کوئٹہ، راولپنڈی، اسلام آباد ( ویب ڈیسک ) بلوچستان کے ضلع بارکھان میں آپریشن کے دوران کالعدم فتنہ الہندوستان تنظیم کے7دہشتگرد ہلاک جبکہ میجر سمیت5اہلکار شہید ہو گئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ ( آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ 13مئی 2026ء کو پاک فوج اور فرنٹیئر کور بلوچستان کے دستوں نے ضلع بارکھان کے علاقے نوشم میں شدت پسندوں کے سرچ اینڈ سینیٹائزیشن آپریشن کیا۔
بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ایک گروہ کا سراغ لگا کر انہیں نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے تبادلے میں7دہشتگرد ہلاک ہوئے۔ کارروائی کے دوران دہشتگردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں تصدیق کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ شہید ہونے والے اہلکاروں میں میجر توصیف احمد بھٹی، لائنس نائک فدا حسین، سپاہی ذاکر حسین، سپاہی سہیل احمد اور سپاہی محمد ایاز شامل ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں موجود مزید ممکنہ دہشتگردوں کے خاتمے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن بدستور جاری ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’’ عزمِ استحکام‘‘ کے تحت ملک سے ہر قسم کی دہشتگردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا اور بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔ دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے شہید ہونے والے میجر توصیف احمد اور جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ میجر توصیف احمد اور جوانوں نے شدت پسندوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا۔
جبکہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ دہشتگروں کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے اپنی جانیں دینے والے پوری قوم کا فخر ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہشدت پسند اور ان کے سہولت کار کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
ریاست دشمن قوتوں کے مذموم عزائم ہر صورت ناکام بنائیں گے۔ واضح رہے کہ بارکھان صوبہ بلوچستان کا صوبہ پنجاب سے متصل سرحدی ضلع ہے جبکہ اس کی سرحدیں بلوچستان کے اضلاع ڈیرہ بگٹی اور موسیٰ خیل سے بھی لگتی ہیں۔ بی بی سی کے مطابق میڈیا کو جاری کئے جانے والے ایک بیان میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔



