خیبرپختونخوا حکومت کامراعاتی بل کی متنازع شقیں واپس لینے کا فیصلہ
قانون کو 1988کے ایکٹ کے مطابق بحال ، درست کیا جائے گا، مشیر اطلاعات

پشاور: (ویب ڈیسک)خیبر پختونخوا حکومت نے اراکین اسمبلی کی مراعات سے متعلق ایکٹ کی تمام قابل اعتراض شقیں واپس لینے کا فیصلہ کر لیا۔ مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان کے مطابق وزیراعلی سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اراکین کا اجلاس ہوا جس میں سپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔
وزیراعلی کی ہدایات اور سپیکر صوبائی اسمبلی کی مشاورت سے مراعات ایکٹ کی تمام قابلِ اعتراض شقیں واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ان شقوں کو ختم کرکےقانون کو 1988کے ایکٹ کے مطابق بحال اور درست کیا جائے گا تاکہ عوامی تحفظات کا ازالہ کیا جا سکے۔
شفیع جان نے کہا پیر کو اہم اجلاس میں تمام پارلیمانی رہنماؤں کو بھی اس حوالے سے اعتماد میں لیا جائے گا تاکہ اس معاملے پر وسیع مشاورت سے فیصلہ کیا جا سکے۔خیبر پختونخوا میں فارم 45 کی حکومت عوامی مینڈیٹ سے قائم ہوئی ہے اس لیے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا جو عوامی امنگوں کی ترجمانی نہ کرتا ہو۔حکومت صحافیوں اور عوام کی جانب سے سامنے آنے والے تمام تحفظات کو بھی سنے گی اور ان کی روشنی میں مناسب اقدامات کیے جائیں گے۔
ادھر سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی اور وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے مابین مشاورت، سول سوسائٹی کی جانب سے سامنے آنے والے تحفظات اور تجاویز کے پیشِ نظر پیرکو تمام پارلیمانی قائدین کا اہم اجلاس طلب کر لیاگیا جس میں اراکین خیبرپختونخوا اسمبلی کے استحقاقات و مراعات سے متعلق مجوزہ بل پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔
اجلاس میں سول سوسائٹی، صحافیوں اور دیگر متعلقہ حلقوں کی جانب سے سامنے آنے والی آراء، تجاویز اور تحفظات کی روشنی میں بل کی مختلف شقوں پر مشاورت کی جائے گی تاکہ ایک متوازن، جامع، قابلِ عمل اور عوامی توقعات سے ہم آہنگ قانون سازی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اجلاس میں خیبرپختونخوا اسمبلی میں نمائندگی رکھنے والی تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی قائدین، صوبائی وزیر اطلاعات شفیع اﷲ جان، صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم، چیف وہپ خیبرپختونخوا اسمبلی اکبر ایوب خان بھی شریک ہوں گے۔سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے کہا خیبرپختونخوا اسمبلی درحقیقت عوام کا ایوان ہے، اور اس ایوان میں ہونے والی ہر قانون سازی کا محور عوامی مفاد، شفافیت اور جمہوری اقدار ہیں۔ ہماری اولین ترجیح عوام کا اعتماد اور سول سوسائٹی کی مثبت آراء ہیں۔
اگر کسی مجوزہ قانون پر معاشرے کے مختلف طبقات کی جانب سے تجاویز یا تحفظات سامنے آئیں تو پارلیمان کی ذمہ داری ہے کہ انہیں سنجیدگی سے سنے، ان پر کھلے دل سے مشاورت کرے اور تمام سٹیک ہولڈرز کی آراء کی روشنی میں ایسی قانون سازی کو یقینی بنائے جو عوامی امنگوں، آئینی تقاضوں اور جمہوری روایات سے مکمل ہم آہنگ ہو۔



