انٹر نیشنلتازہ ترینجرم-وسزا

اسرائیل کا کروز میزائلوں سے حملہ، 2 ایرانی جنرل، 3 سائنسدانوں سمیت 91 شہید،ایران نے 10 طیارے مار گرائے

تل ابیب دھماکوں سے گونج اٹھا، کئی عمارتیں تباہ، 7ہلاک، 170 زخمی،سعودی ولی عہد ،امریکی صدر، برطانوی وزیر اعظم کے رابطے، ٹرمپ اور پیوٹن کا بھی مشرق وسطی کی سنگین صورتحال پر تبادلہ خیال،چین کا ایران کی حمایت کا اعلان

تہران، تل ابیب: (ویب ڈیسک)ایران اور اسرائیل کے ایک دوسرے پرحملے جاری ہیں،اسرائیل نے ایران پر کروز میزائلوں سے حملہ کردیا جس میں 91شہری شہید ہوگئے ۔ایران کے جوابی حملوں میں اسرائیل کی کئی عمارتیں تباہ ہوگئیں جبکہ خاتون سمیت 5 اسرائیلی شہری ہلاک اور 170 سے زائد زخمی ہوگئے۔ ایران نے دعوی کیا ہے کہ گزشتہ ایک گھنٹے کے دوران 10 اسرائیلی طیارے مار گرائے گئے ہیں۔

ایران کی جانب سے اسرائیل پر حملوں کا سلسلہ رات بھر جاری رہا اور 200 سےزائد ہائپر سانک اور بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا گیا۔ایران کی جانب سے تل ابیب میں اسرائیلی جوہری تحقیقی مرکز اور اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے ہیڈکوارٹرز پر بھی میزائل حملہ کیا گیا۔ایران کے حملوں میں 7 فوجیوں سمیت تقریباً 80 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی حکام نے 3 ہلاکتوں اور 170 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق کئی میزائل وسطی اسرائیل میں گرے جن میں تل ابیب کے علاقے میں بڑے دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں اور کئی مقامات پر دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔اسرائیلی فوج نے ایرانی حملوں سے تباہی کی فوٹیج بنانے پر پابندی عائد کر دی۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق نئے ایرانی حملے میں تل ابیب میں 50 منزلہ عمارت کو نقصان پہنچا جبکہ اسرائیلی حکام نے شہریوں کو دوبارہ بنکرز میں جانے کی ہدایت کردی۔

ایرانی میڈیا کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ حملوں میں اشددود، تل ابیب، حیفہ اور بیرشیبا میں سٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ایرانی حکام کے مطابق کئی میزائل اور ڈرون تل ابیب تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ، میزائل حملے آغاز ہیں، اسرائیل کا کوئی حصہ بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ ایران نے دعوی کیا ہے کہ گزشتہ ایک گھنٹے کے دوران 10 اسرائیلی طیارے مار گرائے گئے ہیں۔ایران کی فضائی حدود تاحکم ثانی بند کر دی گئی ہے۔

ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی فوجی اڈوں سمیت جو ممالک اسرائیل کا دفاع کریں گے، اْنہیں بھی نشانہ بنایا جائے گا۔اسرائیلی فوج کے مطابق ایرانی حملوں میں استعمال ہونے والے متعدد ڈرونز کو فضائیہ اور بحریہ نے تباہ کردیا۔اسرائیلی فضائیہ نے ایران کے درجنوں بیلسٹک میزائل لانچرز کو تباہ کرنے کی ویڈیوز جاری کی ہیں۔اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے ایران کے سپریم لیڈر کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسرائیل پر میزائل حملے جاری رہے تو تہران جل کر راکھ ہو جائے گا۔آئی ڈی ایف کے چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر اور اسرائیلی ایئر فورس کے سربراہ میجرجنرل تومر بار نے ایک جائزہ رپورٹ میں کہا کہ تہران تک جانے والا راستہ ہموار ہو چکا ہے۔

اسرائیلی فوج کے حکام نے کہا کہ منصوبے کے مطابق ایئر فورس کے لڑاکا طیارے تہران میں اہداف پر حملے شروع کریں گے۔ اسرائیل نے اپنی ایئرفورس کو ایران پر حملے کی مکمل آزادی دیدی ہے، تازہ اسرائیلی حملے میں مزید دو جنرلز، 3 جوہری سائنسدانوں،20 بچوں سمیت 65 ایرانی شہری شہید ہوگئے۔ اصفہان میں پاور سٹیشن کے قریب دھماکے کے بعد دھویں کے بادل اٹھتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔ اسرائیل کے تازہ حملوں میں دس سے زیادہ ایرانی شہروں کو نشانہ بنایا گیا، 30 ایرانی فوجی اور ہلال احمر کا ایک کارکن شہید جبکہ55 افراد زخمی ہوئے۔

عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل نے صوبہ مشرقی آذربائیجان میں 19مقامات پر حملے کیے۔ اسرائیل نے صوبہ بوشہر میں دنیا کی سب سے بڑی گیس فیلڈ کو بھی نشانہ بنایا ۔اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایران کی اصفہان نیوکلیئر سائٹ پر حملہ کر کے اہم تنصیبات اور لیبارٹریز کو تباہ کر دیا ہے، مزید دو ایرانی جنرل کو بھی مار دیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق تہران کے مہرآباد ہوائی اڈے پر 2 میزائل گرے جبکہ ایرانی میڈیا نے وہاں آگ لگنے کی اطلاعات دی ہیں۔ ایران کے سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ تہران پر تازہ ترین اسرائیلی حملوں کے نتیجے 60 شہری شہید ہوئے ہیں، شہید ہونے والوں میں 20 بچے بھی شامل ہیں۔قبل ازیں میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ صہیونی افواج نے دوسرے روزبھی ایران کے مختلف شہروں پر بمباری کی ہے، مہر آباد ایئرپورٹ اور زنجان میں فوجی چھاؤنی سمیت کئی مقامات پر آگ و خون کی ہولی کھیلی گئی۔ فرانسیسی خبر رساں میڈیا کے مطابق ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کا کہنا ہے اسرائیلی حملوں میں ایران کے2 سینئر جنرل شہید ہو گئے ۔

شہید ہونے والوں میں مسلح افواج کے جنرل سٹاف کی انٹیلی جنس کے نائب سربراہ جنرل غلام رضا محرابی اور آپریشنز کے نائب سربراہ جنرل مہدی ربانی شامل ہیں۔ مزید 3 ایرانی ایٹمی سائنسدان اسرائیلی حملوں میں شہید ہو گئے ہیں، جاں بحق ہونے والے سائنسدانوں کی شناخت علی بقائی کریمی،منصور عسکری اور سعید برجِی کے طور پر ہوئی ہے۔ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم کے ترجمان نے کہا اسرائیل کے حملے میں فردو اور اصفہان میں واقع ایران کی جوہری تنصیبات کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا۔

ادھر ایرانی مسلح افواج کے سپریم لیڈر آیت اﷲ سید علی خامنہ ای کے حکم پر میجر جنرل امیر حاتمی کو اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کا نیا چیف کمانڈر، اور بریگیڈیئر جنرل سید مجید موسوی کو پاسداران انقلاب کی ایرو سپیس فورس کا نیا کمانڈر مقرر کر دیا ۔

دریں اثناء سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےٹیلی فون پر رابطہ کیا اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔دونوں رہنمائوں نے تحمل سے کام لینے اور کشیدگی میں کمی، تمام تنازعات کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی اہمیت پر زوردیا۔ انہوں نے مشرق وسطی میں سلامتی، امن اور استحکام کے حصول کےلیے مشترکہ کوششوں کی اہمیت کا بھی اعادہ کیا۔ برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کےدرمیان بھی ٹیلیفون پر رابطہ ہوا ہے۔ دونوں رہنمائوں نے مشرق وسطی کی سنگین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

سعودی ولی عہد اور برطانوی وزیراعظم نے ایران اسرائیل کشیدگی کو کم کرنے پر اتفاق کرتے ہوئے کہ یہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ برطانوی وزیراعظم نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ آنے والے دنوں میں ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر اس کا سفارتی حل کے لیے بھرپور کوششیں کریں گے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے روسی صدر پیوٹن سے ٹیلیفون پرگفتگو کی جس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پربات کی گئی۔صدرپیوٹن نےکہا روس ایران کیخلاف اسرائیلی فوجی آپریشن کی مذمت کرتا ہے۔کریملن حکام کے مطابق دونوں صدور نے ایران جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکان کو رد نہیں کیا۔

ٹرمپ نےبتایا امریکی مذاکرات کار ایرانی نمائندوں کیساتھ کام دوبارہ شروع کرنےکے لیے تیار ہیں۔چین کے وزیر خارجہ نے ایران اور اسرائیلی وزرائے خارجہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔چین کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس گفتگو کا مقصد مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ وزیر خارجہ وانگ یی نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو یقین دلایا کہ آپ کے جائز حقوق اور مفادات کے دفاع میں آپ کا ساتھ دیں گے۔

وانگ یی نےمزید کہا کہ چین خطے میں امن اور استحکام کے لیے تمام فریقین کو تحمل اور صبر کا مظاہرہ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔بعد ازاں چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے اسرائیلی وزیر خارجہ سے بھی گفتگو کی اور دوٹوک انداز میں باور کرایا کہ ایران پر طاقت کے استعمال کی مخالفت کرتے ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ چین تمام ممالک کی خودمختاری اور سالمیت کا احترام کرتا ہے۔ موجودہ تنازع کو بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے حل کرنے کا حامی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button