انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینعلاقائی خبریںکالم

بشریٰ تسکین۔۔۔۔ صحافت ، تماشہ یا قوم کو گمراہ کرنے کا نیا انداز؟

لاہور:(تجزیہ /سید عصمت شاہ)پاکستان میں صحافت ہمیشہ سچ کی تلاش کا نام رہی ہے، مگر بدقسمتی سے کچھ لوگ اس مقدس پیشے کو سنسنی خیزی، بے بنیاد قیاس آرائی اور بیرونی طاقتوں کے بیانیے کی تکمیل کا ذریعہ سمجھ بیٹھے ہیں، ان ناموں میں حالیہ برسوں میں جس شخصیت نے سب سے زیادہ تنازع کھڑا کیا، وہ ہے بشریٰ تسکین۔

بشریٰ تسکین کا مسئلہ یہ نہیں کہ وہ سوال اٹھاتی ہیں ،سوال تو صحافت کی بنیاد ہے ،مسئلہ یہ ہے کہ ان کا قلم سوال نہیں الزام تراشتا ہے، ان کی رپورٹنگ اکثر ایسی ہوتی ہے جیسے مقصد خبر دینا نہیں بلکہ خاص زاویہ مسلط کرنا ہو، وہ زاویہ جو پاکستان مخالف حلقوں کو تو خوش کرسکتا ہے، مگر ایک پاکستانی کے دل میں بے چینی پیدا کرتا ہے اب سوال یہ ہے کہ آخر وہ کس کو خوش کرنا چاہتی ہیں؟

پاکستان میں مذہب جذبات کا معاملہ ہے، مگر بشریٰ تسکین اسے اکثر ڈرامائی انداز میں پیش کرتی ہیں، ان کی تحریروں میں مذہبی حوالے موجود ہوتے ہیں، مگر انداز ایسا کہ قاری کو لگے جیسے یہ معاشرہ کسی تاریک دور کا اسیر ہے، یہی وہ طرزِ بیان ہے جو ناقدین کے مطابق غیر ملکی قارئین میں پاکستان کی مزید بگڑی ہوئی شبیہ پیدا کرتا ہے۔

دوسری جانب ہمارے قومی ہیروز خصوصاً وہ جنہوں نے ملک کے وقار اور دفاع کے لیے گراں قدر قربانیاں دیں، انتہائی احترام کے مستحق ہیں، وہ چاہے پاکستان کو ایٹمی طاقت دینے والے عبدالقدیرخان کی شکل میں ہوں یاپھر پاکستان کو واحد ون ڈے انٹرنیشنل ورلڈکپ جتوانے والے عمران خان کوتنقید اور ذاتی تشہیر میں وہ پیچھے نہیں رہیں۔

bushra taskeen-bushra bb

حالیہ دنوں میں سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی سے متعلق دی اکانومسٹ میں کالم لگوایا، اسی برطانوی ادارے میں 2012 میں بھی وہ ڈاکٹر عبدالقدیرخان کےخلاف دی اکانومسٹ میں کالم لکھ چکی ہیں، بشری تسکین کا عمومی رویہ ایسا ہے جیسے پاکستان کی ہر معتبر شخصیت کو شک کی نظر سے دیکھنا ان کا فرض ہے یہ انداز قوم کے اعتماد کو کمزور کرتا ہے۔ بشریٰ تسکین کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ وہ بارہا ایسے پلیٹ فارمز پر پاکستان کو ایسے زاویے سے پیش کرتی ہیں جو ہمارے دشمنوں کے ہاتھ مضبوط کرتے ہیں، ایک پاکستانی صحافی کے لیے یہ رویہ ناقابلِ قبول ہونا چاہیے۔

صحافت کا کام ریاستی غلطیوں کو بے نقاب کرنا ضرور ہے، مگر ملک کے تشخص کو برباد کرنا نہیں، بشریٰ تسکین نے ثابت کیا ہے کہ وہ قلم نہیں چلاتیں، وہ تاثر بناتی ہیں اور وہ تاثر اکثر پاکستان کے مفاد کے خلاف جاتا ہے، قوم کو ایسے صحافیوں سے سوال پوچھنے کا حق ہے آپ کس کی نمائندگی کر رہی ہیں پاکستان کی یا کسی بیرونی بیانیے کی؟

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button