انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

قطر کا اسرائیل کیخلاف عالمی عدالت سے رجوع کا اعلان

اسرائیلی حملہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار: اعلامیہ جی سی سی اجلاس

دوحہ،ابوظہبی ( ویب ڈیسک) قطر نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے دوحہ میں حماس رہنمائوں پر حملے کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) میں قانونی چارہ جوئی کرے گا۔ اس بات کا اعلان قطری وزیرِ مملکت برائے خارجہ امور ڈاکٹر محمد بن عبدالعزیز الخلیفہ نے اپنے ایک بیان میں کیا، وزیر خارجہ نے بتایا کہ ہیگ میں آئی سی سی کی ڈپٹی پراسیکیوٹر نزہت خان سے دو ملاقاتیں کی ہیں، جن میں اسرائیل کو قانونی طور پر کٹہرے میں لانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
قطر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر الخلیفہ نے کہا کہ قطر اپنی خودمختاری اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر دستیاب قانونی راستہ اختیار کرے گا۔
مجرموں کو سزا دلوانے اور عالمی قوانین کے تحت جوابدہ بنانے کے لیے عالمی انصاف کے در پر دستک دی ہے۔ادھر خلیج تعاون کونسل (GCC)کی مشترکہ دفاعی کونسل کے اجلاس کے مشترکہ اعلامیہ میں دوحہ پر اسرائیلی حملے کو بین الاقوامی قوانین اور عالمی ضوابط کی کھلی خلاف ورزی قرار دیدیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق اجلاس میں قطر پر اسرائیلی جارحیت پر تفصیلی غور کیا گیا۔ وزرائے دفاع اور اعلیٰ فوجی حکام نے اس حملے کو خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے مشترکہ ردعمل پر اتفاق کیا۔ اجلاس میں شریک وزرائے دفاع نے دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی اقدام صرف قطر ہی نہیں بلکہ پورے خطے کی سلامتی پر حملہ ہے، جسے کسی طور برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے بعد جاری کیے اعلامیہ میں گلف کوآپریشن کونسل نے قطر کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اس کی سلامتی اور خودمختاری کے خلاف کسی بھی اقدام پر کڑی تنقید کی۔ اعلامیہ کے اہم نکات کے مطابق خلیجی ممالک نے ایک دوسرے کے ساتھ دفاعی تعاون اور انٹیلی جنس شیئرنگ کو مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بیلسٹک میزائل دفاعی نظام کے لیے پیشگی وارننگ سسٹم کو تیز رفتاری سے نصب کرنے پر زور دیا گیا۔
آئندہ تین ماہ میں رکن ممالک کی فضائی افواج مشترکہ مشقیں کریں گی تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا فوری جواب دیا جا سکے۔ مشترکہ کمانڈ ڈھانچے کو اپ گریڈ کرنے اور نئے دفاعی منصوبے شامل کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔دوسری طرف متحدہ عرب امارات کا اسرائیل سے سفارتی تعلقات محدود کرنے پر غور شروع کر دیا۔ غیرملکی خبر رسا ں ادارے کے مطابق یو اے ای کی جانب سے اسرائیل سے سفیر کو واپس بلائے جانے کا امکان ہے، اسرائیل کے مغربی کنارے کے مجوزہ الحاق منصوبے پر یو اے ای نے تشویش کا اظہار کیا تھا۔
متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو خبردار کیا تھا کہ مقبوضہ مغربی کنارے کا الحاق سرخ لکیر ہوگا، جو ان معاہدوں کو سخت نقصان پہنچاءے گا، وہی معاہدے جن کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر آئے تھے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button