انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

ایران ،امریکہ مذاکرات تیز:فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران،وزاعظم شہبازشریف سعودی عرب پہنچ گئے

راولپنڈی، تہران، واشنگٹن ،جدہ، اسلام آباد( ویب ڈیسک ) ایران، امریکہ مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں اگلے ہفتے کے اختتام میں ہونے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں کو تیاریوں کی ہدایت جاری کردی گئی ہیں۔
امریکی وفد کی نمائندگی نائب صدر جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کریں گے، جبکہ ایران کی جانب سے سپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی وفد کی نمائندگی کریں گے۔ تاہم ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق مذاکرات کیلئے ابھی تک کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی۔ دوسری جانب پاکستان نے ایران، امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے ہیں، اہم دورے میں وزیر داخلہ محسن نقوی بھی فیلڈ مارشل کے ہمراہ ہیں، ایران کے اعلیٰ حکام نے فیلڈ مارشل اور وفد کے ارکان کا استقبال کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے سفارتی سرگرمیاں تیز ہو رہی ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس موقع پر خطے کی مجموعی صورتحال، کشیدگی میں کمی اور ممکنہ مذاکراتی عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔


عرب میڈیا کے مطابق پاکستان کے اعلیٰ سطح کے وفد کا پُرتپاک استقبال ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کیا۔ جبکہ ایرانی میڈیا کے مطابق پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد ایرانی حکومت کے اعلیٰ ترین حکام سے ملاقات کرے گا، جس میں مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاری کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ جبکہ ایران کی سرکاری خبر ایجنسیوں کے مطابق ایران نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ آئندہ دور کے مذاکرات کے بارے میں فیصلہ پاکستانی وفد سے ملاقات کے بعد کرے گا۔
پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے لبنان کے ساتھ جنگ بندی پر اتفاق کو ایران کے لیے آئندہ مذاکرات کے حوالے سے ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کو مذاکرات کے لیے معقول فریم ورک اپنانا ہوگا، زیادہ مطالبات کے ذریعے مذاکراتی عمل کو نہیں روکنا چاہیے اور جنگ بندی سے پہلے کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیے۔
تسنیم نے مزید کہا کہ امریکی میڈیا رپورٹس میں واشنگٹن کی مذاکرات شروع کرنے کی خواہش کا ذکر ہے، لیکن ایرانی وفد نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ کو منصفانہ اور معقول مذاکرات کے لیے ضروری اصولوں کی پابندی کرنی ہوگی۔ادھر وائٹ ہائوس کی ترجمان کیرولین لیویٹ کا کہنا ہے کہ جنگ بندی سے متعلق پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہیں، مذاکرات کا اگلا مرحلہ ممکنہ طور پر اسلام آباد میں ہوگا۔ کیرولین لیویٹ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت نتیجہ خیز اور جاری ہے۔
ترجمان نے کہا کہ ایران، امریکہ جنگ بندی سے متعلق پاکستان کی سنجیدہ کوششوں کو سراہتے ہیں، مذاکرات کا اگلا مرحلہ ممکنہ طور پر اسلام آباد میں ہوگا، ایران سے مذاکرات میں پاکستان واحد ثالث ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکہ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کی درخواست کی خبریں غلط ہیں۔ اس کے علاوہ ترجمان نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کی ناکا بندی مکمل طور پر نافذ کردی گئی ہے، ناکا بندی ایرانی بندرگاہوں سے روانہ ہونے والے تمام ممالک کے جہازوں کے خلاف کی گئی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ چینی صدر نے امریکی صدر ٹرمپ کو یقین دلایا کہ چین ایران کو ہتھیار فراہم نہیں کر رہا۔ مزید برآں امریکی جریدے نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور امریکہ جنگ بندی میں 2ہفتے کی توسیع پر غور کر رہے ہیں۔ امریکی جریدے کا کہنا ہے کہ جنگ بندی میں توسیع کا مقصد مذاکرات کیلئے مزید وقت حاصل کرنا ہے، ثالث ممالک مسائل کے حل کیلے تکنیکی بات چیت کرنے کی کوشش کر رہے۔ امریکی جریدے کے مطابق ان مسائل میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور ایران کی جوہری افزودگی شامل ہے۔
تکنیکی مذاکرات کامیاب ہوئے تو اگلے مرحلے کے مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ امریکی عہدے دار کا کہنا ہے کہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ جنگ بندی میں توسیع ہو گی اور امریکہ نے تاحال اس پر باضابطہ رضامندی ظاہر نہیں کی۔ دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے کی درخواست پر فوری ردعمل نہیں دیا۔ اس سے قبل امریکی نیوز ویب سائٹ کا کہنا تھا کہ امریکہ اور ایران جنگ کے خاتمے کے لیے فریم ورک معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔
دوسری طرف وزیر اعظم شہباز شریف جدہ پہنچ گئے۔ نائب گورنر مکہ ریجن شہزادہ سعود بن مشعال بن عبدالعزیز ، سعودی عرب کے پاکستان میں سفیر نواف بن سعید المالکی اور سعودی عرب میں پاکستانی سفیر احمد فاروق نے وزیر اعظم و پاکستانی وفد کا ایئرپورٹ پر پرتپاک استقبال کیا۔
وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق جدہ میں وزیر اعظم کی سعودی ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آلسعود سے دو طرفہ ملاقات ہوگی، جس میں پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دو طرفہ تعلقات کے مزید فروغ اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوگا۔ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، معاون خصوصی طارق فاطمی اور ترجمان برائے غیر ملکی میڈیا مشرف زیدی ہمراہ ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button