انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاعلاقائی خبریںکالم

’’بورڈ آف ٹیررزم‘‘ دنیا کی امن شکن طاقت

تحریر:عاصم رضا خیالوی

دنیا میں امن کے نام پر کچھ ایسے نظام نے جنم لیا ہے جو حقیقت میں انسانیت کے خلاف کھڑا ہے۔ ایک نام بہت حسین Board of Peace — مگر اس کا اصل چہرہ حقیقت میں Board of Terrorism ہے، ایک ایسا عالمی کھیل جو دنیا کو تباہی کے دھارے میں دھکیل رہا ہے۔ یہ وہ بورڈ ہے جس نے دنیا کے وسائل، ٹیکنالوجی، توانائی اور بے گناہ انسانوں کی زندگی کو اپنی طاقت اور قبضے کے لیے استعمال کیا۔ آج فضا میں خوشبو اور چہچہاتے پرندے کی جگہ ڈرونز، کیمیائی ہتھیار اور جدید جنگی طیارے لے چکے ہیں۔ انسان زندگی اور موت کے درمیان ایک کھیل دیکھ رہا ہے، جبکہ سمندر کے پانی زہریلا ہوتا جا رہا ہے اور اس کے نیچے جتنی بھی مخلوقات تھیں وہ خطرے میں ہیں۔
اقوام متحدہ، جسے امن اور انسانی حقوق کے محافظ کے طور پر دنیا نے دیکھا تھا، آج بہت حد تک خاموش محسوس ہوتی ہے۔ اگرچہ اس کے اندر اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو انسانی اقدار، جنگ روکنے اور امن قائم کرنے کے لیے کوشش کرتے ہیں، لیکن بورڈ آف ٹیررزم کے خوف کے سامنے یہ آواز بہت مدھم پڑ گئی ہے۔ یہ نظام اپنے وجود کو امن کے نام پر پروان چڑھاتا ہے تاکہ دنیا کے تیل، سونا اور ٹیکنالوجی پر قبضہ کیا جا سکے، اور اس قبضے کو برقرار رکھنے کے لیے دہشت، خوف اور بدامنی کو فروغ دیا جائے۔
مشرق وسطیٰ وہ خطہ ہے جہاں یہ کھیل سب سے زیادہ شدت سے کھیلا گیا۔ اسرائیل اور فلسطین کے دیرینہ تنازعے نے جو انسانی المیے دنیا نے دیکھے، وہ اس علاقے کے خوف کی حقیقی تصویر پیش کرتے ہیں۔ اسی خوف کو خلیج کے ممالک—سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور دیگر—پر بھی مسلط کیا گیا۔ انہیں باور کرایا گیا کہ اگر وہ اپنے وسائل اور معیشت کی حفاظت چاہتے ہیں تو انہیں دو طاقتوں—ایران اور اسرائیل—سے ہمیشہ چوکس رہنا ہوگا، کیونکہ یہ ممالک ان کی سالمیت اور سرحدوں کے لیے ممکنہ خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
اب یہ عرب ممالک بھی سمجھنے لگے ہیں کہ اپنی بقا، عزت نفس اور قدرتی وسائل کی حفاظت کے لیے انہیں اپنے دفاع اور بازوؤں پر خود غور کرنا ہوگا۔ اگر ایسا نہ کیا تو دنیا کی طاقتیں ان کے وسائل اور معیشت کو نگل سکتی ہیں۔ اتحاد، مشترکہ دفاع اور اسٹریٹجک سوچ کے بغیر کوئی ملک اپنی حفاظت نہیں کر سکتا۔
یہ ممالک قدرتی وسائل اور معاشی طاقت سے مالا مال تھے، لیکن دفاعی لحاظ سے مکمل طور پر خودمختار نہیں تھے۔ اپنی حفاظت کے لیے انہوں نے امریکہ کو اعتماد سونپا کہ وہ ان کے دفاعی نظام کی تمام ضروریات پوری کرے گا۔ امریکہ نے ان ممالک میں اپنے جدید، مہنگے اور ہوا میں میزائلوں کو ناکارہ کرنے والے دفاعی نظام نصب کیے۔ قطر، عمان اور بحرین نے اربوں ڈالر کے یہ سسٹمز خریدے اور امریکی دفاعی اڈے قائم کیے، جہاں دنیا کے جدید ترین طیارے بھی تعینات کیے گئے، اور اس دفاعی نظام کے لیے امریکی افواج کی مہنگی تربیتی سیریز فراہم کی گئی۔
لیکن جب کشیدگی واقعی عروج پر پہنچی اور ایران کے دفاعی اور میزائل سسٹمز نے مظاہر دکھائے، تو یہ تمام مہنگے اور جدید دفاعی نظام ناکارہ ثابت ہوئے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران کے مزائل اور دفاعی ٹیکنالوجی کے آگے یہ سسٹمز بنیادی سطح پر ناکام ہو گئے۔ یہ سب منظرنامہ نہ صرف دفاع کی ناکامی بلکہ مشرق وسطیٰ کے اقتصادی اور قدرتی وسائل پر قبضے کی ایک منصوبہ بندی کی عکاسی کرتا ہے، جیسے تاریخ میں وینزویلا کے ساتھ ہوا تھا—کمزور ممالک پر قبضہ، وسائل پر کنٹرول، اور اپنی طاقت کے مظاہرے کے لیے مصنوعی کشیدگی پیدا کرنا۔ یہ سب کچھ بورڈ آف ٹیررزم کی عالمی سازش کا حصہ ہے، جس نے نہ صرف جنگ کے خوف کو بڑھایا بلکہ مشرق وسطیٰ کے طاقتور ممالک کو بھی اپنے زیرِ اثر لا کر ان کے وسائل پر قبضہ کرنے کی راہ ہموار کی۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے 2000 کی دہائی کے اوائل میں موقف اختیار کیا کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا اور ایٹمی ہتھیار کا استعمال اسلام میں حرام ہے۔ اس بیان کو اکثر فتویٰ کے طور پر پیش کیا گیا، جس کے تحت ایران نے جوہری ہتھیار بنانے سے انکار کیا۔ متعدد رسمی بیانات میں ایرانی حکام نے کہا کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں چاہتا اور نہ ہی انہیں تیار کرے گا۔ صدر ایران کے دفتر نے بھی یہی کہا ہے کہ سپریم لیڈر کا فتو یٰ جوہری ہتھیاروں کو حرام قرار دیتا ہے، اور یہ ایران کے اصولی موقف کی نمائندگی کرتا ہے۔
تاہم عالمی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور اس کے اتحادی ایران پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں، اور ایران ممکن ہے اگلے ایک یا دو ہفتوں میں اپنے ایٹمی پاور ہونے کا اعلان کرے، یعنی تجربہ کر کے دنیا کو اپنی طاقت کا توازن دکھا دے۔ یہ اقدام نہ صرف ایران کی دفاعی پوزیشن کو مضبوط کرے گا بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان توازن بھی بدل سکتا ہے۔
دنیا میں ایسے بہت سے این جی اوز، بین الاقوامی تنظیمیں اور معاشرتی ادارے ہیں جو ہمیشہ سے جنگ روکنے، انسانی جانوں کی حفاظت، بچوں کے حقوق اور بنیادی انسانی اقدار کے لیے کام کرتے آئے ہیں۔ لیکن آج وہ بورڈ آف ٹیررزم کے خوف اور دباؤ میں مدھم پڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ وہ ادارے ہیں جنہوں نے کبھی دنیا کو جنگ کے خلاف آواز اٹھانے، امن کے لیے احتجاج کرنے، اور طاقتور طاقتوں کو جوابدہ بنانے کے لیے مضبوط موقف اختیار کیا تھا۔ آج اگر وہ باہر نکلیں، پوری دنیا کے عوام، نوجوان، ماحولیاتی کارکن، انسانی حقوق کے محافظ ایک ساتھ کھڑے ہوں — تب شاید یہ بورڈ آف ٹیررزم کمزور پڑ جائے۔ دنیا میں امن کا مطلب صرف جنگ نہ رکنا نہیں، بلکہ انسان کی قدر، امید، خوشحالی، علم و فن اور قدرتی حسن کو زندہ رکھنا بھی ہے۔
دنیا کی کوئی بھی مقدس کتاب چاہے وہ قرآن مجید، بائبل، زبور، گیتا، رامائن یا گرنتھ صاحب ہو، سب میں انسانیت کی حفاظت، بے گناہوں کی حرمت اور ظلم کی مخالفت کا پیغام موجود ہے۔ کسی بھی مذہبی اور اخلاقی نظام نے انسانوں کا بے وجہ قتل نہیں سکھایا۔ لیکن آج وہ چند طاقتیں، جو اپنے ذاتی عزائم اور لالچ کے لیے دنیا کو تباہی کی طرف لے جا رہی ہیں، اصل میں بورڈ آف ٹیررزم کی شکل میں دنیا کو خوف زدہ کر رہی ہیں۔
اگر عالمی برادری متحد ہو کر ایک Board of Peace بن جائے — ایک ایسا عالمی طاقتور اتحاد جو امن، انسانی حقوق اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے کھڑا ہو — تو دنیا ایک بار پھر امن، سکون اور خوبصورتی کی طرف لوٹ سکتی ہے۔ دنیا کی فضا کو دوبارہ چہچہاتے پرندوں سے بھرنے دو، اس کی زمین کو سبزہ، پانی کو شفاف رکھنے دو، اور انسانوں کو خوف کے بجائے امید اور خوشی دینے کا موقع دو۔ آئیے، بورڈ آف ٹیررزم کے سامنے کھڑے ہوں، دنیا کو ایک Board of Peace میں تبدیل کریں، تاکہ انسان اپنی زندگی بھرپور انداز میں جئیں — نہ کہ زہریلے خوف، تباہ جنگوں اور آلودہ فضاؤں میں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button