پنجاب پولیس کا’’ نیفہ جسٹس‘‘صرف ماڑے شکار،تگڑے پہنچ سے باہر
ریپ سمیت بڑے بڑے جرائم پر کسی جاگیر دار، رکن اسمبلی یا بیوروکریٹ کیخلاف نیفہ جسٹس سسٹم متحرک نہ ہوا،حکمرانوں کے پائوں اٹکانے ، بادشاہت قائم ودائم رکھنے میں بھی پولیس کا اہم کردار
لاہور:(رپورٹ/میاں حبیب) نیفہ جسٹس کا شکار تمام لوگ غریب ماتڑ قسم کے ایک جیسے ہی ہیں ان میں کسی بڑے جاگیر دار بااثر افراد کسی ایم پی اے ایم این اے بیوروکریٹ کا رشتہ دار یا رئیس زادہ شامل نہیں اسی طرح قتل اغوا ڈکیتی ریپ اور سنگین جرائم میں ملوث افراد بھی ایک خاص عرصہ سے ایک خاص انداز میں مقام عبرت کو پہنچ رہے ہیں یہ سب لوگ بھی اپنے غیر تربیت یافتہ دوستوں ساتھیوں کے حق دوستی کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں اور تمام لوگ پولیس کی تحویل میں ہونے کے باوجود اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے جا رہے ہیں۔
ہائیبرڈ نظام میں پنجاب پولیس کی صلاحتیں نکھر کر سامنے آئی ہیں پنجاب پولیس نے ثابت کیا ہے کہ اگر ان پر اعتماد کیا جائے انھیں فری ہینڈ دیا جائے تو وہ ہر ناممکن کو بھی ممکن بنا سکتی ہے پچھلے آڑھائی 3سال میں پنجاب پولیس کی کارکردگی شاندار رہی ہے انھیں جو بھی ٹارگٹ سونپے گئے ان کے نتائج توقع سے بھی زیادہ اچھے موصول ہوئے پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور آدھے سے زیادہ پاکستان ہے 12 سے 13 کروڑ افراد پنجاب میں بستے ہیں اگر پنجاب کنٹرول میں رہے تو پھر ست اے خیراں نیں سیاسی حالات کنٹرول کرنا پنجاب پولیس کے لیے سب سے بڑا چیلنج تھا پنجاب پولیس نے نہ صرف سیاسی حالات کنٹرول کیے بلکہ پنجاب بھر میں احتجاج کو بھی کنٹرول کیا آج صورتحال ایسی ہے کہ پنجاب میں پولیس کی اجازت کے بغیر چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی۔
اگر یہ کہا جائے کہ حکمرانوں کے پائوں اٹکانے میں بنیادی ماحول اور کردار پنجاب پولیس کے مرہون منت ہے تو بے جا نہ ہو گا احتجاجی سیاست پر کنٹرول کے بعد انتخابات میں بھی آئیڈیل سیچوشن بنائے رکھنے اور مطلوبہ نتائج پر عملدرآمد کروانے اور اراکین اسمبلی کی بادشاہت قائم ودائم رکھنے کا کریڈٹ بھی ہماری بہادر اور شیر جوان پولیس کو ہی جاتا ہے ۔
جہاں آبادی زیادہ ہو گی ناہموار معاشی حالات ہوں گے وہاں جرائم کی شرح میں بھی اضافہ ہو گا اور جرائم کو کنٹرول کرنا بھی بہت مشکل ہوتا ہے لیکن یہ کارنامہ بھی پولیس نے کر دکھایا اور اس کا ایسا حل نکالا کہ بڑے بڑے سائنسدان ماہر بھی حیران ہیں خاص کر شتر بے مہار معاشرے میں خواتین اور بچیوں سے چھیڑخانی اور زیادتی کے واقعات ناقابل برداشت حد تک بڑھ چکے تھے اس کے علاوہ قتل اغوا ریپ اور سنگین جرائم آوٹ آف کنٹرول ہوتے جا رہے تھے پولیس نے اس کا ایسا شاہکار حل نکالا ہے کہ سب انگلیاں دانتوں میں دبائے بیٹھے ہیں ۔
پولیس نے خواتین اور بچیوں سے چھیڑخانی کرنے والوں سے نمٹنے کیلئے نیفہ جسٹس متعارف کروایا جس میں ہر چھیڑنے والے کے نیفے میں اسلحہ ضرور ہوتا ہے اور وہ پکڑے جانے پر اتنا خوفزدہ ہوتا ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی اسلحہ نکالتے ہوئے اس کے ہاتھ کپکپا جاتے ہیں اور اسلحہ نیفے میں ہی چل جاتا ہے اور وہ اپنی مردانہ صلاحیتوں سے محروم ہو جاتا ہے۔
اب تو ایسے لوگ رضاکارانہ طور پر اپنے ویڈیو بیان بھی ریکارڈ کروا رہے ہیں جس میں وہ اقرار جرم بھی کرتے ہیں اپنے ہاتھوں سے اپنے انجام کی داستان بھی سناتے ہیں تاکہ لوگ عبرت پکڑیں دلچسپ امر یہ ہے کہ ایسے لوگوں کی تعداد اب درجنوں میں ہے لیکن ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا ایکسپرٹ نہیں تھا جو اپنی حفاظت کے لیے نیفے میں لگایا گیا اسلحہ بروقت احتیاط کے ساتھ نکال پاتا اور پولیس کو ٹارگٹ کر سکتا ان میں کئی ایسے بھی تھے جن کے پاس روٹی کھانے کے بھی پیسے نہ تھے لیکن انھوں نے اپنے نیفے میں پستول ضرور لگایا ہوتا تھا ۔



