
بدترین سیاسی عدم استحکام، بڑھتے ہوئے غیر ملکی قرضے،آئی ایم ایف کی من مانی شرائط، برداشت سے باہر ہوتی مہنگائی، بیروز گاری، زرعی و صنعتی انحطاط ، غربت کی شرح میں اضافہ اور بعض دوسرے منفی عوامل بلا شبہ ملکی حالات کو انارکی کی طرف لے جا رہے ہیں۔عالمی سود خور ادارے آئی ایم ایف نے گیارہ نئی سخت شرائط کے ساتھ جواپنا منصوبہ پیش کیا ہے وہ پاکستان کے لیے ”پھانسی کاپھندا“ثابت ہو گا۔

ہمارے حکمران اپنے اقتدار کو طول دینے اور اپنی عیاشیوں کے لیے ملک و قوم کو اس ”پھانسی کے پھندے“ پر چڑھا رہے ہیں۔آئی ایم ایف نئی سخت ترین شرائط پر عمل شروع ہوتے ہی مزید مہنگائی کا ایک بڑا طوفان آئے گا۔ آئی ایم ایف کے منصوبے سے ملکی معیشت پر بوجھ پڑے گا اور اس کا براہِ راست اثر عام آدمی کے مفادات پر ہوگا۔ بجلی، گیس اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے جہاں لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، وہیں ہماری صنعتیں بھی سخت بحران کا شکار ہوں گی۔ پاکستانی حکمرانوں کی پالیسیوں سے ہماری ”معاشی غلامی“ پوری طرح آشکار ہوچکی ہے۔
ہمارے تمام حکمرانوں نے ملک کی معیشت کو ”قرضوں کی معیشت“ نہ بنایا ہوتا تو آج طرح طرح کے معاشی، سیاسی، تزویراتی اور دفاعی خطرات ہمارے سروں پر نہ منڈلا رہے ہوتے۔تاریخی حقائق سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے ادارے ” دجال “ کے شیطانی نظام کو پوری دنیا میں نافذ کرنے کے مشن پر گامزن تنظیموں ” فری میسن ،المناٹی اور کمیٹی آف 300 “کے اہم ترین ہتھیاروں کی حیثیت رکھتے ہیں، ان ہتھیاروں کا مقصد غریب اور کمزور بالخصوص اسلامی ممالک کی معیشت کو بحران سے نکالنا نہیں بلکہ اسے بحران میں مبتلا کرنا اور بحران میں مبتلا ”رکھنا“ ہے تاکہ دجال کا شیطانی نظام نافذ کیا جا سکے۔ ان دجالی تنظیموں کی معاونت ،امریکہ ، اسرا ئیل ، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن ، اقوام متحدہ اور نیٹو فورسز کر رہے ہیں۔

پاکستانی معیشت کی حیثیت اس بندریا کی سی ہے جو”عالمی اقتصادی دہشت گرد“ آئی ایم ایف کی ڈگڈگی پر برسوں سے ناچ رہی ہے اور پاکستانی قوم اس تماشے میں مدتوں سے ”تماشائی“ کا کردار ادا کررہی ہے۔جبکہ پاکستان کے حکمران مداری کے ”بچہ جمورا “کی طرح ”تماشائی“کی جانب سے ملنے والے پےسوں کو اکٹھا کر نے میں مگن ہیں۔ قومیں صرف اپنی ”سیاسی آزادی“ سے نہیں، اپنی ”معاشی آزادی“ سے بھی پہچانی جاتی ہیں، مگر جیسے ہماری اسٹیبلشمنٹ اور سول حکمرانوں نے ہمیں کبھی امریکہ کے شکنجے سے نکلنے اور سیاسی آزادی حاصل نہیں کرنے دی اسی طرح انہوں نے ہمیں شعوری طور پر معاشی آزادی سے بھی محروم رکھا۔ پاکستان کی معیشت آئی ایم ایف جیسے ”معاشی دہشت گردوں “کے ہاتھ میں ہے۔

آئی ایم ایف کا پروگرام عملاً ملک و قوم کے لیے پھانسی کا پھندا بن گیا ہے۔ اس وقت عام آدمی کی معاشی مشکلات اس حد تک بڑھ گئی ہیں کہ اس کے پاس موجودہ حالات میں اپنی زندگی کی بہتری کے لیے آپشنز محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ آمدنی اور اخراجات میں عدم توازن نے تنخواہ دار طبقے اور لوئر یا مڈل کلاس طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ لیکن حکمران طبقہ بڑی ڈھٹائی کے ساتھ بار بار قوم کو جھوٹے وعدے اور تسلیاں دے رہا ہے کہ ملک معاشی طور پر مستحکم ہو رہا ہے اور اگلے چند برسوں میں پاکستان کی معیشت ترقی کے عمل میں بہت آگے ہوگی لیکن پاکستان کے آزاد معاشی ماہرین حکومت کے ان دعوﺅں کی تردید کرتے ہیں۔

