انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

امارات کورقوم کی واپسی،پاکستان نے بہترمالیاتی پوزیشن دکھادی

اسلام آباد:(ویب ڈیسک) پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو طویل مدتی غیر ملکی ڈپازٹ کی واپسی کر کے اپنی بہتر ہوتی ہوئی مالیاتی پوزیشن اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر میں استحکام کی علامت ہے بلکہ عالمی مالیاتی سطح پر پاکستان کے اعتماد میں اضافے کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے ڈپازٹ کی واپسی پاکستان کی مضبوط ہوتی ہوئی بیرونی لیکویڈیٹی اور پالیسی ساکھ کی عکاسی کرتی ہے۔جب ملک کے پاس ادائیگی کی مکمل صلاحیت موجود ہے تو اس عمل کو مالی دباؤ کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔ پاکستان اپنی معاشی استحکام کو متاثر کیے بغیر بیرونی ذمہ داریاں پوری کرنے کی پوزیشن میں ہے۔

پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان برادرانہ تعلقات مضبوط ہیں اور ان کی پاسداری میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔حالیہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2026 کے اختتام تک پاکستان کے مجموعی مائع زرمبادلہ ذخائر تقریباً 21.79 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جو ملک کی بیرونی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی صلاحیت کو مضبوط بناتے ہیں۔

یاد رہے کہ 2022 کے دوران پاکستان کو شدید ادائیگیوں کے توازن کے بحران اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کا سامنا رہا، جس کے باعث اسٹیٹ بینک کے ذخائر ایک موقع پر 7 ارب ڈالر سے بھی کم سطح تک گر گئے تھے۔بعد ازاں حکومتِ پاکستان اورسٹیٹ بینک نے بیرونی کھاتوں کے استحکام اور معاشی اصلاحات پر توجہ دی، جس میں عالمی مالیاتی اداروں خصوصاً آئی ایم ایف اور دوطرفہ شراکت داروں کے ساتھ تعاون شامل رہا۔ ان اقدامات کے نتیجے میں بیرونی مالیاتی ذخائر میں نمایاں بہتری آئی۔

جون 2025 کے اختتام تک اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر تقریباً 14.51 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جو جون 2024 کے تقریباً 9.39 ارب ڈالر کے مقابلے میں واضح اضافہ ہے۔ یہ بہتری بیرونی ترسیلات، پالیسی اقدامات اور مالیاتی نظم و ضبط کا نتیجہ قرار دی جا رہی ہے۔یہ مثبت رجحان 2026 میں بھی جاری رہا، اور زرمبادلہ کے ذخائر 2022 کے بعد کی بلند ترین سطحوں کے قریب پہنچ گئے ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد اور بیرونی استحکام میں اضافہ ظاہر ہوتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button