تین اہم اور حساس مقامات کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے جس کے بعد وہاں امریکی فوجی سرگرمیوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔ مزید برآں برطانوی جوہری آبدوز نے بحیرہ عرب میں پوزیشن سنبھال لی ہے۔ برطانوی اخبار کے مطابق جوہری آبدوز ٹوماہاک کروز میزائلوں سے لیس ہے۔ دریں اثنا امریکہ نے عارضی طور پر ایرانی تیل کی فروخت کی اجازت دے دی ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق نئے لائسنس کے تحت جہازوں پر لوڈ تیل کی فروخت کی اجازت ہوگی۔
حکام کا کہنا ہے کہ نیا لائسنس 19اپریل تک فعال رہے گا۔ جبکہ ایران نے کہا ہے کہ پابندیاں ختم کرنے کی بات صرف خریداروں کو امید دلانے کے لیے ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب نے ایران کے 2فوجی اتاشیوں اور ان کی عملے کے 3ارکان کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔ ادھر یورپی یونین نے ایران جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ یورپی یونین کے مطابق ایران جنگ سے فوری طور پر یورپ کی جانب نقل مکانی میں اضافہ نہیں ہوا۔ یورپی یونین نے ممکنہ نقل مکانی کے خدشات پر تیاری مکمل رکھنے پر زور دیا ہے۔
یورپی یونین کے مطابق یورپ اپنی سکیورٹی کے لیے سفارتی، قانونی اور مالی وسائل استعمال کرے گا۔ مزید برآں عالمی سفارتی محاذ پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں جی 7ممالک نے ایران سے فوری اور غیرمشروط طور پر تمام حملے روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، برطانیہ اور امریکہ پر مشتمل جی 7ممالک نے مشترکہ بیان میں ایران اور اس کے اتحادی گروہوں کی جانب سے کیے گئے حملوں کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملے بلاجواز ہیں اور خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اپنے بیان میں اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ جی 7ممالک اپنے علاقائی شراکت داروں کی مکمل حمایت جاری رکھیں گے۔ ادھر روس کے صدر ولادی میر پوتن نے ایرانی قیادت کو نوروز کی مبارکباد دیتے ہوئے ایران کی بلامشروط حمایت کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ ماسکو مشکل وقت میں تہران کا قابلِ اعتماد دوست اور شراکت دار ہے اور ہر مشکل گھڑی میں ایران کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ دوسری جانب سوئٹزرلینڈ نے ایران جنگ کے دوران اپنی غیر جانبداری برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے امریکہ سمیت جنگ میں شامل ممالک کو اسلحے کی برآمدات معطل کر دی ہیں۔ ادھر سری لنکا نے بھی امریکی جنگی طیاروں کو اپنے اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ جبکہ چین نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے حل کے لیے مذاکرات پر زور دیا ہے۔