آئی ایم ایف کافی عرصے سے پاکستان کو ادارہ جاتی اصلاحات کی طرف توجہ دلاتا رہا ہے اور اس کے بقول اگر پاکستان نے بالخصوص بیوروکریسی، عدلیہ، ایف بی آر، پولیس اور ٹیکس نظام سمیت معاشی اصلاحات نہ کیں تو پاکستان نہ تو سیاسی طور پر مستحکم ہو سکے گا اور نہ ہی معاشی طور پر آگے بڑھ سکے گا۔ پاکستان کا مروجہ سیاسی نظام بنیادی طور پر اصلاحات کے خلاف ہے، وہ ایسی اصلاحات چاہتے ہیں جو براہِ راست حکمرانوں یا طاقتور طبقات کے مفادات میں ہوں۔
آئی ایم ایف اپنے اہداف کا حصول چاہتا ہے اور اگر اس کے لیے حکومت براہِ راست لوگوں پر ٹیکس لگاتی ہے تو آئی ایم ایف کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے۔ اس لیے مسئلہ آئی ایم ایف سے زیادہ ہمارے حکمران طبقات ہیں، جو معیشت کو بطور ہتھیار اپنے مفادات کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ہمارا اس وقت مکمل انحصار عالمی مالیاتی اداروں یا دیگر ممالک سے ملنے والی امداد پر ہے۔ ہم نہ تو صنعتیں لگا رہے ہیں اور نہ ہی معیشت کے لیے خود سے کوئی ترقیاتی منصوبہ رکھتے ہیں۔ ایسے میں جب ہم دوسروں پر محتاج ہوں گے تو پھر ان کے فیصلے بھی ہم پر مسلط ہوں گے، جیسے آئی ایم ایف ہم پر اپنے معاشی فیصلے مسلط کرتا ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا ہے کہ پاکستان کا حکمران طبقہ عوامی مفادات کے خلاف کھڑا ہے۔ ہماری معیشت میں عام آدمیوں کے لیے سوائے خیراتی منصوبوں کے کچھ نہیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے منصوبے بھی، اول تو کرپشن کی نذر ہو جاتے ہیں، اور دوسرا یہ کہ اس طرح کے منصوبوں سے غریب لوگوں کی معاشی ترقی یا انہیں معاشی طور پر مستحکم کرنا بھی ممکن نہیں ہوتا۔

حکومت اپنے غیر ترقیاتی اخراجات کم کرنے کے لیے تیار نہیں، اور اس کی شاہانہ طرزِ حکمرانی کی مثالیں دیکھ کر لگتا نہیں کہ ہم ایک مہذب اور شفاف معاشرہ ہیں۔ جب ہمارے نظام میں حکمرانوں کا کوئی احتساب نہیں ہوگا تو وہ ایسے ہی معاشی نظام کو چلائیں گے اور اسے اسی طرح کی لوٹ مار کے ساتھ آگے بڑھانے کی کوشش کریں گے۔ خود آئی ایم ایف جیسے اداروں کا مسئلہ یہ ہے کہ جب وہ پاکستان جیسے ملکوں کو قرض دیتے ہیں یا ان کے ساتھ منصوبوں کی منظوری دیتے ہیں تو وہ بھی آگے جا کر ہماری جواب دہی کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ یہ ادارے حکمرانوں سے پوچھنے کے لیے تیار نہیں کہ پہلے وہ ہمارے پیسوں کا حساب دیں اور پھر نئے منصوبوں کی بات کریں۔ اس لیے جہاں ہمارے حکمران قصوروار ہیں، وہیں یہ بڑے مالیاتی ادارے بھی برابر کے قصوروار ہیں، جن کی وجہ سے ہماری معیشت کو سخت چیلنجز کا سامنا ہے۔ ہمارے حکمران ہمیشہ یہ بات کرتے ہیں کہ آئی ایم ایف کے ساتھ یہ منصوبہ آخری ہوگا اور اگلے برس ہم اپنے پاﺅں پر خود کھڑے ہوں گے، لیکن پھر وہی کہانی دہرائی جاتی ہے اور ہم اگلے برس بھی آئی ایم ایف کے سامنے کھڑے ہو کر امداد کے منتظر ہوتے ہیں۔

پاکستانی معیشت عالمی سودی نظام کے شکنجے میں ہے وطن عزیز بدترین معاشی زبوں حالی کا شکار ہے، عوام کی تلخ زندگی میں ہمارے حکمراں مزید زہر بھر رہے ہیں، بہتری کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی ہے۔ روپے کی قدر گرتی جارہی ہے اور ڈالر مہنگا ہوتا جارہا ہے، مہنگائی ہے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہی ہے، پیٹرول اور ڈیزل کے نرخوں میں ہوشربا اضافہ ہوچکا ہے اور جلد ہی مزید اضافہ بھی یقینی نظر آرہا ہے۔ غریب اور کم آمدنی والے تنخواہ دار طبقے کا تو پہلے ہی برا حال تھا، اب کھاتے پیتے متوسط گھرانوں کے لیے بھی مشکلات بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں، ملک میں سیاسی غیر یقینی کی فضا چھائی ہوئی ہے ، آئندہ آنے والے دنوں میں کیا ہوگا؟ یہ سوال ہر شخص کی زبان پر ہے لیکن اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔
ہمارے حکمرانوں نے قرضوں کی معیشت کے ذریعے ریاست کو بھکاری بنادیا ہے۔ ہم کبھی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے در پر، تو کبھی سعودی عرب اور چین کے در پر بھیک مانگ رہے ہوتے ہیں۔ لیکن اہم نقطہ یہ بھی ہے کہ برسوں میں لیا گیا کھربوں ڈالر کا قرضہ کہاں چلا جاتا ہے ؟ کسی کو کچھ پتا نہیں کہ یہ کہاں خرچ ہوا اور کہاں ہو رہا ہے؟ان کی معاشی پالیساں اپنا اثر دکھانے میں ناکام رہی ہیں اس وقت قرضوں میں جکڑی پاکستان کی معیشت بے بسی کی تصویر بن چکی ہے۔آئی ایم ایف کے کہنے پر گیس، بجلی اور بنیادی ضرورتوں کے نرخ مقرر کیے جا رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کے کہنے پر ہی غریبوں کو مختلف مدت میں دی جانے والی رعایت ختم کی جارہی ہیں۔یا سارا کھیل ایسے ہی نہیں ہے پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اصل میں دشمن کو ایک آنکھ نہیں بھاتی ہے اصل تو وہ نشانے پر ہے ۔
وطن عزیز کی بد قسمتی یہ ہے کہ ہمیں جو بھی حکمران ملے ہیں وہ فوجی آمر ہوں یا نام نہاد جمہوری حکمران ، سب کے سب نہایت ڈھٹائی سے جھوٹ بول کر قوم کو دھوکہ دینے میں عار محسوس نہیں کرتے ، اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں جھوٹوں پر لعنت بھیج کر اپنی شدید نا پسندیدگی کا اظہار کیا ہے اور اس پر شدید عذاب کی وعید سنائی ہے مگر ہمارے حکمران اور سیاستدان اپنے رب کی اس نا پسندیدگی کی پرواہ کیے ہوئے شدید عذاب کی وعید کو بھی فراموش کر دیتے ہیں اور جھوٹ اور فریب کے ذریعے عوام کو بے وقوف بنانا کمال فن سمجھتے اور اس پر فخر کرتے ہیں۔ملکی سیاسی صورت حال کا تجزیہ یہی ہے کہ آج ملک ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اسے اپنے معاشی مستقبل کے لیے حتمی فیصلہ کرنا ہے۔
یہ ایسی فیصلہ کن گھڑی ہے جس میں قوم کو سیاسی جماعتوں کی جانب سے بہترین رہنمائی درکار ہے، اور ملک کی سیاسی جماعتوں کی لیڈرشپ مشکل فیصلوں کے خطرات مول لینے کو تیار نہیں، اس کا نتیجہ یہ ہوسکتا ہے کہ غیر جمہوری قوت ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے کے لیے کود سکتی ہے۔البتہ کسی بھی سیاسی جماعت کی حکومت ہو ان کے ماہرین معیشت ایک جیسے اقدامات ہی اٹھاتے ہیں، اور مقصد صرف ایک ہی ہوتا ہے، بیرونی ایجنڈوںکی تکمیل کرنا، پاکستان کو کمزور رکھنا اور اس کی آڑ میں خوب کرپشن کرنا، دولت لوٹنا اور ملک سے باہر چلے جانا ہے۔ اس وقت ریاست چلانے والے عناصر کو مفت پٹرول کے ساتھ بجلی اور ٹیلی فون، اہلخانہ کو مفت فضائی سفر، مفت ریلوے سفر وغیرہ جیسی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔
اگر ان کو عوام کا درد ہوتا تو یہ صرف پٹرول کی قیمت نہ بڑھاتے بلکہ اپنے اخراجات کم کرتے۔ ججوں، فوجی افسران، بیوروکریٹس، وزرائ، مشیران، ارکانِ اسمبلی، سینیٹ و اسٹیئرنگ کمیٹیوں کے ارکان، سب کو مفت پٹرول کی دی گئی سہولت ختم کرتے۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔حکمران اگر واقعی عوام کے ہمدرد اور انہیںمہنگائی کے مزید بوجھ سے بچانے میں سنجیدہ ہوں تو اس کا واحد قابل عمل راستہ یہی ہے کہ وہ سب سے سود پر مبنی نظام ختم کریں ۔پھر اپنے شاہانہ اخراجات ختم کریں، ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹ کو ملنے والی بے پناہ مراعات میں خاطر خواہ کٹوتی کریں کہ ان میں اکثریت کا تعلق جاگیردار اور سرمایا دار طبقے سے ہے مگر اس کے باوجود وہ قومی خزانے کو لوٹنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اسی طرح دیگر سرمایا داروں اور اعلیٰ بیورو کریٹس کو بھی قناعت اور سادہ زندگی بسر کرنے پر آمادہ کریں، اگر حکمران اور اشرافیہ سادگی اور قناعت کو اپنا شعار بنا لیں تو ملک کو قرض اور آئی ایم ایف کے چنگل سے نجات دلائی جا سکتی ہے۔



